کتے چہروں کے تاثرات سے جان لیتے ہیں کہ ہم خوش، اداس یا خوف زدہ ہیں: تحقیق
کتے چہروں کے تاثرات سے جان لیتے ہیں کہ ہم خوش، اداس یا خوف زدہ ہیں: تحقیق
ہفتہ 15 اگست 2026 7:14
محققین نے پہلے آٹھ کتوں کے دماغ سکین کیے۔ (فوٹو: لورا وی کُوایا)
یہ بات قریباً ہر کتا پالنے والا شخص جانتا ہے لیکن اب سائنس نے بھی اس کی تائید کر دی ہے کہ کتے واقعی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان خوش ہے یا اداس۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق سائنسی جریدے آئی سائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سائنس دانوں نے کتوں کے دماغوں کا سکین کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ انسانوں کے مختلف جذبات اور چہرے کے تاثرات کو کس طرح سمجھتے ہیں۔ تحقیق میں خوشی، غصے، خوف اور اداسی کے تاثرات شامل تھے۔
ویانا یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے تحقیق کے دوران کتوں کو ایف ایم آر آئی سکین میں رکھا۔ اس دوران کتے بیدار رہے اور انہیں ایسے انسانوں کی تصاویر دکھائی گئیں جن کے چہروں پر مختلف جذبات نمایاں تھے۔ سکین سے معلوم ہوا کہ انسان کے چہرے کے تاثرات کے مطابق کتوں کے دماغ کی سرگرمی مختلف انداز میں تبدیل ہوتی ہے۔
تحقیق کی سینیئر مصنفہ لورا وی کُوایا نے یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ انسانوں اور دوسرے حیوانات کا موازنہ کرتے ہوئے بعض صلاحیتیں مشترکہ ارتقائی جدِ امجد سے منسوب کی جا سکتی ہیں، لیکن کتوں کے معاملے میں صورتحال مختلف ہے۔ ان کے مطابق کتوں نے ارتقا کا بالکل مختلف راستہ اختیار کیا، تاہم انسانوں کے ساتھ گھریلو تعلق اور طویل عرصے کی وابستگی کے نتیجے میں انہوں نے انسانوں کو سمجھنے اور ان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے غیر معمولی سماجی صلاحیتیں پیدا کیں۔
خوش چہروں پر کتوں کے دماغ کا مختلف ردِعمل
محققین نے پہلے آٹھ کتوں کے دماغ سکین کیے جن میں چھ بارڈر کولی، ایک لیبراڈار اور ایک گولڈن ریٹریور شامل تھا۔ انہیں اجنبی افراد کے خوش یا غیر جذباتی چہروں کی تصاویر دکھائی گئیں۔
خوش چہروں کی تصاویر دیکھنے پر دماغ کے ان حصوں میں سرگرمی بڑھ گئی جو اعلیٰ ذہنی عمل اور انعام یا خوشی کے احساس سے منسلک ہیں، خصوصاً ٹیمپورل کارٹیکس اور کیوڈیٹ نیوکلیئس۔
کُوایا کے مطابق اس سے اشارہ ملتا ہے کہ انسان کا خوش چہرہ کتوں کے لیے جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ کتوں کے دماغ نے غصے، خوف یا اداسی کے تاثرات پر بالکل وہی ردِعمل نہیں دیا جو خوشی کے تاثرات پر دیا تھا۔ (فوٹو: انسٹاگرام)
بعد میں محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا کتوں کے دماغ کے یہی حصے غصے، خوف اور اداسی جیسے دیگر جذبات پر بھی اسی طرح ردِعمل دیتے ہیں۔ اس مرحلے میں 12 کتوں کو خوش، غصے، خوف اور اداسی کے تاثرات رکھنے والے انسانوں کی تصاویر دکھائی گئیں اور مشین لرننگ کے ذریعے ان کے دماغی ردِعمل کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ کتوں کے دماغ نے غصے، خوف یا اداسی کے تاثرات پر بالکل وہی ردِعمل نہیں دیا جو خوشی کے تاثرات پر دیا تھا۔ تاہم پورے دماغ کے تجزیے سے یہ ضرور ظاہر ہوا کہ منفی جذبات رکھنے والے چہروں کو دیکھتے وقت دماغ میں مخصوص اور الگ سرگرمی کے نمونے پیدا ہوئے۔
ویانا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے پہلے مصنف راؤل ہرنانڈیز پیریز نے کہا کہ انسان چہرے کی معمولی سے معمولی تفصیل بھی محسوس کرنے میں ماہر ہیں اور کتے بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کتوں کے دماغ کا مطالعہ یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ انسانوں کے ساتھ ان کی غیر معمولی سماجی اور جذباتی سمجھ بوجھ کے لیے کون سی صلاحیتیں پیدا ہوئی ہیں۔
خوشی کے اظہار سے کتوں کو انعام کا احساس؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ خوش چہرے دیکھنے کے دوران کیوڈیٹ نیوکلیئس میں سرگرمی دیکھی گئی۔ یہ دماغی حصہ مختلف جانوروں میں انعام یا خوشی کے احساس سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
ہرنانڈیز پیریز کے مطابق کتوں میں اس حصے کی سرگرمی خوراک جیسے انعامات کے ساتھ ساتھ سماجی انعامات سے بھی منسلک رہی ہے، مثلاً تعریف کے الفاظ سننا یا کسی مانوس شخص کی خوشبو محسوس کرنا۔
تاہم محققین نے احتیاط کرتے ہوئے کہا کہ وہ براہِ راست یہ معلوم نہیں کر سکتے کہ کتا اندرونی طور پر کیا محسوس کر رہا ہے۔ البتہ نتائج سے یہ ضرور اشارہ ملتا ہے کہ خوش انسان کا چہرہ دیکھنا کتوں کے دماغ میں مثبت جذباتی عمل سے وابستہ ہو سکتا ہے۔
کتے صرف چہرہ نہیں دیکھتے
محققین نے زور دیا کہ کتوں کے لیے انسان کے جذبات کو سمجھنے کا عمل صرف چہرے کے تاثرات تک محدود نہیں۔ کتے انسان کی جسمانی زبان، آواز اور خوشبو کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ بارڈر کولی دوسرے کتوں کے مقابلے میں انسانی چہرے کے تاثرات سمجھنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہوں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تحقیق میں شامل تمام کتے محبت کرنے والے گھروں میں پلے بڑھے تھے، اس لیے ممکن ہے کہ سڑکوں پر رہنے والے یا مختلف ماحول میں پرورش پانے والے کتوں کا انسانی اشاروں کو سمجھنے کا انداز مختلف ہو۔
کتوں کو ایم آر آئی کے لیے خصوصی تربیت دی گئی
تحقیق میں شامل کتوں کا انتخاب اور تربیت خاص طور پر کی گئی تھی۔ انہیں درمیانے قد کا ہونا ضروری تھا تاکہ وہ ایم آر آئی مشین کے سائز میں سما سکیں۔ اس کے علاوہ ان کا صحت مند ہونا اور شور سے شدید خوف جیسے رویوں کے مسائل سے پاک ہونا بھی ضروری تھا۔
ہرنانڈیز پیریز کے مطابق کتوں کو پہلے یہ سکھایا گیا کہ انہیں صرف **بالکل ساکت رہنا ہے**۔ ابتدا میں انہیں ایک یا دو سیکنڈ تک ساکت رہنے کی تربیت دی گئی اور پھر یہ دورانیہ آہستہ آہستہ بڑھایا گیا۔
اس کے بعد انہیں ایم آر آئی کے ماحول، مشین کی پوزیشن، آلات اور اسکینر کی آوازوں سے بتدریج مانوس کرایا گیا۔ محققین کے مطابق کتے تحقیق میں **رضاکارانہ طور پر** شریک ہوئے اور وہ کسی بھی وقت وہاں سے جا سکتے تھے۔
تحقیق کی حدود
سائنس دانوں نے تسلیم کیا کہ تحقیق کی کچھ حدود بھی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں کتوں کی تعداد کم تھی اور زیادہ تر کتے بارڈر کولی نسل کے تھے، جو ذہانت اور انسانی سماجی اشاروں کو سمجھنے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہے۔
تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ بارڈر کولی دوسرے کتوں کے مقابلے میں انسانی چہرے کے تاثرات سمجھنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہوں۔ مستقبل کی تحقیقات میں مختلف نسلوں کے کتوں کے رویوں اور دماغی سرگرمیوں کا موازنہ کرنا ضروری ہوگا۔
محققین اب کتوں کے جذبات کو ’کتے کے نقطۂ نظر‘ سے سمجھنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ انسانی اشاروں کو استعمال کرکے ہمیں کس طرح سمجھتے ہیں۔
ہرنانڈیز پیریز کے مطابق اگر ہم اس بات پر غور کریں کہ کتے ہمارے جذبات پر کس قدر توجہ دیتے ہیں تو ہم یہ بھی بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ **وہ اپنے جذبات کا اظہار کس طرح کرتے ہیں۔** ان کے بقول جذبات رابطے کی ایک طاقتور شکل ہیں جو مختلف انواع کے درمیان بھی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔