ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کو ترجیح دے رہا ہے لیکن جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔
خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق محمد باقر قالیباف نے منگل کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم بات چیت کو آگے بڑھا رہے ہیں لیکن اگر اس پر عمل نہ ہوا تو ہم جنگ کے لیے بھی تیار ہیں اور موقع کی مناسبت سے جواب دیں گے۔‘
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوحہ میں ایران اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات ہونے طے ہیں۔
محمد قالیباف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد مفاہمتی یادداشت کے وعدوں کو پورا کرنا ہے۔
ان کے مطابق ’ایران تب تک مذاکرات میں شامل نہیں ہو گا جب تک دونوں ممالک کے درمیان سائن ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر خود مختاری حاصل ہے اور وہ آبی گزرگاہ سے متعلق اپنے حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
محمد باقر قالیباف نے یہ وضاحت بھی کی کہ آبنائے ہرمز کے راستے سفر صرف 60 روز کے لیے ٹول فری ہے جیسا کہ ایم او یو میں لکھا گیا ہے۔