Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قصیم: ’قومی و ثقافتی شناخت‘ کا نجی میوزیم، نوادرات اور تاریخی اشیا کا خزانہ

یہ میوزیم مملکت کے قومی و ثقافتی شناخت کو مضبوط کرتے ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن کے مختلف علاقوں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران پرائیویٹ میوزیم کے قیام میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ رجحان مقامی افراد کے نوادرات اور تاریخی اشیا جمع کرنے کے شوق کا مظہر ہے۔
ایس پی اے کے مطابق نجی سطح پر قائم میوزیم میں مختلف اقسام کی روایتی و مقامی اشیا رکھی گئی ہیں جن میں مہمان نوازی کے لیے استعمال ہونے والے برتن، قدیم اسلحہ، تاریخی دستاویزات، تصاویر اور علاقائی فن پارے، قدیم ڈاک ٹکٹ، پرانی گاڑیاں شامل ہیں۔
میوزیم میں رکھی جانے والی اشیا خطے کی تاریخ کے اہم مراحل مثلاً مملکت میں تیل کی پائپ لائن کے ابتدائی دور کی عکاسی کرتی ہیں۔
ایک طرح سے یہ نجی میوزیم عہدِ رفتہ کی تاریخ کو روشن انداز میں پیش کرنے کا بھی اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔
یہ قومی و ثقافتی شناخت کو مضبوط کرتے اور معاشرے کی ثقافتی و تعلیمی زندگی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

ان کے ذریعے محققین اور طلبہ کو تحقیقی مواد بھی فراہم ہوتا ہے۔ سیاحوں اور وزیٹرز کے لیے بھی باعث کشش ہیں، بالخصوص وہ افراد جو قیمتی پتھروں اور ارضیاتی علوم میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
عام طور پر نجی میوزیم کسی فرد یا خاندان کی ملکیت ہوتے ہیں جن میں برسوں کی محنت سے جمع کی گئی اشیا کی نمائش کی جاتی ہے۔
یہ میوزیم ثقافت اور ماضی کا آئینہ ہونے کے ساتھ ساتھ انفرادی کاوشوں کے ذریعے ورثے کے تحفظ کی عمدہ مثال بھی ہیں۔

قیمتی پتھروں و معدنیات کے شعبے کے ماہر عبداللہ السحیبانی نے بتایا کہ ’ان کا میوزیم نایاب اور تاریخی پتھروں کا ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو ارضیاتی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی مثال ہے۔‘
السحیبانی کے مطابق ’میوزیم میں جمع کردہ اشیا کئی برس کی تلاش اور محنت کا ثمر ہے، اس کے لیے انہیں مملکت کے مختلف علاقوں کا سفر کرنا پڑا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’میوزیم ایک سادہ مگر موثر سائنسی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے جو قدرتی ورثے اور جدید علم کے درمیان ربط ہے۔ فوسلز اور معدنیات کے علم کو فروغ دیتا ہے، خصوصاً معدنیات سے مالا مال علاقوں کی عکاسی کرتا ہے۔

 

شیئر: