ٹرمپ انتظامیہ: ایران معاہدہ امریکی کسانوں کے لیے مالی فوائد لائے گا، ایران کی تردید
ٹرمپ انتظامیہ: ایران معاہدہ امریکی کسانوں کے لیے مالی فوائد لائے گا، ایران کی تردید
بدھ 24 جون 2026 5:20
جے ڈی وینس اور ٹرمپ دونوں کا کہنا ہے کہ ایران کے منجمد فنڈز اور بیرونِ ملک موجود اثاثے امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال ہوں گے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والا عبوری معاہدہ امریکی کسانوں کے لیے مالی فوائد لے کر آئے گا۔
تاہم ایرانی حکام اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق معاہدے کی تفصیلات کی عدم موجودگی میں پابندیوں کے ماہرین بھی اس بات پر حیران ہیں کہ کئی ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے، جو برسوں سے امریکی پابندیوں کے باعث ’ایسکرو اکاؤنٹس‘ میں منجمد ہیں، آخر کس طرح امریکی زرعی شعبے تک پہنچیں گے۔
گزشتہ ہفتے طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، جہاں سے ایک وقت میں دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق ایران کو 60 روزہ مدت کے دوران آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ دونوں ممالک اہم معاملات پر مذاکرات جاری رکھیں گے۔ مفاہمتی یادداشت میں ایرانی اثاثوں کو جاری کرنے کا وعدہ بھی شامل ہے۔
صدر ٹرمپ کے اس معاہدے پر تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ اس میں ان وجوہات کا ذکر نہیں کیا گیا جنہیں صدر نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے لیے بنیاد بنایا تھا، جن میں تہران کے جوہری عزائم، میزائل پروگرام اور لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس جیسے مسلح گروہوں کی حمایت شامل تھی۔
منگل کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ناقدین کو جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کسانوں کو اس معاہدے سے بڑا فائدہ ہوگا۔ ان کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ ایرانی اثاثوں کو ’امریکہ کے زیرِ کنٹرول ایسکرو اکاؤنٹس‘ میں جاری کرے گا، اور یہ رقم صرف امریکہ سے خوراک اور طبی سامان خریدنے کے لیے استعمال ہوگی، جن میں مکئی، گندم اور سویابین جیسی اجناس شامل ہوں گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ان اشیا کی شدید ضرورت ہے۔
جے ڈی وینس، جنہوں نے سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد اس تجویز پر بات کی، اور ٹرمپ دونوں کا کہنا ہے کہ ایران کے منجمد فنڈز اور بیرونِ ملک موجود اثاثے امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال ہوں گے۔
لیکن ایرانی حکام کہتے ہیں کہ یہ معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ زرعی مصنوعات کی کوئی بھی خریداری ’قیمت اور معیار‘ کی بنیاد پر ہوگی، نہ کہ واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ شرائط کے مطابق۔
اسماعیل بقائی نے کہا، ’یہ دلچسپ بات ہے کہ جس جنگ کا مقصد ایرانی تہذیب کو تباہ کرنا اور ایران کو کمزور کرنا بتایا گیا تھا، اب اس کا مقصد امریکی کسانوں کو مالا مال کرنا بن گیا ہے۔‘
جنیوا میں ایران کے سفیر علی بحرینی نے بھی جے ڈی وینس کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ امریکہ اور قطر یہ طے کریں گے کہ ایران اپنے غیر منجمد فنڈز کیسے استعمال کرے گا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا، ’صرف ایران ہی فیصلہ کرے گا کہ ان اثاثوں کا کیا کرنا ہے۔‘
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے اس تضاد کو اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی رہنما اپنے ملکی عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ایسے بیانات دے رہے ہیں۔
انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سینئر رکن جوزف گلاوبر کے مطابق، ایران کے لیے خوراک کے شعبے میں اپنے موجودہ تجارتی شراکت داروں کو ترک کرنا ممکن نہیں لگتا۔
ماضی میں امریکی پابندیوں کے تحت یہ شرط رکھی جاتی رہی ہے کہ ایران سے درآمدات پر خرچ ہونے والی رقم ایسکرو اکاؤنٹس میں رکھی جائے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ ایران کے بڑے زرعی سپلائرز میں برازیل، انڈیا، ترکیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا اور ارجنٹینا شامل ہیں۔ ان کے مطابق اگر ٹرمپ ایران کو صرف امریکی مصنوعات خریدنے پر مجبور کرتے ہیں تو اس سے ’ہمارے بعض تجارتی حریفوں میں ناراضی پیدا ہوگی۔‘
ماضی میں امریکی پابندیوں کے تحت یہ شرط رکھی جاتی رہی ہے کہ ایران سے درآمدات پر خرچ ہونے والی رقم، جیسے جنوبی کوریا کی ایرانی تیل خریداری یا عراق کی ایرانی بجلی کی خریداری، ایسکرو اکاؤنٹس میں رکھی جائے۔ یہ رقم عموماً اسی وقت جاری کی جاتی ہے جب امریکی محکمہ خزانہ منظوری دے اور یہ ثابت ہو کہ رقم خوراک یا ادویات جیسی ’غیر پابندی شدہ‘ اشیا پر خرچ ہوگی۔
پیر کے روز امریکی محکمہ خزانہ نے 21 اگست تک ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی منظوری دی، تاہم اس اعلان میں ایسکرو اکاؤنٹس کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز سے وابستہ رچرڈ گولڈ برگ، جنہوں نے ٹرمپ کی پہلی حکومت میں ایران پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوششوں میں کردار ادا کیا تھا، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وہ اس وضاحت کا خیرمقدم کریں گے کہ ’کیا واقعی ایران کو صرف امریکی زرعی مصنوعات خریدنے تک محدود کیا جا رہا ہے۔‘
کولمبیا یونیورسٹی کے سینٹر آن گلوبل انرجی پالیسی کے سینئر محقق رچرڈ نیفیو نے کہا کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ نیا امریکہ-ایران معاہدہ منجمد ایرانی اثاثوں کے اجراء کے حوالے سے عملی طور پر کیا معنی رکھتا ہے۔
اس سوال پر کہ کیا امریکہ ایران کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ یہ اثاثے صرف امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کرے، نیفیو نے جواب دیا کہ ’ہم کوشش تو کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے، جو اوباما اور بائیڈن انتظامیہ میں ایران پر پابندیوں کے ڈیزائن میں شامل رہے، ای میل کے ذریعے دیے گئے جواب میں کہا کہ اس کے لیے صرف یہ کرنا ہوگا کہ کسی غیر ملکی بینک کو بتایا جائے کہ وہ رقم منتقل کر سکتا ہے، لیکن صرف کسی امریکی بینک کو تاکہ سویابین یا دیگر زرعی اجناس خریدی جا سکیں۔
ان کے مطابق بینکوں پر اس کی پابندی لازم نہیں ہوگی۔ اگر وہ انکار کریں تو امریکہ ان پر بھی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ عام طور پر اس انداز میں کام نہیں کرتا کیونکہ ’ہم عموماً یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ ہم قومی سلامتی کے معاملات کو مالی فائدہ حاصل کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘