مایتھوس اور امریکہ کی سب سے طاقتور مصنوعی ذہانت پر کشمکش، معاملہ کیا ہے؟
جمعرات 2 جولائی 2026 7:24
مایتھوس اینتھروپک کا سب سے جدید ماڈل ہے جو کلاؤڈ چیٹ بوٹ بنانے والی کمپنی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی حکومت کی منظوری کے بعد اینتھروپک کے طاقتور ماڈل فیبل 5 تک عالمی رسائی اور زیادہ طاقتور مایتھوس 5 تک محدود رسائی بحال کر دی گئی ہے، ایک ایسے تعطل کے بعد جس نے واشنگٹن اور سلیکان ویلی کے تعلقات کو کشیدہ کر دیا تھا۔
مایتھوس کیا ہے؟
مایتھوس اینتھروپک کا سب سے جدید ماڈل ہے جو کلاؤڈ چیٹ بوٹ بنانے والی کمپنی ہے۔ یہ خاص طور پر کمپیوٹر نظام میں کمزوریاں تلاش کرنے اور انہیں درست کرنے میں ماہر ہے۔ چونکہ یہ صلاحیت ہیکرز کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہےاس لیے اینتھروپک نے ابتدا میں اسے عوام کے لیے جاری نہیں کیا۔ صرف چند منتخب شراکت داروں کو رسائی دی گئی۔ 9 جون کو اینتھروپک نے ایک عوامی اور محفوظ ورژن فیبل 5 جاری کیا جس میں حفاظتی فلٹر شامل تھے تاکہ اس کی صلاحیت کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔
برآمد پر پابندی کیسے لگی؟
فیبل 5 کے اجرا کے تین دن بعد حکومت نے حکم دیا کہ غیر امریکی شہریوں کے لیے مایتھوس 5 اور فیبل پانچ دونوں بند کر دیے جائیں۔ چونکہ اینتھروپک صارفین کی شہریت آسانی سے چیک نہیں کر سکتا تھا، اس نے دونوں ماڈل سب کے لیے بند کر دیے۔ حکومت نے کہا کہ کسی نے فیبل 5 کو دھوکہ دے کر خطرناک معلومات حاصل کر لی تھیں، جبکہ اینتھروپک نے کہا کہ یہ مسئلہ معمولی تھا اور دوسرے ماڈل بھی ایسا کر سکتے ہیں۔
یو ٹرن کیوں آیا؟
مایتھوس کے آنے سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ چاہتی تھی کہ کمپنیوں پر کم پابندیاں ہوں تاکہ چین پر سبقت حاصل کی جا سکے۔ لیکن اینتھروپک نے پینٹاگون کو بغیر حدود کے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے سے انکار کیا، جس پر ٹرمپ نے کمپنی کو ’بائیں بازو کے دیوانے‘ کہا اور حکومتی اداروں کو اس کے مصنوعات استعمال کرنے سے روک دیا۔ کچھ مبصرین کے مطابق مایتھوس اور فیبل 5 پر پابندی سیاسی اختلافات کی وجہ سے تھی، نہ کہ صرف حفاظتی خدشات کی وجہ سے۔
کیا وائٹ ہاؤس تقسیم ہے؟
وائٹ ہاؤس کے مشیر مارک آندریسن کے مطابق انتظامیہ دو اہداف کے درمیان پھنس گئی ہے۔ ایک گروہ چاہتا ہے کہ امریکی مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں پھیلائی جائے تاکہ امریکہ قواعد طے کرے، نہ کہ چین۔ دوسرا گروہ چاہتا ہے کہ طاقتور ماڈل کو محدود رکھا جائے تاکہ وہ بینکوں، ہسپتالوں یا حکومتی نظام کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ آندریسن نے کہا کہ ان کا گروہ ہار رہا ہے اور انتظامیہ زیادہ پابندیوں کی طرف جا رہی ہے۔
اب صورتحال کہاں ہے؟
حکومت نے حال ہی میں مایتھوس تک رسائی چند امریکی سائبر سکیورٹی کمپنیوں کو دی ہے۔ فیبل 5 کی عالمی رسائی بھی بحال کر دی گئی ہے۔ لیکن مایتھوس 5 کے بین الاقوامی صارفین، جیسے یورپی کمیشن، کے لیے مستقبل ابھی غیر واضح ہے۔ اگست میں نئے حفاظتی اصول متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔ اینتھروپک نے کہا ہے کہ وہ دیگر بڑی کمپنیوں کے ساتھ مل کر حفاظتی معیار بنانے پر کام کرے گا۔
