Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ڈیڈ لاک برقرار: راولاکوٹ میں دھرنے اور قومی اسمبلی میں بحث

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ 18 روز سے جاری شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال نے جہاں مقامی زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے، وہیں اب اس سیاسی و انتظامی تناؤ کی گونج اسلام آباد میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی شدت سے سنائی دے رہی ہے۔
ایک طرف کشمیر کا شہر راولاکوٹ اور اس کے اطراف دھرنوں اور کرفیو کی زد میں ہیں تو دوسری طرف ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما اس بحران پر آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی وزرا کے بیانات کو ’جلتی پر تیل‘ قرار دیا ہے، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ مظاہرین کے نئے مطالبات تحریکِ آزادیِ کشمیر کے بنیادی بیانیے کے منافی ہیں۔
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر شروع ہونے والی یہ ہڑتال اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ راولاکوٹ شہر کے اطراف چار سے پانچ مقامات پر مظاہرین تاحال دھرنے دیے بیٹھے ہیں جبکہ شہر میں انتظامیہ کی جانب سے کرفیو نافذ ہے۔
آج یعنی 24 جون پر راولاکوٹ دھرنے میں موجود کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔
اس اعلان میں یہ واضح ہو گا کہ آیا مظاہرین دارالحکومت مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کریں گے یا مذاکرات کا کوئی راستہ نکلے گا۔
انتظامیہ کی جانب سے منگل کو چیف سیکریٹری خوشحال خان اور آئی جی کشمیر پولیس نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ تاہم چیف سیکریٹری نے واضح کیا کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں، ان کے ساتھ قانون کے مطابق ہی معاملہ کیا جائے گا۔
وہ ابھی تک کابینہ میں کیوں ہیں؟‘ بلاول بھٹو کا خواجہ آصف پر وار
کشمیر کے اس بحران نے پاکستان کی وفاقی سیاست میں اس وقت ہلچل مچا دی جب قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کو قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزرا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
بلاول بھٹو زرداری نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس حالیہ ٹی وی انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’میں راولاکوٹ اور دھیرکوٹ والوں کو کچھ زیادہ کشمیری نہیں مانتا بھی نہیں ہوں۔
اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایوان میں سوال اٹھایا ’جو وزیر یہ کہے کہ راولاکوٹ کے لوگ کشمیری نہیں ہیں اور پھر اس بات سے پیچھے نہ ہٹے اور معذرت نہ کرے، وہ ابھی تک کابینہ میں کیوں ہے؟ ساری پاکستانی قوم یہ سوال کرے۔ ہم یہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟’
12 مہاجرین نشستوں کا تنازع
صرف خواجہ آصف ہی نہیں بلکہ وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثناء اللہ بھی بلاول بھٹو کے نشانے پر آئے۔ چند روز قبل رانا ثناء اللہ کی مسلم لیگ ن کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کے ساتھ ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے حوالے سے پراعتماد انداز میں گفتگو کر رہے تھے۔
بلاول بھٹو نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جب آگ بجھانے کی ضرورت ہو تو یہ جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں، کشمیر میں یہ حالات ایسے ہی بیانات سے پیدا ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پیش کی گئی ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا جائے تاکہ مظاہرین کو انگیج کر کے کوئی حل نکالا جا سکے۔
بلاول بھٹو کی تنقید کے بعد وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے قومی اسمبلی کے فلور پر حکومت کا تفصیلی موقف پیش کیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے اب مزید 8 نئے مطالبات سامنے رکھ دیے ہیں، جبکہ حکومت پہلے ہی ان کے 38 مطالبات کا حساب دے چکی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مظاہرین کا ایک مطالبہ یہ ہے کہ آئندہ انتخابات کے نامزدگی کاغذات کے حلف نامے سے الحاق پاکستان سے متعلق فقرہ حذف کیا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ اس فقرے کو حذف کیا جائے۔ ان کا یہ طریقہ کار تحریکِ آزادیِ کشمیر کے بالکل منافی ہے۔ انہیں سب سے پہلے اپنے اس موقف سے پیچھے ہٹنا ہو گا، اور لانگ مارچ یا لشکر کشی کے ارادے ترک کر کے وزیر اعظم پاکستان یا وزیر اعظم آزاد کشمیر سے بات چیت کرنی ہو گی۔‘
طاقت کا استعمال حل نہیں: مولانا فضل الرحمان
بحران کے حل کے لیے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی قومی اسمبلی کے فلور پر اراکین کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کشمیری احتجاج پر ہیں اور ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں ایسی کوئی چیز نہیں جس پر بات نہ ہوسکے۔
مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کی پیشکش کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے باضابطہ طور پر مجھے خط بھیجا ہے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔ میں یہ کردار اکیلا ادا نہیں کرسکتا لیکن میں نے ان کو مثبت جواب دیا ہے۔‘
’جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کرنا تھا جو انہوں نے فی الحال ملتوی کیا ہے۔ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں اپنا کردار ادا کروں گا اور اس حوالے سے وزیر اعظم آفس کو بھی آگاہ کر دیا ہے، تاہم وہاں سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔‘
انہوں نے وفاقی وزرا کے بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کے اس تأثر کو مسترد کیا کہ حکومت تمام مطالبات پورے کر چکی ہے۔
مولانا  فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ایکشن کمیٹی کے مطابق حکومت نے تو تمام نوٹیفیکیشن ہی منسوخ کر دیے ہیں۔ مہاجرین کا معاملہ اس لیے متنازع ہوا کیونکہ آپ نے کہا کہ بارہ سیٹیں ہماری جیب میں ہیں۔‘
وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع کی حیثیت سے ان کا یہ کردار نہیں ہونا چاہیے تھا اور ’اگر خواجہ آصف کا یہی رویہ ہے تو میں کہہ دیتا ہوں کہ میں یہ مذاکرات نہیں کرسکتا۔‘
مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ طاقت کا استعمال حکومتوں کا رویہ نہیں ہوتا۔ ’کشمیر میں تشدد ہونے سے ہم اپنے بیانیے کو خود دفن کر دیں گے۔ ماضی میں ہم انڈیا کے خلاف قراردادیں پیش کرتے تھے لیکن آج ان اقدامات کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے اور انڈیا ہمارے خلاف قراردادیں پیش کر رہا ہے۔ اگر حکومت کی طرف سے مثبت گفتگو ہوتی ہے تو یہ سنگین مسئلہ حل ہونے کی طرف جا سکتا ہے۔‘

شیئر: