Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لیبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، 51 ہلاک یا لاپتہ

حالیہ برسوں میں لیبیا افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے جنگ اور غربت سے بھاگنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم گزرگاہ بن کر ابھرا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
ایک مانیٹرنگ گروپ نے جمعے کے روز  یہ کہا ہے کہ لیبیا کے ساحل کے قریب گزشتہ ہفتے درجنوں تارکینِ وطن کو یورپ لے جانے والی ایک کشتی الٹ گئی، جس میں 51 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ابریں گروپ مشرقی لیبیا میں تارکینِ وطن کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے، کے مطابق اس حادثے میں 10 افراد زندہ بچ گئے۔ یہ حادثہ 12 جون کو بحیرۂ روم میں شمالی افریقی ملک کے مشرقی حصے کے قریب پیش آیا۔
گروپ کے مطابق 11 لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ 40 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
یہ بحیرۂ روم کے اس حصے میں پیش آنے والا تازہ سانحہ ہے۔ لیبیا کا ساحل شمالی افریقہ سے یورپ بہتر زندگی کی تلاش میں جانے والے تارکینِ وطن کے لیے روانگی کے اہم مقامات میں سے ایک ہے۔ سمگلر ان لوگوں کو چھوٹی اور غیر محفوظ کشتیوں میں ٹھونس دیتے ہیں، اور اس خطرناک سمندری سفر کے دوران ہزاروں افراد جان سے چلے جاتے ہیں۔
مشرقی شہر طبرق میں لیبیا کے ساحلی محافظ دستے اور ہلالِ احمر نے اطلاع دی کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاشیں بہہ کر ساحل کے قریب آنا شروع ہو گئی ہیں۔ ساحلی محافظوں نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں امدادی ٹیموں کو سفید کفن نما تھیلوں میں لاشیں ساحل پر لاتے ہوئے دکھایا گیا۔
بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق، اس سال یکم جنوری سے 16 مئی کے درمیان بحیرۂ روم کے وسطی راستے میں 800 سے زائد تارکینِ وطن ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔ تنظیم نے کہا کہ گزشتہ سال اس راستے پر 1,300 سے زیادہ افراد جان سے گئے یا لاپتہ ہو گئے تھے۔
حالیہ برسوں میں لیبیا افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے جنگ اور غربت سے بھاگنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم گزرگاہ بن کر ابھرا ہے، حالانکہ 2011 میں نیٹو کی حمایت سے ہونے والی بغاوت کے بعد ملک انتشار کا شکار ہو گیا تھا، جس میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے آمر معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹا کر قتل کر دیا گیا تھا۔

رواں سال یکم جنوری سے 16 مئی کے درمیان بحیرۂ روم کے وسطی راستے میں 800 سے زائد تارکینِ وطن ہلاک یا لاپتہ ہوئے (فوٹو: اے پی)

گزشتہ چند برسوں میں انسانی سمگلروں نے لیبیا میں موجود افراتفری سے فائدہ اٹھایا ہے اور وہ ملک کی طویل سرحدوں کے ذریعے تارکینِ وطن کو سمگل کرتے ہیں جو چھ ملکوں سے ملتی ہیں۔ ان افراد کو عموماً بہت بڑی تعداد میں اور ناکافی سہولیات والی کشتیوں، حتیٰ کہ ربڑ کی کشتیوں میں سفر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
جن افراد کو پکڑ کر واپس لیبیا بھیج دیا جاتا ہے، انہیں سرکاری حراستی مراکز میں رکھا جاتا ہے جہاں بدسلوکی عام ہے، جن میں جبری مشقت اور تشدد شامل ہے۔ قوامِ متحدہ کے مقرر کردہ تفتیش کاروں کے مطابق یہ تمام کارروائیاں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

شیئر: