امریکہ سے بات چیت ترجیح مگر جنگ کے لیے بھی تیار: ایران
حالیہ جھڑپوں کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر دوحہ میں مذاکرات ہوں گے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کو ترجیح دے رہا ہے لیکن جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔
خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق محمد باقر قالیباف نے منگل کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم بات چیت کو آگے بڑھا رہے ہیں لیکن اگر اس پر عمل نہ ہوا تو ہم جنگ کے لیے بھی تیار ہیں اور موقع کی مناسبت سے جواب دیں گے۔‘
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوحہ میں ایران اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات ہونے طے ہیں۔
محمد قالیباف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد مفاہمتی یادداشت کے وعدوں کو پورا کرنا ہے۔
ان کے مطابق ’ایران تب تک مذاکرات میں شامل نہیں ہو گا جب تک دونوں ممالک کے درمیان سائن ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر خود مختاری حاصل ہے اور وہ آبی گزرگاہ سے متعلق اپنے حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
محمد باقر قالیباف نے یہ وضاحت بھی کی کہ آبنائے ہرمز کے راستے سفر صرف 60 روز کے لیے ٹول فری ہے جیسا کہ ایم او یو میں لکھا گیا ہے۔
خیال رہے سنیچر کو تازہ جھڑپوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا اور منگل کو دوحہ میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت ہو گی۔
امریکی میڈیا کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف دوحہ جائیں گے، تاہم موجودہ صورت حال کافی مختلف ہے۔
منگل کو جاری کی گئی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق قطر میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے امکانات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جبکہ جنگ بندی کو دیرپا بنانے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی سے متعلق بھی سوالات برقرار ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کو منگل کو دوحہ پہنچنا تھا، جہاں وہ قطری ثالثوں اور حکام سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کریں گے۔ تاہم قطر کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اس موقع پر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی اعلیٰ سطح کے براہِ راست مذاکرات نہیں ہوں گے۔