Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپین نے 6 لاکھ تارکینِ وطن کے لیے قانونی روزگار کے دروازے کھول دیے

سپین میں غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے شروع کی گئی حالیہ ’عام معافی‘ (ایمنسٹی) کی مہم کے دوران اب تک 6 لاکھ سے زائد افراد کو عارضی طور پر کام کرنے کے اجازت نامے (ورک پرمٹ) جاری کر دیے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکام نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ان تارکینِ وطن کو دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل کے دوران ہی باقاعدہ ملکی معیشت کا حصہ بنانا ہے۔
سرکاری حکام نے جمعرات کو بتایا کہ سپین میں قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے کل 11 لاکھ 70 ہزار (1.17 ملین) تارکینِ وطن نے درخواستیں دیں جن میں سے 6 لاکھ 9 ہزار 737 افراد کو عارضی ورک پرمٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔
یہ افراد اب درخواستوں پر حتمی فیصلہ آنے تک قانونی طور پر ملازمتیں حاصل کر سکتے ہیں۔
عام معافی کی شرائط کیا تھیں؟
سپین حکومت کی اس خصوصی مہم کے تحت ایسے تمام غیر قانونی تارکینِ وطن کو ایک سال کے لیے قابلِ تجدید رہائشی اجازت نامپ دیا جا رہا ہے جو سال 2025 کے اختتام سے قبل کم از کم پانچ ماہ سے سپین میں مقیم ہوں۔ ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو۔
اس مہم کے لیے درخواستیں جمع کرانے کا سلسلہ رواں سال 16 اپریل سے شروع ہوا تھا جو 30 جون کو اختتام پذیر ہوا۔
توقعات سے دگنی درخواستیں اور روزگار کے مواقع
سپین کی سیکریٹری آف سٹیٹ برائے ہجرت پیلار کینسیلا اور سیکریٹری آف سٹیٹ برائے سوشل سیکورٹی بورخا سواریز نے جمعرات کو پریس کانفرنس کے دوران مہم کے تفصیلی اعداد و شمار جاری کیے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کا ابتدائی اندازہ تھا کہ لگ بھگ 5 لاکھ افراد درخواستیں دیں گے، تاہم موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد اس سے دگنی سے بھی زیادہ رہی۔
درخواست گزاروں کی اکثریت لاطینی امریکی ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔
عارضی ورک پرمٹ حاصل کرنے والے 6 لاکھ سے زائد افراد میں سے قریباً 1 لاکھ 60 ہزار تارکینِ وطن 30 جون تک باقاعدہ ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔
اب تک 11 ہزار افراد کی درخواستیں مکمل طور پر منظور کر کے انہیں ایک سال کا باقاعدہ رہائشی پرمٹ جاری کیا جا چکا ہے۔
تعمیرات اور سیاحت کے شعبوں میں بھرتیاں
سپین کی حکومت تارکینِ وطن کو روزگار کی فراہمی کے لیے تعمیرات، سیاحت، ٹرانسپورٹ اور کیئر سیکٹر (دیکھ بھال کے شعبے) کی نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ افرادی قوت کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق درخواست دینے والے غیر قانونی تارکینِ وطن میں سے 81  فیصدکی عمریں 45 سال سے کم ہیں جبکہ درخواست گزاروں میں مردوں کا تناسب 57 فیصد ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے جہاں لاکھوں تارکینِ وطن کی زندگیوں میں استحکام آئے گا وہاں سپین کی معیشت اور ٹیکس ریونیو میں بھی خطیر اضافہ متوقع ہے۔

 

شیئر: