Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

المنجد: چمڑے کی بنی ہوئی وہ بیلٹ جو شکار کے لیے استعمال کی جاتی تھی

چمڑے کی بنی ہوئی وہ بیلٹ یا پٹی جسے عرب المنجد کہتے ہیں، سعودی میراث کا وہ حصہ ہے جسے شکاری مہموں اور مملکت میں سفر کے دوران استعمال کیا جاتا تھا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ پٹی مملکت کی ثقافت اور سماجی یادداشت کا ایک جُزو بن چکی ہے اور زندگی کے تاریخی طریقوں کی ایک شبہیہ ہے۔ یہ ایسا اوزار بھی ہے جسے پُرانے زمانے میں روایتی شکار کی عملی ضرورتوں کے پیشِ نظر ہاتھوں سے بنایا گیا تھا۔
حدودِ شمالیہ کے رفحا گورنریٹ میں ثقافتی ورثے کے میوزیم میں اس طرح کی ہاتھ سے بنی ہوئی چمڑے کی پٹیاں کافی تعداد میں موجود ہیں جو شکار کے روایتی طریقوں اور پرانے زمانے کے مروج طرزِ زندگی اور اس دور میں روایتی شکار کے طریقوں کے اہم پہلو کو دستاویزی شکل دے رہا ہے۔
پائیدار قدرتی چمڑے سے تیار ہونے والی یہ پٹیاں شکاریوں کے لیے لازمی لوازمات میں شامل تھیں۔ اُن میں مختلف سائزوں کی جیبیں تھیں جن میں شکاری گولیاں، بارود اور شکار کے لیے ضروری دیگر اشیا رکھا کرتے تھے۔
اُن میں سینے پر حمائل ہونے والا ایک پٹا بھی تھا جو شکاریوں کو حرکت کی زیادہ آزادی دیتا تھا جسے وہ آسانی کے ساتھ جسم کے ساتھ باندھ لیا کرتے تھے۔ دھات کے مضبوط بکسُوئے طویل سفر کے دوران شکار کی ضروری اشیا کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور پائیداری کو یقینی بناتے تھے۔
مملکت کی میراث کی یہ سب اشیا چمڑے سے کام کرنے کے اُس غیر معمولی ہنر اور نسل در نسل شکار کے لیے اُس ضروری سامان میں ہونے والی تبدیلیوں اور ارتقا کو لوگوں کے سامنے لاتے ہیں۔
آج یہ اشیا قدیم ثقافت کے قیمتی نودارات میں شامل ہیں جنھیں نجی میوزیم محفوظ کر رہے ہیں جبکہ ورثے کے شوقین افراد سعودی عرب کی اِس بیش قیمت وراثت کو محفوظ بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
مملکت میں پرائیویٹ میوزیم اِن نایاب چیزوں کو نہ صرف محفوظ کر رہے ہیں بلکہ ان کا ریکارڈ بھی رکھ رہے ہیں۔ اِس طرح قوم کی ثقافتی میراث کے بارے میں شعور میں اضافے میں مدد مل رہی ہے۔
اِس میراث اور اِس کے تحفظ کی وجہ سے، نوجوانوں اور اُن کے اجداد کی زندگیوں میں تعلق مضبوط ہو رہا ہے جس کی وجہ سے مملکت کا یہ ثقافتی ورثہ، مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔

شیئر: