Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اجازت کے بغیر نجی جائیداد پر کھمبا نہیں لگے گا‘: متنازع ٹیلی کام بل میں کیا تبدیلیاں کی جا رہی ہیں؟

پاکستان میں کوئی بھی ٹیلی کام یا انٹرنیٹ کمپنی شہریوں کی پیشگی رضامندی کے بغیر ان کی ذاتی جائیداد میں کھمبے یا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نصب کرنے کی مجاز نہیں ہوگی۔
یہ اہم پیش رفت حکومت کی جانب سے قائم کردہ اس اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے جس نے ’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026‘ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات وزارتِ قانون و انصاف کو پیش کی ہیں۔
اس معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ قومی اسمبلی سے ’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026‘ کی حالیہ منظوری کے بعد اس کے خلاف عوامی اور قانونی حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا اور بل کی بعض شقوں کو نجی جائیداد کے تحفظ سے متعلق آئینی حقوق کے منافی قرار دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
ان اعتراضات کی بنیادی وجہ بل میں شامل وہ شقیں تھیں جن کے تحت ٹیلی کام اور انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو نیٹ ورک پھیلانے کے لیے ’رائٹ آف وے‘ کے نام پر وسیع اختیارات دیے گئے تھے۔
بل کے ابتدائی مسودے میں ایک ’اوور رائیڈنگ کلاز‘ شامل تھی، جس کے باعث یہ ابہام پیدا ہوا کہ کمپنیاں دیگر مروجہ قوانین کو پسِ پشت ڈال کر کسی بھی نجی یا سرکاری جگہ تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔
مزید برآں، بل کی شق 27 بی (1) کے تحت کمپنیوں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے یا اعتراض کرنے والے شہریوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز پر بھاری جرمانے تجویز کیے گئے تھے، جس سے شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔
میڈیا اور متعلقہ حلقوں میں اس معاملے کے نمایاں ہونے کے بعد، وزیراعظم نے صورتحال کا نوٹس لیا اور بل پر نظرثانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی، جس نے اب اس قانون کا از سر نو جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں۔

تنازعات کا حل اور جرمانوں کا خاتمہ: کمیٹی کی رپورٹ میں مزید کیا ہے؟

وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے ’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026‘ میں شامل رائٹ آف وے شقوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی عبوری رپورٹ وزارتِ قانون و انصاف کو پیش کی ہے۔

’نجی جائیداد میں مالک کی رضامندی اور باہمی معاہدہ ہی بنیادی شرط‘

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل رابطہ سہولت کو بہتر بنانا وقت کی ضرورت ہے، تاہم بل کی بعض شقوں میں ابہام دور کرنے کے لیے زبان کی وضاحت لازم ہے، جس کے تحت نجی جائیداد کے معاملے میں اب مالک کی رضامندی اور باہمی معاہدہ ہی بنیادی شرط ہوگی۔
کمیٹی کی سفارشات کے مطابق، کسی بھی نجی فرد یا قانونی ادارے کی زمین، عمارت یا اثاثے تک رسائی کے لیے مالک کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس قانون کا اطلاق سرکاری زمینوں اور عوامی اداروں کے ساتھ ساتھ منظم نجی رہائشی منصوبوں اور کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز پر بھی واضح طور پر کیا جائے، جبکہ کسی بھی سطح پر غلط فہمی سے بچنے کے لیے نجی زمین، کمپنیوں اور مشترکہ ملکیت کے انتظامات کی تعریفیں قانون میں صاف اور واضح شامل کی جائیں۔
اس کے علاوہ، زمین کے اوپر اور زیرِ زمین قائم کیے جانے والے ٹیلی کام ڈھانچے اور آلات کے معاملات میں واضح فرق رکھتے ہوئے دونوں کے لیے الگ طریقہ کار مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کمپنیوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز یا مالکان کے مابین تنازعات کے حل کے لیے ایک مربوط طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جائے گا جو 45 دن کے اندر اس کا فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ حکومت کی رہنمائی کے لیے پبلک انٹرسٹ اور قابلِ ادا معاوضے کے واضح اصول طے کیے جائیں، جبکہ حکومتی فیصلے سے متاثرہ شخص کو ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹربیونل سے رجوع کرنے کا مکمل حق حاصل ہوگا، جس کا فیصلہ حتمی تصور کیا جائے گا۔
مزید برآں، شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بل میں شامل ’اوور رائیڈنگ کلاز‘ اور سیکشن 27 بی ون کے تحت تجویز کردہ جرمانے کی رقم کا بھی دوبارہ جائزہ لینے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ اسے قانون کے مجموعی مقصد سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق، کمیٹی نے ان  اصولوں اور ضروری ترامیم پر اتفاق کر لیا ہے اور اب ان سفارشات کی روشنی میں ترمیمی بل کا نیا مسودہ ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دے کر مزید ہدایات کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔
وزارت نے اپنے موقف میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ حکومت آئی ٹی کے شعبے کی ترقی ضرور چاہتی ہے مگر شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق، حقِ اعتراض اور معاوضے کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ رائٹ آف وے اصلاحات کا مقصد عوام کو تیز انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی کے حقِ ملکیت کو متاثر کرنا۔

ٹیلی کام بل 2026: قانون میں پہلے کیا تھا اور اب کیا تبدیل ہوگا؟

نجی جائیداد پر اختیار

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے بل کے مسودے میں ٹیلی کام کمپنیوں کو وسیع اختیارات حاصل تھے جس سے شہریوں کے حقِ ملکیت پر حرف آ رہا تھا۔
اب قانون میں تبدیلی کے بعد کسی بھی نجی جائیداد یا سوسائٹی میں کھمبے یا آلات لگانے کے لیے مالک کی پیشگی رضامندی اور باہمی معاہدہ لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

اعتراض پر جرمانے

پہلے بل کے سیکشن 27 بی (1) کے تحت کمپنیوں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے یا اعتراض کرنے والے شہریوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز پر بھاری جرمانے تجویز تھے۔ اب ان جرمانوں کا دوبارہ جائزہ لے کر انہیں منصفانہ بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو ہراساں نہ کیا جا سکے۔

دیگر قوانین کی حیثیت

پہلے بل میں ایک ’اوور رائیڈنگ کلاز‘ شامل تھی جو دیگر مروجہ قوانین کو معطل کر سکتی تھی۔ اب اس کلاز کو تبدیل یا واضح کیا جائے گا تاکہ شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق متاثر نہ ہوں اور قانون کا یکطرفہ استعمال روکا جا سکے۔

تعریف اور دائرہ کار

پہلے نجی جائیدادوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق شرائط مبہم تھیں۔ اب قانون میں نجی زمین، کمپنیوں اور کوآپریٹو سوسائٹیز کی واضح تعریفیں شامل کی جائیں گی اور زمین کے اوپر (کھمبے) اور زیرِ زمین (کیبلز) کے لیے الگ الگ طریقہ کار مقرر ہوگا۔

تنازعات کا حل

پہلے تنازع کی صورت میں شہریوں کے لیے داد رسی کا نظام واضح نہیں تھا۔ اب کسی بھی جھگڑے پر متعلقہ حکومت 45 دن میں فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی، اور متاثرہ شہری کو 'ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹربیونل' میں اپیل کا حتمی حق حاصل ہوگا۔

’ایسا لگتا ہے قانون سازوں کو دھوکے میں رکھا گیا

اردو نیوز نے اس معاملے پر مزید  گفتگو کے لیے ٹیلی کام سیکٹر کے ماہر روحان ذکی سے خصوصی گفتگو کی جنہوں نے حکومت کی جانب سے ایسے متنازع بل کو پاس کروانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے یہ لگ رہا ہے کہ شاید یہ بنیادی اور متنازع شقیں پڑھی ہی نہیں گئیں یا پھر اس معاملے پر قانون سازوں کو چکمہ دیا گیا ہے، کیونکہ کسی کی نجی پراپرٹی پر کسی نجی کمپنی کو اختیار دے دینا کسی طرح بھی قانونی عمل نہیں ہے۔‘
انہوں نے عالمی قوانین کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ ’دنیا بھر میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ اگر کسی علاقے سے کوئی شاہراہ گزرنی ہو اور پورا گاؤں اس کے لیے تیار ہو، مگر محض ایک فرد اپنی زمین دینے سے انکار کر دے، تو وہاں کی حکومتیں زبردستی اس کا حقِ ملکیت نہیں چھین سکتیں۔‘
روحان زکی کے مطابق پاکستان میں اس بل کو اس کی ابتدائی شکل میں لانا ہی ایک متنازع اقدام تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ “اب اگر حکومت عوامی تحفظات کے پیشِ نظر اس مسودے میں بنیادی تبدیلیاں کر رہی ہے، تو یقیناً یہ ایک خوش آئند اور درست سمت میں قدم ہے۔ 

شیئر: