پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں دل کی ایک عام اور خطرناک سمجھی جانے والی بیماری ’ایٹریل فبریلیشن‘ یعنی دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کے علاج کے لیے دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی ’پلسڈ فیلڈ ابلیشن‘ کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جس سے دل کے اس عارضے کا علاج اب محفوظ طریقے سے ممکن ہو سکے گا۔
پمز میں متعارف کروائی جانے والی اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے تحت 6 جولائی کو ہونے والے پہلے پروسیجر کے لیے مریض کے انتخاب سمیت عملے اور ڈاکٹروں کی خصوصی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔
ملک کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری سطح پر شروع ہونے والے اس پروگرام کے تحت اب مریضوں کا علاج روایتی طریقے سے دل کو جلانے یا جمانے کی بجائے جدید اور محفوظ برقی لہروں کے ذریعے کیا جائے گا، جو ارد گرد کی رگوں کو نقصان پہنچائے بغیر صرف متاثرہ خلیات کو ختم کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں
-
پیرس کا انوکھا ہسپتال جہاں گدھے ذہنی مریضوں کا علاج کر رہے ہیںNode ID: 904889
طبی ماہرین کے مطابق، ایٹریل فبریلیشن (اے ایف ) دل کا ایک ایسا پوشیدہ اور سنگین مسئلہ ہے جو اگر بے قابو ہو جائے تو انسان میں فالج کا خطرہ پانچ گنا اور ہارٹ فیلیر کا خطرہ تین گنا بڑھا دیتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق اس وقت 30 سے 50 لاکھ پاکستانی اس مرض کا شکار ہیں، جن میں سے اکثریت یہ جانے بغیر زندگی گزار رہی ہے کہ ان کا دل کسی بھی وقت دھڑکنا بند کر سکتا ہے یا انہیں معذور بھی بنا سکتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پمز میں اس جدید علاج کو کیسے ممکن بنایا گیا؟
پمز میں شعبہ امراضِ قلب کے پروفیسر اور اس منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر اختر علی بندیشہ نے اس حوالے سے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’پاکستان نہ صرف سرکاری سطح پر پہلی بار یہ جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے جا رہا ہے، بلکہ پورے خطے میں انڈیا کے بعد پاکستان دوسرا ایسا ملک ہے جس نے یہ مشین منگوائی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی کمپنی ’بوسٹن سائنٹیفک‘ کی تیار کردہ یہ جدید مشین براہِ راست امریکہ سے امپورٹ کی گئی ہے۔‘
ڈاکٹر اختر علی بندیشہ کے مطابق وفاقی حکومت نے پمز کے لیے سات کروڑ روپے سے زائد کا خصوصی فنڈ فراہم کیا تھا، جس کے تحت ہسپتال میں موجود پرانی اور آؤٹ ڈیٹڈ مشینری کو بدلا جا رہا ہے اور اس نئی ٹیکنالوجی سمیت دیگر جدید طبی آلات منگوائے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر اختر علی بندیشہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں اس سے قبل ایٹریل فبریلیشن بیماری کا علاج’کیتھیٹر ابلیشن‘ کے روایتی طریقۂ کار کے ذریعے کیا جاتا رہا ہے، جس میں مریض کے دل کے اس مخصوص خراب حصے کو، جہاں سے دھڑکن بے ترتیب ہوتی ہے، یا تو شدید گرمی (ریڈیو فریکوئنسی) کے ذریعے جلایا جاتا تھا یا پھر شدید سردی (کرائیو تھراپی) کے ذریعے منجمد کر دیا جاتا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ تاہم، اس روایتی طریقۂ کار میں ہمیشہ یہ خطرہ موجود رہتا تھا کہ دل کے بالکل قریب واقع خوراک کی نالی، پھیپھڑوں کی اہم رگیں یا دیگر حساس اعصاب بھی اس شدید تپش یا سردی کی زد میں آ کر متاثر ہو سکتے تھے۔
اُن کے مطابق پمز میں متعارف کروائی جانے والی جدید ’پلسڈ فیلڈ ابلیشن‘ ٹیکنالوجی کے تحت اب یہ علاج کسی بڑے آپریشن کے بغیر کیا جا سکے گا۔
ڈاکٹر اختر علی بندیشہ نے کہا کہ ‘اس نئے طریقۂ علاج میں ٹانگ کی ایک باریک رگ کے راستے ایک انتہائی پتلی تار دل تک پہنچائی جاتی ہے، جو دل کو جلانے یا جمانے کی بجائے صرف مائیکرو سیکنڈز کے لیے مخصوص برقی لہریں (کرنٹ) خارج کرتی ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اس علاج کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ آس پاس کی تمام صحت مند رگوں اور خوراک کی نالی کو بالکل محفوظ رکھتے ہوئے، انتہائی مہارت سے صرف انہی بیمار خلیات کو چُن کر ختم کرتا ہے جو بیماری کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پمز میں مریضوں کا یہ علاج بالکل مفت کیا جائے گا، تاہم اس سہولت کے لیے اہل مریضوں کا تعین ہسپتال کے طے شدہ ضوابط کے مطابق ہی کیا جائے گا۔‘
اس نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ماہرانہ تجزیہ جاننے کے لیے جب راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر ولید عباسی سے گفتگو کی گئی، تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ نسبتاً ایک نئی ٹیکنالوجی ہے اور یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ یہ مشین پاکستان میں پہلی بار ہی درآمد کی گئی ہے۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں یہ نظام کتنا کامیاب رہتا ہے، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، لیکن چونکہ دنیا بھر میں یہ جدید ترین طریقۂ کار اپنایا جا رہا ہے، اس لیے پاکستان میں بھی اس کے آغاز کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ’دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی دل کی دھڑکن کا اچانک تیز ہونا ایک عام مسئلہ ہے، مگر یہاں سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اس بیماری کی بروقت تشخیص ہی نہیں ہو پاتی۔ ‘
ڈاکٹر ولید کے مطابق تشخیص میں تاخیر کے باعث لوگ فالج یا دل کے دیگر سنگین عوارض کا شکار ہو جاتے ہیں، اور پاکستان میں امراضِ قلب کا علاج پہلے ہی اس قدر مہنگا ہے کہ ایک عام مریض کے لیے ایسے جدید ترین اور مہنگے علاج کے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
اس حوالے سے پمز کی ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہسپتال کے کارڈیک سینٹر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘













