کیا مصنوعی ذہانت خواتین کے خلاف معاشرتی تعصبات کو ہوا دے رہی ہے؟
کیا مصنوعی ذہانت خواتین کے خلاف معاشرتی تعصبات کو ہوا دے رہی ہے؟
بدھ 24 جون 2026 17:18
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 133 مختلف اے آئی سسٹمز پر تحقیق کی گئی (فائل فوٹو: پکسابے)
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (یو این ویمن) نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے باوجود اس میں صنفی تعصب اور امتیازی رویے بدستور موجود ہیں، جس کے باعث خواتین کے بارے میں غلط اور فرسودہ تصورات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اربوں افراد ای میلز لکھنے، مہمات کی منصوبہ بندی، پریزنٹیشنز تیار کرنے اور دیگر روزمرہ کاموں کے لیے جنریٹو اے آئی استعمال کر رہے ہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کے ذریعے معاشرتی ناہمواریاں بھی تقویت پا رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 133 مختلف اے آئی سسٹمز پر کی گئی ایک تحقیق میں 44 فیصد نظاموں میں صنفی تعصب پایا گیا، جبکہ ایک چوتھائی سے زائد سسٹمز میں صنفی اور نسلی تعصب دونوں موجود تھے۔
متعدد بڑے لینگویج ماڈلز خواتین کو گھر، خاندان اور بچوں کی دیکھ بھال سے جوڑتے ہیں، جبکہ مردوں کو کاروبار، قیادت اور پیشہ ورانہ کامیابی سے منسلک کرتے ہیں۔
یو این ویمن کے مطابق بعض مواقع پر اے آئی سسٹمز نے خواتین کو جنسی شے یا مردوں کے تابع کردار کے طور پر بھی پیش کیا۔ محققین کی جانب سے کیے گئے تجربات میں تقریباً ہر پانچ میں سے ایک جواب میں خواتین کے خلاف تعصب یا نفرت انگیز رویے کے آثار پائے گئے، جبکہ بعض جوابات میں خواتین کو محض ’ملکیت‘ یا ’شے‘ کے طور پر بیان کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی سربراہ جیاتھما وکرامانائیکے کا کہنا ہے کہ ’یہ نتائج کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ نہیں بلکہ ان اعداد و شمار اور مواد کا عکس ہیں جن پر اے آئی کو تربیت دی گئی ہے۔‘
ان کے مطابق ’دہائیوں پر محیط معاشرتی تعصبات اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے دوبارہ پیدا ہو رہے ہیں۔‘
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ’دنیا کے 138 ممالک میں سے صرف 24 نے اپنی قومی اے آئی حکمت عملیوں میں صنفی مساوات کا ذکر کیا، جبکہ صرف 18 ممالک نے اس حوالے سے واضح اور مؤثر اقدامات شامل کیے۔
یو این ویمن نے خبردار کیا ہے کہ خواتین اور لڑکیاں پہلے ہی آن لائن ہراسگی اور تشدد کا زیادہ شکار ہیں، جبکہ اے آئی نے جعلی تصاویر، ڈیپ فیک ویڈیوز اور دیگر نقصان دہ مواد کی تیاری کو مزید آسان بنا دیا ہے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خواتین کی نمائندگی بھی محدود ہے (فائل فوٹو: پکسابے)
سروے کے مطابق تقریباً ہر چار میں سے ایک خاتون انسانی حقوق کارکن، صحافی یا سماجی کارکن نے اے آئی کی مدد سے ہونے والے آن لائن تشدد کا سامنا کرنے کی اطلاع دی۔
دوسری جانب عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خواتین کی نمائندگی بھی محدود ہے۔ آئی ایل او کے مطابق عالمی اے آئی ورک فورس میں خواتین کا حصہ صرف 30 فیصد ہے، جس سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل کی یہ ٹیکنالوجی خواتین کے تجربات اور ضروریات کو مکمل طور پر مدنظر رکھے بغیر تیار کی جا رہی ہے۔
یو این ویمن کا کہنا ہے کہ ’اگر خواتین اور دیگر کم نمائندگی رکھنے والے طبقات کو اے آئی کی ترقی اور پالیسی سازی میں شامل نہ کیا گیا تو موجودہ تعصبات مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں مزید گہرائی سے سرایت کر جائیں گے۔‘
ادارے نے حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیاری، استعمال اور نگرانی کے ہر مرحلے میں صنفی مساوات کو یقینی بنایا جائے تاکہ اے آئی ماضی کی ناہمواریوں کو دہرانے کے بجائے زیادہ منصفانہ اور جامع مستقبل کی تعمیر میں کردار ادا کر سکے۔