صدر ٹرمپ کی قطر میں بالواسطہ مذاکرات کے اختتام پر ’بہت اچھی ملاقاتوں‘ کی تعریف
ماہرین کا خیال ہے کہ گزشتہ ہفتے کے تصادم کے بعد بھی دونوں ممالک کا مذاکرات کی میز پر رہنا ایک مثبت اشارہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد کشیدگی کو کم کرنا اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
امریکی صدر نے دوحہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ’بہت اچھی میٹنگز‘ ہوئیں جبکہ اس سے قبل مذاکرات کے طریقہ کار پر پیدا ہونے والے تنازع کے باعث ان مذاکرات کی کامیابی پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے۔
ایران نے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ قطر کے دارالحکومت میں فریقین کے درمیان مفاہمت کی اس یادداشت پر کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہوں گے جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا خاتمہ ہے جو فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوئی تھی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے صدارتی طیارے ’ایئرفورس ون‘ پر سوار ہونے سے قبل صحافیوں کو بتایا ’جہاں تک معاملات کا تعلق ہے، ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عمل اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم نے ان پر سخت وار کیا تھا... لیکن اب ہمارے تعلقات بہت اچھے جا رہے ہیں۔‘
لوسرن سربراہی کانفرنس اور مفاہمت کی یادداشت
قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی یہ مفاہمت گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کا نتیجہ ہے۔ اس معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی، محصور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، اور تنازع کے مستقل خاتمے سمیت ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کے لیے ایک ٹائم فریم شامل ہے۔
ایک سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دوحہ میں قطری اور پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ تکنیکی سطح کے مذاکرات لوسرن کانفرنس میں ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے کے لیے ہیں۔
دوسری طرف تہران نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ دوحہ میں براہ راست بات چیت ہو رہی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کر رہے ہیں تاہم ان کا امریکی حکام سے کسی بھی سطح پر ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
امریکی ایلچی جیرڈ کوشنر اور سٹیو وٹکوف نے قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات تو کی لیکن وہ ان تکنیکی مذاکرات کا حصہ نہیں تھے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور لبنان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
گزشتہ ماہ معاہدے پر دستخط کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان خلیج میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جہاں ایران نے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے جواباً 10 ایرانی فوجی اہداف پر حملے کیے۔ ایران نے بھی کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اس حوالے سے کہا ’جب اتنی بڑی جنگ ختم ہوتی ہے تو عملدرآمد کے چیلنجز، واقعات اور نظریاتی اختلافات ناگزیر ہوتے ہیں، خصوصاً جہاں اسرائیل جیسے فریق شامل ہوں۔‘
لندن کے ’رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ‘ کے تجزیہ کار ایچ اے ہیلیئر کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں ’شفافیت کی کمی‘ ہے اور فریقین عوام میں بالکل مختلف پیغامات بھیج رہے ہیں۔
تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے تصادم کے بعد بھی دونوں ممالک کا مذاکرات کی میز پر رہنا ایک مثبت اشارہ ہے۔
اس وقت قطر میں جاری مذاکرات کے دوران محاذوں پر نسبتاً خاموشی دیکھی جا رہی ہے اور ایران کا اصرار ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا لازمی شامل ہونا چاہیے۔