امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کے خلاف نئے حملے، نازک جنگ بندی اور آبنائے ہرمز پر مذاکرات خطرے میں
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد جنوبی ایران میں سرک میں ایک پروجیکٹائل حملہ کیا گیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ اور ایران نے سنیچر کو ایکدوسرے کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں کی ہیں، جس سے کشیدگی بڑھ گئی۔ ایک نازک جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کے حوالے سے جاری مذاکرات خطرے میں پڑ گئے۔
عرب نیوز کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے خطے میں امریکہ کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا جس کا جواز انہوں نے ایران کے خلاف نئے امریکی حملے کو قرار دیا۔
پاسداران انقلاب نے ان امریکی اہداف کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جنہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب میں بیان میں کہا تھا کہ ’ایران کا جواب تیز اور فیصلہ کن ہوگا اور ایسے مقام پر دیا جائے گا جس کا انتخاب خود ایران کرے گا۔‘
نئے حملوں کا تبادلہ اس وقت ہوا جب امریکی فوج نے جمعے کو ایرانی میزائل اور ڈرون سٹوریج سائٹس اور ساحلی راڈار کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ’ یہ حملے ایک دن قبل سنگا پور کے پرچم بردار کارگو بحری جہاز ایور لولی پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کیے گئے۔ یہ جہاز اقوام متحدہ کی سپورٹ والے عارضی شپنگ کوریڈور کے ذریعے آبنائے ہرمز سے باہر نکلا تھا۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر بیان میں کہا ’ایرانی فورسز کی جانب سے کمرشل شپنگ کے خلاف بلاجواز جارحیت نے جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔‘
’ایران کے خطرناک رویے نے نہ صرف میری ٹائم سکیورٹی کو نقصان پہنچایا بلکہ اس اہم بین الاقوامی تجارتی گزر گاہ فریڈم آف نیویگیشن کو بھی متاثر کیا ہے۔‘
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد جنوبی ایران میں سرک میں ایک پروجیکٹائل حملہ کیا گیا
صدر ٹرمپ نے اس سے قبل کارگو بحری جہاز پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ایرانی ڈرون نے جہاز کے ڈیک کو نشانہ بنایا جبکہ تین ڈرونز کو روک لیا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر اسے جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی قرار دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پوسٹ میں لکھا’ ایران نے آبنائے ہرمز کو عبور کرنے والے بحری جہازوں پر کم از کم چار ڈرون داغے۔ ان میں سے ایک بڑے اور مہنگے کارگو لے جانے والے جہاز کے اوپری ڈیک اسے ٹکرایا گیا، جس سے نقصان ہوا تاہم جہاز اپنے راستے پر سفر کرنے میں کامیاب رہا۔ ہم نے تین ڈرونز کو مار گرایا۔ ظاہر ہے یہ ہمارے جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے۔‘
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگائے جانے کے چند گھنٹے ہی امریکہ نے ایران میں اہداف پر فضائی حملے کرنے کا اعلان کیا۔
یاد رہے کہ تائیوان کی کمپنی ’ایورگرین میرین‘ نے بتایا تھا کہ اس کا سنگاپور کے پرچم بردار جہاز ’ایور لولی‘ جمعرات کو برطانوی بحریہ کی ایجنسی ’یو کے ایم ٹی او‘کے تجویز کردہ راستے پر سفر کے دوران عمان کے قریب کسی ’نامعلوم شے‘ کا شکار ہوا ہے۔
اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور جہاز نے بعد میں آبنائے سے باہر کا اپنا سفر دوبارہ شروع کر دیا۔
آبنائے ہرمز پر تنازع اور تازہ ترین تشدد ایک نازک لمحے پر ہوا ہے، جب واشنگٹن اور تہران گزشتہ ہفتے طے پانے والے ایک عبوری معاہدے کے تحت جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری طرف ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو کنٹرول کرنے کے اپنے حق کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے خلیجی ممالک کو امریکہ کا ساتھ دینے کے خلاف خبردار کیا تھا۔
تہران نے امریکہ اور چھ خلیجی ممالک کے اس مشترکہ بیان پر ردعمل ظاہر کیا جسے اس نے ’مداخلت پسندانہ، غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز‘ قرار دیا تھا۔ اس مشترکہ بیان میں ایران کے اس اصرار کو مسترد کیا گیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کر سکتا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’آبنائے ہرمز سے سفر کرنے والے ان جہازوں کے لیے محفوظ راستے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی جو ’مبہم انتظامات، متوازی راستوں یا ایران کو ساحلی ریاست کے طور پر نظر انداز کرتے ہوئے سفر کریں۔‘
