’آرک آف ٹیسٹ‘: سعودی غذائی ورثے کے تحفظ کی جانب اہم قدم
طباخی آرٹس کمیشن نے 180 غذائی پروڈکٹس کو رجسٹر کیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے طباخی آرٹس کمیشن نے 180 ایسی غذائی پروڈکٹس کو رجسٹر کیا ہے جو مملکت کے 13 انتظامی علاقوں کی نمائندگی کرتی ہیں اور عالمی ’آرک آف ٹیسٹ‘ انیشیٹیو میں شامل ہیں جس کا مقصد قومی غذائی ورثے کو دستاویزی شکل میں لانا ہے۔
’آرک آف ٹیسٹ‘ ایک بین الاقوامی منصوبہ ہے جو اُن غذائی اشیا کو دستاویزی شکل دینے کے لیے وقف ہے، جو منظرِ عام سے ہٹتی جا رہی ہیں اور خطرہ ہے کہ مستقل بنیادوں پر نظروں سے اوجھل ہو جائیں گی۔
منصوبے کے تحت طرح طرح کی غذائی پروڈکٹس کو اجاگر کیا جائے گا، روایتی غذا پیدا کرنے والے افراد کو تعاون فراہم کیا جائے گا اور پیداوار کے پائیدار طریقوں کو فروغ دیا جائے گا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مملکت میں سنہ 2022 سے لے کر سنہ 2024 تک کے درمیانی عرصے میں تقریباً 120 پروڈکٹس کو رجسٹر کیا گیا۔ اِس برس فہرست میں 60 مزید غذائی اشیا کا اضافہ کیا گیا اور اب ایسی پروڈکٹس کی کُل تعداد 180 تک پہنچ چکی ہے۔
اِن غذائی اشیا کو 16 مختلف درجہ بندیوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں جانوروں کے گوشت سے بننے والی چیزیں، بیکری میں تیار کردہ اشیا، دودھ سے بننے والی غذائیں، مقامی کافی، شہد، مسالاجات اور روایتی سرکہ شامل ہے۔
طباخی کمیشن مملکت کے غذائی اور ثقافتی عناصر کے دستاویزی اندارج اور رجسٹریشن میں مسلسل تعاون کر رہا ہے اور مستقبل کی نسلوں کے لیے سعودی پکوانوں کے ورثے کو محفوظ بنا رہا ہے۔
