اے آئی کے بڑھتے اثرات، ایپل نے میک بک اور آئی پیڈ کی قیمتیں بڑھا دیں
اے آئی کے بڑھتے اثرات، ایپل نے میک بک اور آئی پیڈ کی قیمتیں بڑھا دیں
جمعہ 26 جون 2026 6:29
’ایپل‘ قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں نے منفی ردعمل ظاہر کیا (فوٹو: سی نیٹ)
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے باعث میموری اور سٹوریج کمپوننٹس کی بڑھتی ہوئی لاگت کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے متعدد مشہور مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد نے میموری اور سٹوریج چپس کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان اجزاء کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔
ایپل کی امریکی ویب سائٹ پر جاری نئی قیمتوں کے مطابق ’14 انچ میک بک‘ پرو کی قیمت 17 سو ڈالر سے بڑھا کر دو ہزار ڈالر کر دی گئی ہے، جبکہ ’آئی پیڈ ایئر‘ کی قیمت چھ سو ڈالر سے بڑھ کر سات سو 50 ڈالر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ’ایپل ٹی وی سٹریمنگ ڈیوائس‘ کی قیمت ایک سو 30 ڈالر سے بڑھا کر دو سو ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
تاہم کمپنی نے فی الحال اپنے مقبول ترین سمارٹ فون ’آئی فون‘ کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی، حالانکہ آئی فون ایپل کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ایپل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز میں تیزی سے ہونے والی توسیع نے میموری اور سٹوریج کی طلب میں غیر معمولی اضافہ پیدا کر دیا ہے۔‘
ترجمان کے مطابق ’ہم نے اس سے پہلے کبھی کسی پرزے کی قیمت میں اتنا تیز اور اتنا بڑا اضافہ نہیں دیکھا۔‘
ایپل کا کہنا ہے کہ ’کمپنی اب تک اضافی لاگت کا بوجھ خود برداشت کر کے صارفین کو قیمتوں میں اضافے سے محفوظ رکھتی رہی، تاہم موجودہ حالات میں ایسا کرنا مزید ممکن نہیں رہا۔‘
قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں نے منفی ردعمل ظاہر کیا اور ایپل کے حصص کی قیمت میں کاروبار کے آغاز پر 4.7 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی۔
ایپل کے سبکدوش ہونے والے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کک نے گزشتہ ہفتے ہی خبردار کیا تھا کہ بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
میموری چپس اور ریم کی قیمتوں میں ہر سہ ماہی کم از کم 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے (فوٹو: سی نیٹ)
ان کے مطابق ’طلب میں اضافے اور سپلائی میں کمی کے باعث میموری بنانے والی کمپنیاں قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق سنہ 2025 کے اواخر سے میموری چپس اور ریم کی قیمتوں میں ہر سہ ماہی کم از کم 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے لیے قائم کیے جانے والے بڑے ڈیٹا سینٹرز ہیں۔
ایپل میں قیادت کی تبدیلی بھی قریب ہے۔ جان ٹرنس یکم ستمبر کو ٹم کک کی جگہ کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عہدہ سنبھالیں گے، جبکہ اسی ماہ نئی نسل کے آئی فونز متعارف کرائے جانے کی توقع ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت سے متعلق انفراسٹرکچر کی توسیع اسی رفتار سے جاری رہی تو مستقبل میں دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔