Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تبوک ریجن کی وادی الغضا جس پر عرب شعرا نے قصیدے لکھے

وادی الغضا درخت اور جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی ہوا کرتی تھی (فوٹو: سکرین گریب)
تبوک ریجن کی تاریخ و آثار قدیمہ کے ماہر و مورخ  ڈاکٹر مسعد العطوی کا کہنا ہے کہ ریجن کی وادی الغضا کا شمار اہم تاریخی علاقوں میں ہوتا ہے۔
اخبار 24 سے گفتگو کرتے ہوئے اکٹر مسعد العطوی نے بتایا کہ ’مملکت کے شمال مغربی سمت میں واقع یہ وادی صدیوں سے تجارتی قافلوں اور اسلامی افواج کا پڑاؤ تھی، یہ وادی جو حجاز اور شام کے راستے میں واقع ہے۔ اس وادی کے حوالے سےعربی میں قصیدے بھی کہے گئے۔‘
وادی کے نام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’یہاں کثرت سے پائے جانے والے درختوں کی وجہ سے اس کا نام الغضا ( صحرائی درخت یا جھاڑیاں جو جزیرہ نمائے عرب میں پائی جاتی ہیں) پڑا ہے۔‘
ڈاکٹر مسعد العطوی نے مزید کہا کہ ’وادی الغضا نام کی ایک اور وادی قصیم ریجن میں بھی موجود ہے تاہم ہر ایک کی جدا تاریخ اور جغرافیہ ہے۔ تبوک کی وادی الغضا، شام سے حجاز آنے والے قافلوں اور شام کی جانب سے آنے والی اسلامی افواج کا پڑاؤ بھی تھی، جو یہاں قیام کرتے اور تازہ دم ہونے کے بعد آگے بڑھا کرتے تھے۔‘
سعودی ماہر آثار قدیمہ کے مطابق ’عربی ادب میں اس وادی کے بارے میں کئی قصیدے موجود ہیں۔ معروف شاعر جمیل بن معمر نے العلا سے مصر جاتے وقت یہاں قیام کے دوران قصیدہ کہا تھا۔‘
 ماضی بعید میں یہ وادی درخت اور جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی ہوا کرتی تھی، یہاں تبوک کے رہائشی اپنے مویشی چرانے کے لیے آیا کرتے تھے۔

 وادی میں متعدد قدرتی اور تاریخی آثار قدیمہ ہیں۔ ایک چھوٹی چٹانی پٹی ہے جو قدیم تاریخی شاہراہ سے جڑی ہے، یہاں چٹان میں تراشی ہوئی جگہ بھی موجود ہے۔
ڈاکٹر مسعد العطوی نے کہا کہ ’وادی الغضا محض ایک قدرتی مقام نہیں بلکہ علاقے کی ایک کھلی تاریخ ہے، جہاں تاریخ، جغرافیہ اور ادب یکجا تھے۔‘

 

شیئر: