یوٹیوب کا نیا اے آئی فیچر، اب ہوم فیڈ کو اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دینا ممکن
یوٹیوب کا نیا اے آئی فیچر، اب ہوم فیڈ کو اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دینا ممکن
ہفتہ 30 مئی 2026 10:21
یہ فیچر امریکہ میں اُن صارفین کے لیے جاری کیا جا رہا ہے جو یوٹیوب موبائل یا ڈیسک ٹاپ ایپ پر لاگ اِن ہیں (فوٹو: نیوز بائٹس ایپ)
آپ ہر بار جب یوٹیوب میں لاگ اِن کرتے ہیں تو کیا ایک ہی طرح کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر اُکتا جاتے ہیں؟ یہ ویڈیو سٹریمنگ پلیٹ فارم اب ایک نیا طریقہ لا رہا ہے جس کے ذریعے آپ مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنی ہوم فیڈ کو بدل کر زیادہ ذاتی نوعیت کا بنا سکیں گے۔
امریکی میڈیا ویب سائٹ سی نیٹ کے مطابق یوٹیوب ایک ایسا نیا فیچر متعارف کرا رہا ہے جس میں آپ اپنی دلچسپیوں کو واضح کرتے ہوئے ایک پرامپٹ دے کر اپنی مرضی کی فیڈ بنا سکتے ہیں۔
یوٹیوب نے مثال کے طور پر کام کے بعد ذہنی سکون کے لیے 10 منٹ کی رہنمائی والی مراقبہ ویڈیوز، یا پھر اپنی معمول کی دلچسپیوں سے ہٹ کر کچھ نیا دیکھنے جیسے پرامپٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
آپ اس پرامپٹ کو پن کر کے ہوم پیج کے اوپر محفوظ بھی کر سکتے ہیں تاکہ انہیں دوبارہ آسانی سے استعمال کیا جا سکے۔ یہ مصنوعی ذہانت پر مبنی حسبِ ضرورت فیڈ فیچر اس وقت امریکہ میں اُن صارفین کے لیے جاری کیا جا رہا ہے جو یوٹیوب موبائل یا ڈیسک ٹاپ ایپ پر لاگ اِن ہیں۔
یوٹیوب کا نیا فیچر کیسے کام کرتا ہے؟
یہ فیچر اس طرح کام کرتا ہے کہ آپ ہوم پیج پر موجود ’آپ کی حسبِ ضرورت فیڈ‘ والے آپشن پر کلک کریں گے اور پھر ایک ایسا پرامپٹ لکھیں گے جس میں آپ بتائیں گے کہ آپ کس قسم کی ویڈیوز دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ یوٹیوب کی دی گئی تجاویز میں سے بھی انتخاب کر سکتے ہیں۔
یوٹیوب کے مطابق آپ اپنے پرامپٹ کو کسی بھی وقت تبدیل کر سکتے ہیں، لیکن ہر اکاؤنٹ میں صرف ایک ہی حسبِ ضرورت فیڈ بنائی جا سکتی ہے۔
یوٹیوب کے ایک نمائندے نے سی نیٹ کو ای میل میں بتایا کہ یہ حسبِ ضرورت فیڈ اُن موضوعات یا تھیمز کے مطابق سب سے زیادہ متعلقہ ویڈیوز دکھائے گی جو صارف نے خود منتخب کیے ہوں گے، اور اگر یہ پرامپٹ کچھ ہفتوں تک استعمال نہ کیا گیا تو یہ ختم بھی ہو سکتا ہے۔
یہ فیچر استعمال کرنے کے لیے صارف کو اپنی اکاؤنٹ سیٹنگز میں اپنی سرچ اور واچ ہسٹری کو آن رکھنا ہوگا (فوٹو: فوربز)
نمائندے کے مطابق ہر اکاؤنٹ میں صرف ایک ہی حسبِ ضرورت فیڈ ہوگی، اور یہ ویب اور موبائل دونوں پر امریکہ میں دستیاب ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ فیچر کب جاری کیا جائے گا یا دنیا کے دوسرے ممالک یا ٹی وی ایپس پر آئے گا یا نہیں۔
اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے آپ کو اپنی اکاؤنٹ سیٹنگز میں جا کر اپنی سرچ اور واچ ہسٹری کو آن رکھنا ہوگا۔ گوگل نے مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی کو مسئلہ درپیش ہو تو وہ ہیلپ سینٹر سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔ یوٹیوب نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ اس فیڈ کو بنانے کے لیے کون سا ڈیٹا استعمال ہوگا یا اسے محفوظ رکھا جائے گا یا نہیں۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ فیچر یوٹیوب کے ان کئی نئی اپ ڈیٹس میں سے ایک ہے جن میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی خودکار شناخت اور واضح لیبلنگ بھی شامل ہے۔ اسی طرح گوگل کا ’Ask Youtube ‘نامی فیچر بھی دیا گیا ہے جو ویڈیوز کے اندر اس حصے کو تلاش کرے گا جو آپ کے سوال کا براہِ راست جواب دیتا ہے۔
کانٹینٹ کری ایٹرز کے لیے چیلنج
اصل سوال یہ ہے کہ یوٹیوب کا یہ نیا فیچر کانٹینٹ کری ایٹرز پر کیا اثر ڈالے گا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ٹول پرامپٹ کو کیسے سمجھے گا، کیا یہ آپ کی واچ ہسٹری پر مبنی ہوگا یا صرف الفاظ پر؟ کیا یہ زیادہ مقبول ویڈیوز کو ترجیح دے گا؟ یا نئے تخلیق کاروں کو بھی نمایاں کرے گا؟
مصنوعی ذہانت اب تیزی سے تلاش کے نتائج میں شامل ہو رہی ہے، اور اس کے باعث اکثر پبلشرز اور کانٹینٹ کری ایٹرز کی ٹریفک میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ممکن ہے یوٹیوب پر بھی ایسا ہی اثر دیکھنے کو ملے۔