Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کی دہائیوں تک زبردستی ’بچے گود لیے‘ جانے پر معذرت

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ہم متاثرہ ماؤں سے دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے جمعرات کو سنہ 1949 سے سنہ 1976 کے درمیان انگلینڈ اور ویلز میں غیر شادی شدہ ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے اندازاً ایک لاکھ 85 ہزار بچوں کو زبردستی گود لیے جانے پر باضابطہ طور پر معذرت کر لی ہے، اور اس عمل کو ’برطانوی تاریخ کے لیے ایک سیاہ دھبہ‘ قرار دیا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس سکینڈل کے دوران ماؤں کو دباؤ ڈال کر اپنے بچوں سے جدا ہونے پر مجبور کیا گیا جن میں بہت سی کم عمر لڑکیاں بھی شامل تھیں۔ معاشرتی، ادارہ جاتی اور خاندانی دباؤ کے ذریعے انہیں یہ باور کرایا گیا کہ ان کے لیے بچوں کو گود دینا ہی واحد راستہ ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان ماؤں سے دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہیں جنہیں ماں کے کردار کے لیے مناسب تصور نہیں کیا گیا، اور جنہیں اُن بچوں کی پرورش سے روکا گیا جنہیں وہ بے حد چاہتی تھیں اور جو دہائیوں سے اس جدائی کا بوجھ برداشت کر رہی ہیں۔‘
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ شرمندگی آپ مائوں کی نہیں ہے۔ یہ کبھی آپ کی نہیں تھی۔ یہ شرمندگی ہماری ہے۔‘
برطانوی وزیرِاعظم نے ان متاثرہ افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اس معافی کے لیے مہم چلائی اور ’غیر معمولی جرأت کے ساتھ اپنی دردناک کہانیاں بیان کیں اور بار بار سچ سامنے لانے کے لیے جدوجہد کی۔‘
یہ معذرت اس وقت سامنے آئی ہے جب چار سال قبل ایک پارلیمانی کمیٹی نے باضابطہ معافی کی سفارش کی تھی۔
آسٹریلیا کی حکومت نے 2013 میں بچے زبردستی گود لینے کے معاملے پر تاریخی معافی مانگی تھی جبکہ آئرلینڈ نے 2021 میں ایسا کیا۔
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے ڈاؤننگ سٹریٹ میں متاثرہ افراد کے ایک گروپ سے ملاقات کے بعد برطانوی قانون سازوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہزاروں ماؤں، بچوں اور خاندانوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
’سزا‘
انہوں نے کہا کہ ’ریاست اس پورے نظام کی ذمہ دار ہے جس نے جبری گود لیے جانے کے عمل کو مالی مدد فراہم کی اور قانونی تحفظ فراہم کر کے ان طریقوں کو ممکن بنایا۔ میں اس انتظامی ناکامی پر تہہِ دل سے معذرت خواہ ہوں۔‘

گزشتہ ماہ چرچ آف انگلینڈ نے بھی بچے زبردستی گود لینے میں اپنے کردار پر معذرت کی تھی (فوٹو: اے ایف پی)

سابق لیبر وزیر صحت این کین نے بتایا کہ ’سنہ 1966 میں وہ جب 17 سال کی تھیں تو ویلز میں بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ان کے نوزائیدہ بیٹے کو ان سے چھین لیا گیا۔‘
اس سکینڈل کی تفتیش کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کو یہ معلوم ہوا کہ ماؤں کے ساتھ کئی طریقوں سے بدسلوکی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق زچگی کے دوران اور اس کے بعد ہسپتالوں میں درد کم کرنے والی ادویات جان بوجھ کر ’سزا‘ کے طور پر نہیں دی جاتی تھیں۔
بعض اوقات بچوں کو روتی ہوئی ماؤں کی گود سے زبردستی چھین کر گود دینے کے لیے لے جایا جاتا تھا۔
گزشتہ ماہ چرچ آف انگلینڈ نے بھی زبردستی بچے گود لینے میں اپنے کردار پر معذرت کی تھی۔

شیئر: