Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جدہ میں مہمان نوازی کی روایات، نجی میوزیم میں سینکڑوں برس پرانی اشیا موجود

جدہ کے تاریخی علاقہ حارہ الشام میں مسجد ابوعنبہ کے قریب ایک نجی میوزیم میں حجاز کے گھروں میں استعمال ہونے والی مہمان نوازی کی اشیا محفوظ ہیں جو ماضی میں رائج تھیں۔
اخبار 24 کے مطابق سعودی شہری احمد حامد الشریف کے میوزیم میں بڑی تعداد میں قدیم ’سماوار‘ رکھے گئے ہیں جن میں پانی کو ابال کر چائے بنائی جاتی تھی۔ سماوار کو کوئلوں سے گرم کیا جاتا تھا۔
احمد حامد الشریف کا کہنا ہے کہ ’یہ محض برتن نہیں ہیں بلکہ یہ خاندانوں اور مہمانوں کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہوا کرتے تھے۔ مختلف سائز کے ’سماوار‘ خاندانوں کے افراد کی تعداد کے حساب سے بنائے جاتے تھے۔ بڑے ’سماوار‘ مہمان خانوں اور زیادہ افراد کے لیے استعمال ہوتے تھے۔‘
میوزیم میں موجود ایک سماوار 200 برس پرانا ہے جبکہ دنیا کے مختلف ملکوں جیسے ترکیہ، ایران، انڈیا، چین اور شمالی افریقہ سے لائے گئے سماوار بھی موجود ہیں۔

میوزیم میں نجران کے قدیم قہوے کا برتن ’الدلال ‘ بھی رکھا گیا ہے جو جزیرہ نما عرب کی خاص شناخت اور مشرقی ریجن کی پہچان بھی ہے۔
اس کےعلاوہ 300 برس قدیم ایک برتن بھی یہاں موجود ہے۔
پانی اور شکر رکھنے کے لیے قدیم برتنوں کے ساتھ ساتھ  مشروب پیش کرنے والے یورپی پیالے بھی یہاں رکھے گئے ہیں جو ماضی میں مہمانوں کے لیے استعمال ہوا کرتے تھے۔

پرانی چائے دانی جس پر دستی نقش و نگار  بنے ہیں، بھی میوزیم کی زینت بنی ہوئی ہے۔
جدہ کے تاریخی علاقے کے اس میوزیم میں محض پرانی اشیا ہی نہیں رکھی گئی ہیں بلکہ یہاں قدیم روایات کو بھی زندہ کیا جاتا ہے تاکہ ماضی سے حال کا رشتہ قائم  رہے۔ 
 

 

شیئر: