Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایپل کا انڈیا پر بڑھتا انحصار، ٹاٹا سے آئی فون 18 پرو سمیت کئی خفیہ راز کیسے لیک ہوئے؟

ایپل کمپنی کے خفیہ ڈیٹا میں آئی فون 18 پرو کے ڈیزائن، پرزہ جات اور سپلائرز کی فہرستیں بھی شامل ہیں۔ (فوٹو: میک رؤمرز)
امریکی کمپنی ایپل کے انڈین سپلائر ٹاٹا الیکٹرانکس سے چوری کیے گئے ڈیٹا میں ایپل کے آئندہ آئی فون 18 پرو ماڈلز کے پرزہ جات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی حساس فہرستیں اور ان کی تصاویر بھی شامل ہیں، جو رینسم ویئر گروپ نے ڈارک ویب پر شائع کر دی ہیں۔
روئٹرز کے مطابق یہ بات دستاویزات اور اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتائی ہے۔
یہ لیک ایپل کے آئی فون کی تیاری کے اس انتہائی حساس نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، جس میں دنیا بھر کے متعدد سپلائرز شامل ہیں۔ اس سے ایپل اور ٹاٹا الیکٹرانکس کے درمیان تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایپل اپنے سپلائرز سے متعلق معلومات کو انتہائی خفیہ رکھتا ہے۔
اس لیک کے نتیجے میں حریف کمپنیوں، جعلی مصنوعات بنانے والوں اور خود سپلائرز کو بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ کون سی کمپنی کون سا پرزہ فراہم کرتی ہے۔
ٹاٹا الیکٹرانکس نہ صرف ایپل کو پرزے فراہم کرتی ہے بلکہ کنٹریکٹ مینوفیکچرر کے طور پر آئی فون بھی اسمبل کرتی ہے۔ چین سے باہر ایپل کی پیداوار بڑھانے کی حکمت عملی میں ٹاٹا تیزی سے اہم کردار ادا کر رہی ہے، جو انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے انڈیا کو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بنانے کے منصوبے کا بھی اہم حصہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایپل رواں سال ستمبر میں آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس متعارف کرانے والا ہے۔ یہ لیک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایپل نے گزشتہ ہفتے میموری اور سٹوریج چپس کی بڑھتی قیمتوں کے باعث آئی پیڈ اور میک بک کی قیمتوں میں اضافہ کیا، جبکہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں آئی فون بھی مہنگا ہو سکتا ہے۔
روئٹرز پہلے ہی رپورٹ کر چکا ہے کہ ورلڈ لیکس نامی رینسم ویئر گروپ نے ٹاٹا الیکٹرانکس سے چرائی گئی دو لاکھ سے زائد فائلیں ڈارک ویب پر جاری کی تھیں، جن میں پرانے آئی فونز کے پرزوں کے ڈیزائن، ٹیسلا کے بعض حصوں، اور ٹاٹا کے دیگر کلائنٹس سے متعلق معلومات بھی شامل تھیں۔
A man walks past an Apple iPhone hoarding on a street in Mumbai
ایپل چین پر انحصار کم کر کے انڈیا میں اپنی اسمبلی لائن کو وسیع کر رہا ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)

ان دستاویزات میں تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (TSMC) اور کوالکوم سے متعلق معلومات بھی موجود تھیں، جو آئی فون میں استعمال ہونے والے چپس تیار کرتی ہیں۔
روئٹرز کی جانب سے دیکھی گئی نئی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم چھ فائلوں میں آئی فون 18 پرو کے متعدد پرزوں اور انہیں بنانے والی مخصوص کمپنیوں کی تفصیلات درج ہیں۔ ان میں مین سرکٹ بورڈ پر نصب چپس، بیٹری کے اجزا اور کیمروں سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایپل ان معلومات کو انتہائی حساس سمجھتا ہے اور اسے خدشہ ہے کہ چونکہ یہ غیر متعارف شدہ ماڈلز سے متعلق ہیں، اس لیے ان کا ڈارک ویب پر پھیلنا کمپنی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ان دستاویزات میں ہر پرزے کے ساتھ اس کے سپلائر کا نام درج ہے، جبکہ ایپل اپنی عوامی سپلائر فہرست میں ایسی تفصیلات ظاہر نہیں کرتا۔
مجموعی طور پر ان ریکارڈز میں آئی فون 18 پرو ماڈلز کے سینکڑوں پرزوں کی تفصیلات موجود ہیں۔
دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایپل کن پرزوں کے لیے متعدد سپلائرز پر انحصار کرتا ہے اور کن کے لیے صرف چند مخصوص کمپنیوں پر، جس سے نہ صرف کمپنی کی خریداری کی حکمت عملی بلکہ اس کی ممکنہ کمزوریاں بھی سامنے آ جاتی ہیں۔
ایپل اور ٹاٹا الیکٹرانکس دونوں نے روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ورلڈ لیکس اس سے قبل نائیکی کے سسٹمز میں دراندازی کی ذمہ داری بھی قبول کر چکا ہے۔ تاہم روئٹرز اس لیک ہونے والے ڈیٹا کی مکمل تصدیق نہیں کر سکا اور گروپ سے فوری طور پر رابطہ بھی ممکن نہیں ہو سکا۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ  ایپل انسائڈر نے گزشتہ ہفتے سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ٹاٹا الیکٹرانکس سے لیک ہونے والی فائلوں میں آئی فون 18 پرو سے متعلق دستاویزات بھی شامل ہیں۔
روئٹرز اس سے پہلے بھی رپورٹ کر چکا ہے کہ ایپل اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے اور ٹاٹا کے ساتھ مل کر طویل المدتی حفاظتی اقدامات پر کام کر رہا ہے۔ تحقیقات کے دوران ٹاٹا نے حساس سسٹمز تک اندرونی رسائی محدود کر دی ہے اور فرانزک آڈٹ کے لیے ایک عالمی کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کی ہیں۔

یہ سائبر حملہ ایپل اور ٹاٹا الیکٹرانکس کے درمیان اعتماد پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ڈراپ ٹیسٹ کی تصاویر بھی لیک
ذرائع کے مطابق لیک ہونے والی کئی فائلوں پر ایپل کی جانب سے 'خفیہ' کی مہر اور ایسے اندرونی کوڈ نیم موجود ہیں جو آئی فون 18 پرو سیریز سے مطابقت رکھتے ہیں۔
آئی فون 18 پرو سے متعلق فولڈر میں 2026 کے اوائل میں ٹاٹا کے ایک پلانٹ میں کیے گئے ڈراپ ٹیسٹ کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ ان تصاویر میں سرمئی رنگ کا روایتی ڈیزائن رکھنے والا آئی فون دکھایا گیا ہے، جس کے عقب میں تین کیمرے اور ایپل کا لوگو موجود ہے۔
اگرچہ رائٹرز آزادانہ طور پر فون کے ماڈل نمبر کی تصدیق نہیں کر سکا، تاہم معاملے سے واقف ذریعے کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر آئی فون 18 پرو ماڈلز ہی کی ہیں۔
یہ سائبر حملہ ایپل اور ٹاٹا الیکٹرانکس کے درمیان اعتماد پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ چین پر انحصار کم کرنے کی ایپل کی حکمت عملی میں ٹاٹا مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔
مارکیٹ ریسرچ فرم کاؤنٹر پوائنٹ کے مطابق 2026 میں دنیا بھر میں تیار ہونے والے تقریباً 26 فیصد آئی فونز انڈیا میں تیار کیے جائیں گے، جبکہ چار سال قبل یہ شرح صرف 6 فیصد تھی۔

شیئر: