نئی جھڑپیں، صدر ٹرمپ کی ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے حملے امریکی حملے کے جواب میں کیے (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’فوجی آپریشن مکمل کرنے‘ کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کو جنگ دوبارہ شروع کرنے پر مجبور کیا گیا تو ’اسلامی جمہوریہ باقی نہیں رہے گا۔‘
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر تازہ حملے کیے ہیں اور نازک جنگ بندی اور امن مذاکرات مزید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
اے پی کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی فوج نے سنیچر کو ایران پر فضائی حملے کیے اور اس دوران ایران کے اندر 10 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی بیسز کو نشانہ بنایا ہے اور صورت حال نے دونوں ممالک کے درمیان عبوری معاہدے کو خدشات کا شکار کر دیا ہے۔
اسی طرح اتوار کی صبح کو کویت پر ہونے والا حملہ اس معاہدے کے بعد ہونے والا پہلا حملہ تھا جس کا مقصد لڑائی کو بند کرنا تھا۔
یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں بنی ہے جب امریکہ افواج نے ایران کے متعدد فوجی اہداف پر حملے کیے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
صدر ٹرمپ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا کہ ’امریکی طیاروں نے جنگ بندی کے معاہدے کی دوبارہ خلاف ورزی کرنے پر ایران کے میزائل اور ڈرونز ذخیرہ کرنے والے مقامات اور ساحلی ریڈار کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب ہمارے لیے مزید تحمل سے کام لینا ممکن نہ رہے اور ہمیں وہ کام فوجی کارروائی کے ذریعے مکمل کرنا پڑے جس کا ہم نے کامیابی کے ساتھ آغاز کیا تھا، ایسا ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔‘
تازہ جھڑپوں نے تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے امن مذاکرات پر ایک بار پھر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جبکہ خلیجی ممالک میں امریکی بیسز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
یہ فوجی کشیدگی ایک ایسے نازک موڑ پر پیدا ہوئی ہے جب رواں ماہ جون کے وسط میں پاکستان کی ثالثی کے تحت دونوں ممالک کے مابین ایک اہم مفاہمت کی یادداشت طے پائی تھی جس کا مقصد خطے میں جاری جنگ کا پائیدار خاتمہ تھا۔
امریکہ اور ایران کے دستخط شدہ اس متن کے مطابق، دونوں ممالک اور ان کے اتحادیوں نے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کے جنگی یا فوجی آپریشن کی ابتدا نہ کرنے اور طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے گریز کرنے کا عہد کیا تھا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے اقدامات کیے گئے ہیں اور اب خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔
ایران نے جمعرات کو بھی واضح کیا تھا کہ اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے کوئی جہاز نہیں گزرے گا جس کے بعد عمان نے، جو ایران کے مقابل ساحل پر واقع ہے، ایک متبادل بحری راستے کی نشاندہی کی تھی۔
اس وقت ایران کی جانب سے جہازوں کو صرف اپنے ساحل کے ساتھ واقع کوریڈور سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
