Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آئی فون 18: ایپل کے آنے والے فلیگ شپ فون سے متعلق اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

’ایپل‘ کے لیے ’آئی فون 18‘ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ آئی فون موبائل کی لانچ کو قریباً 20 سال مکمل ہونے والے ہیں (فائل فوٹو: سی نیٹ)
مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ’ایپل‘ اپنے آنے والے فلیگ شپ سمارٹ فون ’آئی فون 18‘ سیریز پر کام کر رہی ہے، اور اگر حالیہ لیکس اور افواہوں پر یقین کیا جائے تو کمپنی آنے والے برس میں اپنے صارفین کے لیے کئی بڑی تبدیلیاں متعارف کرا سکتی ہے۔
’سی نیٹ‘ کے مطابق اگرچہ ’آئی فون 17‘ سیریز کو اس کے طاقتور فیچرز، سلم ڈیزائن اور بہتر کارکردگی کی وجہ سے کافی پسند کیا گیا، لیکن اب تمام نظریں ’آئی فون 18‘ پر مرکوز ہیں، جسے ’ایپل‘ کی آئندہ جنریشن کے سمارٹ فونز میں ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
’ایپل‘ کے لیے ’آئی فون 18‘ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ آئی فون موبائل کی لانچ کو قریباً 20 سال مکمل ہونے والے ہیں۔
ایک طرف کمپنی امریکی مارکیٹ میں اینڈرائیڈ فونز کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن رکھتی ہے، تو دوسری جانب عالمی سطح پر اسے ’سام سنگ‘ اور چینی کمپنیوں جیسے ’شاؤمی‘ سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ اسی لیے ’ایپل‘ پر دباؤ ہے کہ وہ اپنی نئی سیریز میں ایسا کچھ پیش کرے جو صارفین کی توجہ دوبارہ اپنی جانب مبذول کرا سکے۔
رپورٹس کے مطابق ’آئی فون 18‘ سیریز میں تین بنیادی ماڈلز متعارف کرائے جا سکتے ہیں، جن میں ’آئی فون 18‘، ’آئی فون 18 پرو‘ اور ’آئی فون 18 پرومیکس‘ شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایک ممکنہ فولڈایبل فون، جسے عارضی طور پر ’آئی فون فولڈ‘ کہا جا رہا ہے، بھی زیرِغور ہے۔
بعض اطلاعات کے مطابق ایپل ایک نئے ’آئی فون 18 ای‘ ماڈل پر بھی کام کر رہی ہے، جس کے بعد مجموعی طور پر چھ مختلف آئی فون ماڈلز مارکیٹ میں آسکتے ہیں۔
ڈیزائن کے حوالے سے ابتدائی معلومات بتاتی ہیں کہ ’ایپل‘ اس بار مکمل تبدیلی کے بجائے موجودہ ڈیزائن کو مزید بہتر بنائے گا۔ ’آئی فون 18 پرو‘ اور پرومیکس کے سکرین سائز بالترتیب 6.3 اور 6.9 انچ رہنے کا امکان ہے، تاہم کیمرا ڈیزائن میں کچھ نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ’آئی فون 18‘ کے بیس ماڈل میں نسبتاً چھوٹا کیمرا بمپ ہوگا، جبکہ پرو ماڈلز میں تین کیمروں کے لیے بڑا ’پلیٹو‘ ڈیزائن برقرار رکھا جائے گا۔
چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ویبو‘ پر سامنے آنے والی لیکس کے مطابق ’آئی فون 18 پرو‘ میں شیشے کے پچھلے حصے پر ہلکی شفاف فنش دی جا سکتی ہے، جبکہ کچھ رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ فون پہلے سے زیادہ موٹا اور وزنی ہو سکتا ہے۔ رنگوں کے حوالے سے بھی نئی تجاویز سامنے آئی ہیں، جن میں کافی براؤن، پرپل اور برگنڈی شامل ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق ایپل ایک گہرے سرخ رنگ پر بھی غور کر رہی ہے۔
آئی فون 18 کے حوالے سے سب سے زیادہ بحث ڈائنامک آئی لینڈ کے بارے میں ہو رہی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ ’آئی فون 18 پرو‘، پرومیکس اور فولڈایبل فون رواں برس کے اختتام میں لانچ کیے جائیں گے (فائل فوٹو: سی نیٹ)

اطلاعات ہیں کہ کمپنی اس فیچر کو مزید چھوٹا کر سکتی ہے۔ بعض لیکس کے مطابق فیس آئی ڈی سینسرز کو سکرین کے نیچے منتقل کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد صرف ایک چھوٹا پن ہول کیمرا باقی رہ جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ آئی فون کے ڈیزائن میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق ایپل انڈر ڈسپلے کیمرا ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہی ہے، تاہم ماضی میں مختلف کمپنیوں کے ایسے تجربات زیادہ کامیاب نہیں رہے کیونکہ سکرین کے نیچے موجود کیمرے اکثر کم معیار کی تصاویر لیتے ہیں۔ اس کے باوجود امید کی جا رہی ہے کہ ایپل اس ٹیکنالوجی کو بہتر انداز میں استعمال کر سکتی ہے۔
بیٹری کے شعبے میں بھی بڑی بہتری متوقع ہے۔ رپورٹس کے مطابق ’آئی فون 18 پرو‘ میں پانچ ہزار ایم اے ایچ سے زائد بیٹری دی جا سکتی ہے، جو ’ایپل‘ کے اب تک کے طاقتور ترین آئی فونز میں شمار ہوگی۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ کمپنی نئی سیلیکون کاربن بیٹری ٹیکنالوجی استعمال کر سکتی ہے، جس سے بیٹری لائف مزید بہتر ہوگی۔
کیمرا سسٹم میں بھی بڑی اپ گریڈ متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق ’آئی فون 18 پرو میکس‘ میں ویری ایبل اپرچر ٹیکنالوجی دی جا سکتی ہے، جو عام طور پر ڈی ایس ایل آر اور مرر لیس کیمروں میں استعمال ہوتی ہے۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین روشنی اور ڈیپتھ آف فیلڈ پر زیادہ کنٹرول حاصل کرسکیں گے، جس سے تصاویر کا معیار بہتر ہوگا، خاص طور پر کم روشنی میں۔
سیلفی کیمروں میں بھی بہتری متوقع ہے۔ رپورٹس کے مطابق ’آئی فون 18‘ سیریز کے بیشتر ماڈلز میں 24 میگا پکسل فرنٹ کیمرا دیا جا سکتا ہے، جس سے تصاویر اور ویڈیو کالنگ کا تجربہ مزید بہتر ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق ایپل پہلی بار اپنی آئی فون سیریز کو دو مرحلوں میں متعارف کرا سکتی ہے (فائل فوٹو: سی نیٹ)

پرفارمنس کے لحاظ سے ’آئی فون 18‘ میں ’ایپل‘ کا نیا ’اے20 چپ سیٹ‘ متعارف کرائے جانے کی توقع ہے۔ یہ چپ نئی ویفر لیول ملٹی چپ ماڈیول ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی، جس میں ریم کو براہِ راست پروسیسر کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس سے فون کی رفتار اور توانائی کی بچت میں نمایاں بہتری آئے گی۔
رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ ’ایپل‘ اپنی اگلی جنریشن کے ’سی2 موڈیم‘ پر کام کر رہی ہے، جو بہتر وائرلیس کنیکٹیویٹی فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ نیٹ ورک سپورٹ میں بھی توسیع متوقع ہے، جس کے بعد ممکنہ طور پر ’آئی فون 18‘ صرف ایمرجنسی میسجز ہی نہیں بلکہ مکمل سیٹلائٹ فون فیچرز بھی سپورٹ کرسکے گا۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں بھی ایپل نئی پیش رفت کی تیاری کر رہی ہے۔ کمپنی پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ ’گوگل‘ کے جیمنائی اے آئی ماڈل کو سری کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، جس کے بعد صارفین کو مزید جدید اے آئی فیچرز دستیاب ہوسکیں گے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق ایپل انڈر ڈسپلے کیمرا ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہی ہے (فائل فوٹو: سی نیٹ)

لانچ کے حوالے سے بھی اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایپل پہلی بار اپنی آئی فون سیریز کو دو مرحلوں میں متعارف کرا سکتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ’آئی فون 18 پرو‘، پرو میکس اور فولڈیبل فون رواں برس کے اختتام میں لانچ کیے جائیں گے، جبکہ ’آئی فون 18‘ اور ’آئی فون 18 ای ماڈلز‘ 2027 کے آغاز میں متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔
اگر یہ تمام افواہیں درست ثابت ہوتی ہیں تو ’آئی فون 18‘ سیریز ’ایپل‘ کی حالیہ تاریخ کی سب سے منفرد اور اہم اپ گریڈ بن سکتی ہے، جو نہ صرف ڈیزائن بلکہ بیٹری، کیمرا، اے آئی اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے میدان میں بھی نمایاں تبدیلیاں لے کر آئے گی۔

شیئر: