Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ذاتی مہریں‘ جو مکہ کی تجارتی میراث کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں

مکہ کے میوزیم میں 300 سے 400 کے قریب قدیم مہریں محفوظ ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
مکہ مکرمہ میں زمانہ قدیم سے دستاویزات کی تصدیق کے لیے ذاتی ’مہروں‘ کا رواج عام تھا۔ یہ نہ صرف ملکیت ثابت کرنے کا ذریعہ بلکہ اعتماد اور حقوق کے تحفظ کی علامت بھی تھیں۔
خاص طور پر ایک ایسے شہر میں جو حج و عمرہ سیزن سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں اور پورے عالم اسلام سے آنے والے عازمین کے خیر مقدم کے لیے معروف تھا۔
 مکہ، جو زمانہ قدیم میں تجارتی قافلوں کی ایک اہم منزل اور اقتصادی مرکز رہا ہے، خریداری کے معاہدوں، تجارتی شراکت داری، رسیدوں اور مالیاتی ریکارڈ کی توثیق کے لیے دستاویز پر مہر ثبت کرنا ضروری مانا جاتا تھا۔
ایس پی اے کے مطابق مکہ کے الجموم میوزیم میں قدیم اشیا کے ایک ماہر ماجد السھلی نے بتایا’عہدِ رفتہ میں مہرعام طور پر پیتل اور چاندی پر بنائی جاتی تھی جبکہ بعض لوگ عقیق یا دیگر قیمتی پتھروں کا بھی استعمال کیا کرتے تھے۔‘
 ’مہر پر مالک کا نام الٹا تحریر کیا جاتا تھا جب اسے سیاہی یا ’لاک‘ پر لگا کر کاغذ پر لگایا جاتا تو مہر پر کنندہ نام سیدھا چھپ جاتا، جس کاغذ یا دستاویز پر مہر ثبت ہوتی تھی وہ تصدیق شدہ اور قابل اعتبار سند کا درجہ رکھتی تھی۔‘

ماجد السھلی کے مطابق ’مہر کا استعمال مملکت کے مختلف ریجنز میں رائج تھا، تاہم گزشتہ صدی میں جب ربڑ، لکڑی اور پلاسٹک کی مہروں نے پرانی مہروں کی جگہ لی تو ان کا استعمال عام ہونے لگا۔‘
اس وقت مکہ مکرمہ کے میوزیم میں 300 سے 400 کے قریب قدیم مہریں محفوظ ہیں جو مختلف تاریخی ادوار کی نشاندہی کرتی ہیں۔
موجودہ دور میں الیکٹرانک دستخط اور ڈیجیٹل دستاویزات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باجود روایتی مہریں آج بھی تاریخی اور ثقافتی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ مکہ کی تجارتی و سماجی تاریخ کی ایک اہم یادگار سمجھی جاتی ہیں۔

 

شیئر: