ایران میں انتہائی سخت نگرانی اور تصدیقی نظام کی ضرورت: بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی
ایران سے افزودہ یورینیم پر ابھی ابتدائی بات چیت شروع کی ہے:رافیل گروسی
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق حالیہ جنگ کے بعد ایران میں انتہائی سخت نگرانی اور تصدیقی نظام کی ضرورت ہے تاکہ یقنی بنایا جا سکے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
اقوامِ متحدہ کی جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے جمعے کو جاپان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں حالیہ معاہدے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرے اور ایرانی حکومت پہلے واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔‘
خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک وسیع تر معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں، جس میں ایران کا جوہری پروگرام سب سے اہم اور متنازع معاملہ ہے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا کہ’لیکن صرف ارادے کافی نہیں ہوتے۔ ہمیں جلد از جلد ایک انتہائی مضبوط تصدیقی نظام قائم کرنا ہوگا۔"
گروسی کے مطابق، ایجنسی نے امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے بعد ایران سے اس کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے مستقبل کے بارے میں صرف ابتدائی بات چیت شروع کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ابتدائی گفتگو ہو چکی ہے، اور ہمیں توقع ہے کہ یہ عمل جلد تیز ہو جائے گا۔‘
جنگ سے قبل جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کے اندازے کے مطابق ایران کے پاس 440 کلوگرام یورینیم موجود تھا جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا تھا۔
یہ مقدار اور افزودگی کی سطح جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد کے کافی قریب ہے، جبکہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران کو صرف 3.67 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت تھی اور یہ معاہدہ غیر مؤثر ہو چکا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے جون 2025 میں حملوں کے بعد ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کر دیا تھا، اور اس کے بعد سے ایجنسی کے معائنہ کار اس افزودہ یورینیم کے ذخیرے تک رسائی حاصل نہیں کر سکے ہیں۔