Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نئی جھڑپیں، صدر ٹرمپ کی ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’فوجی آپریشن مکمل کرنے‘ کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کو جنگ دوبارہ شروع کرنے پر مجبور کیا گیا تو ’اسلامی جمہوریہ باقی نہیں رہے گا۔‘  
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر تازہ حملے کیے ہیں اور نازک جنگ بندی اور امن مذاکرات مزید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
امریکہ اور ایران نے سنیچر کو ایک دوسرے کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں کی تھیں اور  ایران کے پاسداران انقلاب نے خطے میں امریکہ کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور اس کو نئے امریکی حملے کا بدلہ قرار دیا۔
یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں بنی ہے جب امریکہ افواج نے ایران کے متعدد فوجی اہداف پر حملے کیے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
صدر ٹرمپ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا کہ ’امریکی طیاروں نے جنگ بندی کے معاہدے کی دوبارہ خلاف ورزی کرنے پر ایران کے میزائل اور ڈرونز ذخیرہ کرنے والے مقامات اور ساحلی ریڈار کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب ہمارے لیے مزید تحمل سے کام لینا ممکن نہ رہے اور ہمیں وہ کام فوجی کارروائی کے ذریعے مکمل کرنا پڑے جس کا ہم نے کامیابی کے ساتھ آغاز کیا تھا، ایسا ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔‘
تازہ جھڑپوں نے تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے امن مذاکرات پر ایک بار پھر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جبکہ خلیجی ممالک میں امریکی بیسز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

شیئر: