Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس قبول نہیں کرے گا: مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل کے روز یو اے ای پہنچ گئے اور انہوں نے اعلان کیا کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز پر ٹول یا فیس لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق خلیجی ممالک کے دورے کے آغاز پر ابوظہبی میں اترنے کے بعد انہوں نے کہا ’یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر ٹول یا فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ موجودہ بین الاقوامی قانون ہے۔‘
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ اس خطے کے تمام ممالک ہمارے اس موقف سے اتفاق کریں گے۔‘
تہران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اس سے قبل اصرار کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے مواصلاتی ذرائع (کمیونیکیشن لائنز) قائم کرنے کے معاہدے کے باوجود یہ آبی گزرگاہ ’کبھی بھی‘ جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں جائے گی۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے گزشتہ ہفتے ہونے والے ابتدائی معاہدے پر دستخط کے بعد مارکو روبیو کا خلیج کا یہ دورہ کسی بھی اعلیٰ امریکی عہدیدار کا پہلا دورہ ہے۔
اس دورے میں کویت بھی شامل ہے، جس کے بعد وہ جمعرات کو بحرین جائیں گے جہاں وہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اپنے دورے کے دوران مارکو روبیو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمد و رفت کو یقینی بنانے اور خطے میں امن و استحکام کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
امریکی اور ایرانی صدور نے 17 جون کو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ اختتامِ ہفتہ پر سوئٹزرلینڈ میں ہوا، جو کہ پابندیوں میں نرمی اور تہران کے جوہری پروگرام کے مستقبل جیسے بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مدت کا حصہ ہے۔
خلیج میں مارکو روبیو کی آمد ایک ایسے دن ہوئی جب اس معاہدے کے حوالے سے شدید سفارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ہمراہ اہم ثالث کار ملک پاکستان کا دورہ کر رہے تھے۔
عمانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی اور قالیباف نے عمان میں سلطان ہیثم بن طارق سے بھی بات چیت کی جنہوں نے ’ایک پرامن اور حتمی تصفیے‘ کی امید ظاہر کی۔
اس تنازع سے خلیجی ممالک بری طرح متاثر ہوئے تھے جس کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بمباری کی کارروائی شروع کی تھی۔
جوابی کارروائی میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا اور خلیجی ریاستوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔

شیئر: