مارکو روبیو کی امیرِ کویت سے ملاقات، امریکی سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا گیا
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے خلیجی ممالک کے اپنے دورے کے دوسرے روز بدھ کو امیرِ کویت مشعل الاحمد الجابر الصباح سے ملاقات اور بات چیت کی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ملاقات مارکو روبیو کی جانب سے کویت میں امریکی سفارت خانے میں پرچم کشائی کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد ہوئی جس نے بدھ کے روز سے اپنے کام کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تنازع کے دوران ایران کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے بعد سفارت خانے نے رواں سال مارچ میں اپنی خدمات معطل کر دی تھیں۔
مارکو روبیو اس وقت خلیج کے تین ملکی دورے پر ہیں جس کا آغاز منگل کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے ہوا تھا۔
گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے پر دستخط کے بعد کسی بھی اعلیٰ امریکی عہدیدار کا خطے کا یہ پہلا دورہ ہے۔ وہ ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کے بعد کویت پہنچے ہیں۔
امیرِ کویت سے ملاقات کے بعد مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ’کویت علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک ناگزیر شراکت دار ہے۔‘
امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ کویت میں سفارت خانہ فوری طور پر امریکی شہریوں کے لیے ہنگامی خدمات کا آغاز کر رہا ہے، جبکہ دیگر خدمات مرحلہ وار بحال کی جائیں گی۔
پرچم کشائی کی تقریب کے بعد مارکو روبیو نے کہا کہ ’امریکی پرچم جو کہ آزادی، اتحاد اور خودمختاری کی علامت ہے، اب ایک بار پھر کویت سٹی پر فخر سے لہرا رہا ہے۔‘
اس سے قبل ابوظبی میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے بتایا کہ مارکو روبیو نے شیخ محمد کے ساتھ ایران معاہدے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ٹومی پیگوٹ نے مزید کہا کہ روبیو نے ’متحدہ عرب امارات کی قیادت اور بے مثال تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا، ایران کے حملوں کے سامنے ان کی جرات اور لچک کی تعریف کی اور امارات کی سلامتی کے لیے امریکی عزم کا اعادہ کیا۔‘
امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ ہفتے دستخط کیے گئے ابتدائی معاہدے کے بعد اب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کئی اہم اور تاحال حل طلب معاملات پر بات چیت جاری ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والے اس تنازع کے دوران خلیجی ممالک کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کی شدید لہر کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک پر ہونے والے ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور توانائی و نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس کے علاوہ، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے فیصلے کے باعث خلیجی ممالک کی برآمدات بھی بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ اپنے اس دورے کا اختتام بحرین میں کریں گے جہاں وہ جمعرات کو خلیج تعاون کونسل کے ایک اہم اجلاس میں شرکت کریں گے۔
