Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

راولپنڈی: اڈیالہ جیل کی قیدی وین سے حوالاتی فرار، ڈی ایس پی معطل، 5 اہلکار گرفتار

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 4 ملزمان کو دوبارہ گرفتار کر لیا تھا (فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے شہر راولپنڈی کی کہوٹہ کچہری سے اڈیالہ جیل منتقلی کے دوران چکیاں پوسٹ کے قریب قیدی وین سے حوالاتیوں کے فرار کے واقعے پر ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور 5 اہلکار بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔
پنجاب پولیس کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز کی معطلی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جبکہ راولپنڈی پولیس کے ایڈیشنل ایس پی ہیڈ کوارٹرز کا بھی تبادلہ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پیر کو کہوٹہ سے قیدیوں کے فرار کے واقعے پر آئی جی پنجاب نے سخت نوٹس لیتے ہوئے فرائض میں غفلت برتنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔
’تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا‘
قیدیوں کے فرار کے واقعے کے بعد راولپنڈی پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے قیدی وین کے ساتھ تعینات عملے کو حراست میں لیا ہے جس میں سب انسپکٹر امتیاز، ہیڈ کانسٹیبل یاسر، کانسٹیبل محرم اور کانسٹیبل عزیر سمیت 5 اہلکار شامل ہیں۔
پولیس حکام نے واقعے میں کسی بھی ممکنہ اندرونی ملی بھگت یا سہولت کاری کے عنصر کی تفتیش کے لیے زیر حراست اڈیالہ گارڈ کے اہلکاروں کے موبائل فونز قبضے میں لے لیے ہیں اور ان کے کال ڈیٹا ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ ملزمان کی عدالت میں پیشی کے دوران ان سے ملاقات کرنے والے افراد کی تفصیلات بھی پولیس نے حاصل کر لی ہیں تاکہ فرار کی منصوبہ بندی کا سراغ لگایا جا سکے۔
یہ واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟
یہ واقعہ 29 جون کی شام اس وقت پیش آیا جب کہوٹہ کچہری میں پیشی کے بعد حوالاتیوں کو قیدی وین کے ذریعے واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا جا رہا تھا۔

اس واقعے کی ایف آر میں کہا گیا ہے کہ ’اسلام آباد کے تھانہ سہالہ کی حدود میں کچہری سے قیدیوں کو واپس لے جانے والی جیل وین پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جہاں ملزمان نے پولیس پر مرچوں کا پاؤڈر پھینکا اور فائرنگ کر کے سنگین مقدمات کے قیدیوں کو چھڑانے کی کوشش کی۔‘
مقدمے کے متن کے مطابق ’حملے کے دوران پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی، ملزمان نے سرکاری گاڑی کے شیشے توڑے اور پولیس اہلکاروں سے مزاحمت کی، تاہم پولیس نے تالا لگا کر مزید قیدیوں کو فرار ہونے سے روکا۔‘
پولیس کے مطابق ’اس ہنگامہ آرائی اور خونی تصادم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قتل اور اقدامِ قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث 4 انتہائی خطرناک قیدی پولیس حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔‘
راولپنڈی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر کے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن اور چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن تاحال مفرور 10 ملزمان میں سے کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔

 

شیئر: