وینزویلا: زلزلے کے جھٹکوں سے قبل شہریوں کو سمارٹ فونز پر وارننگ کیسے ملی؟
وینزویلا: زلزلے کے جھٹکوں سے قبل شہریوں کو سمارٹ فونز پر وارننگ کیسے ملی؟
جمعہ 26 جون 2026 18:55
زلزلے میں اب تک تقریباً چھ سو افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
وینزویلا میں بدھ کو آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے سے چند لمحے قبل اپنے اینڈرائیڈ سمارٹ فونز پر انتباہی پیغامات موصول ہوئے تھے۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اس زلزلے میں اب تک تقریباً چھ سو افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ جدید سمارٹ فونز نے خطرے سے قبل لوگوں کو خبردار کرنے میں کس طرح اہم کردار ادا کیا۔
’گوگل‘ کے مطابق دنیا بھر میں موجود اربوں اینڈرائیڈ فونز صرف رابطے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ زلزلوں کی ابتدائی نشاندہی کرنے والے ایک وسیع نیٹ ورک کے طور پر بھی کام کر سکتے ہیں۔
تقریباً ہر سمارٹ فون میں ایک ’ایکسلیرومیٹر‘ نامی سینسر موجود ہوتا ہے، جو عام طور پر فون کی سکرین کو گھمانے یا حرکت کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم یہی سینسر زمین میں پیدا ہونے والی ابتدائی لرزش کو بھی محسوس کر سکتا ہے۔
گوگل نے گزشتہ برس وضاحت کی تھی کہ جب کسی علاقے میں موجود متعدد اینڈرائیڈ فونز ایک ہی وقت میں غیر معمولی حرکت ریکارڈ کرتے ہیں تو یہ معلومات فوری طور پر گوگل کے سرورز تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس کے بعد نظام مختلف فونز سے موصول ہونے والے ڈیٹا کا موازنہ کر کے اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ واقعی زلزلہ آیا ہے اور اس کی شدت اور مقام کا اندازہ لگاتا ہے۔ اگر خطرہ سنگین ہو تو متاثرہ علاقے کے صارفین کو چند سیکنڈ پہلے انتباہ بھیج دیا جاتا ہے، جو بعض اوقات قیمتی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
گوگل کے زلزلہ انتباہی نظام میں دو درجے شامل ہیں۔ ’بی اویئر‘ نامی الرٹ نسبتاً کم شدت کے جھٹکوں کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، جبکہ شدید زلزلے کی صورت میں ’ٹیک ایکشن‘ الرٹ پورے فون کی سکرین پر نمودار ہوتا ہے اور فون سائلنٹ موڈ میں ہونے کے باوجود بلند آواز میں وارننگ جاری کرتا ہے تاکہ صارف فوری حفاظتی اقدامات کر سکے۔
’گوگل‘ کے مطابق سنہ 2021 سے اب تک اس کا نظام دنیا بھر میں دو ہزار سے زائد ممکنہ خطرناک زلزلوں کی نشاندہی کر چکا ہے اور تقریباً 79 کروڑ انتباہی پیغامات مختلف صارفین کو بھیجے جا چکے ہیں۔ تاہم اس نظام کو ماضی میں بعض مشکلات کا بھی سامنا رہا۔
سنہ 2021 سے اب تک اس کا نظام دنیا بھر میں دو ہزار سے زائد ممکنہ خطرناک زلزلوں کی نشاندہی کر چکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سنہ 2023 میں ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلوں سے قبل متعدد اینڈرائیڈ فونز پر بروقت وارننگ موصول نہیں ہوئی تھی، جس کے بعد گوگل نے اپنے الگورتھمز میں بہتری لانے کا دعویٰ کیا۔ اسی طرح 2025 میں برازیل میں غلطی سے جاری ہونے والے ایک جھوٹے الرٹ پر کمپنی کو معذرت بھی کرنا پڑی تھی۔
دوسری جانب ’ایپل‘ کے آئی فونز میں بھی ہنگامی صورتحال سے متعلق سرکاری انتباہات موصول کرنے کی سہولت موجود ہے۔
’ایپل‘ کے مطابق امریکہ اور تائیوان سمیت چند ممالک میں صارفین زلزلوں سے متعلق اضافی وارننگز بھی حاصل کر سکتے ہیں، تاہم کمپنی نے ابھی تک ’گوگل‘ کی طرح اس بات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ اس کا نظام کس طرح کام کرتا ہے۔ البتہ آئی فونز میں ایک ایسی خصوصیت ضرور موجود ہے جس کے ذریعے ایک ڈیوائس پر موصول ہونے والا الرٹ قریبی ایپل ڈیوائسز تک بھی پہنچایا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ اگر ان کے پاس موبائل سگنل یا وائی فائی کنکشن موجود نہ ہو۔
وینزویلا میں آنے والے حالیہ زلزلے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سینکڑوں افراد نے گوگل کے اس نظام کی تعریف کی ہے۔ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں چند لمحے پہلے موصول ہونے والی وارننگ نے عمارتوں سے باہر نکلنے اور محفوظ مقام پر پہنچنے کا موقع فراہم کیا، جس سے ممکنہ طور پر کئی قیمتی جانیں بچ گئیں۔