Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیفا ورلڈ کپ: راؤنڈ آف 16 میں کیا ہونے جا رہا ہے ؟ عامر خاکوانی کا تجزیہ

اس ورلڈ کپ میں تین میزبان ملک ہیں، اور ان میں سے دو میکسیکو اور امریکہ اب بھی مقابلے میں ہیں (فوٹو: فیفا)
ہمارا چھوٹا بیٹا عبداللہ رونالڈو کا فین ہے. پچھلے چند دنوں سے اس کی خواہش تھی کہ ہر اچھی ٹیم ہار جائے اور صرف پرتگال ہی میدان میں رہے۔
وہ سپین کی ہار کا شدت سے خواہش مند تھا۔ میں حیران تھا کہ ہسپانوی لوگوں نے اس کا کیا بگاڑا ہے؟ پتہ چلا کہ رائونڈ آف 16 میں پرتگال کا متوقع حریف سپین ہوسکتا ہے، اس لیے ہمارا برخوردار پہلے ہی سے سپین کا پتا صاف کرنا چاہتا تھا۔ خیر قدرت بھی ناانصافی نہیں کرتی۔ سپین کی ٹیم نے اپنا میچ آسانی سے جیت لیا، وہ رائونڈ آف 16 میں پہنچ چکی ہے اور اس رائونڈ کے بڑے میچز میں سے ایک سپین اور پرتگال کا میچ ہوگا۔
 رائونڈ آف 16 میں کئی دیگر میچ بھی اچھے اور ٹف ہوں گے۔ ان پر بات کرتے ہیں مگر پہلے ایک نظر رائونڈ آف 32 پر۔
رائونڈ آف 32کے ڈرامائی اتار چڑھاؤ
2026کا یہ ورلڈ کپ پرانے تمام عالمی مقابلوں سے مختلف ہے۔ 48 ٹیمیں تھیں، اس لیے تاریخ میں پہلی بار راؤنڈ آف 16 سے پہلے راؤنڈ آف 32 بھی کھیلا گیا۔ یعنی ناک آؤٹ کا راستہ پہلے سے کہیں طویل ہو گیا ہے۔ اور اس طویل راستے نے ابھی سے بڑے بڑوں کو نگلنا شروع کر دیا ہے۔
سب سے بڑا اپ سیٹ جرمنی کا ہوا۔ چار بار کی چیمپئن جرمنی پیراگوئے کے ہاتھوں پنالٹی ککس پر باہر ہو گئی۔ نیدرلینڈز، جسے اس بار خاصا مضبوط سمجھا جا رہا تھا، بعض ماہرین تو اس کے ورلڈ کپ کے فائنل تک جانے کی پیش گوئی کر رہے تھے، وہ بھی مراکش سے ہار کر گھر لوٹ گئی۔
رات مصر نے بھی آسٹریلیا کو پنالٹی ککس پر ہرا دیا۔ مصر آسٹریلیا سے رینکنگ میں کم درجے کی ٹیم ہے اور تاریخ میں پہلی بار 16کے رائونڈ میں پہنچی ہے، یہ بڑی کامیابی ہے۔
 بعض ٹیموں نے البتہ زیادہ اچھے مارجن سے اپنے میچز جیت لیے۔ فرانس نے سویڈن کو آئوٹ کلاس کر دیا، تین صفر سے جیتا، امباپے نے دو گول کیے۔ سپین نے آسٹریا کو تین صفر سے ہرا کر رونالڈو کے فینز کو خاصا مایوس کیا۔ اسی طرح میکسکو، امریکہ، کینیڈا، ناروے اور سوئٹزرلینڈ نے بھی اپنے میچز آسانی سے جیت لیے اور رائونڈ آف 16 میں چلے گئے۔ انگلینڈ نےکپتان ہیری کین کے دو گولوں کی بدولت کانگو کو ہرا دیا۔ برازیل نے سخت مقابلے کے بعد جاپان کو دو ایک سے ہرایا۔ پرتگال نے بھی خاصی مشکل سے کروشیا کو ہرایا، رونالڈو نے ایک گول پنالٹی کک پر کیا، مگر اس کا کھیل اتنا متاثرکن نہیں رہا، کوچ کو اسے بعد میں تبدیل کرنا پڑا۔
 بعض ٹیموں کے ساتھ بیڈ لک بھی ہوئی۔ رات نسبتاً گمنام ٹیم کوبے وردے (کوپے وردے)نے ارجنٹائن سے شاندار فائٹ کی اور میسی کی ٹیم کو ناکوں چنےچبوا دیے۔ تین دو سے میچ ارجنٹائن جیتا، میسی نےایک گول بھی کیا، وہ اب ٹاپ سکورر ہیں، مگر کوبے وردےنے اپنے کھیل سے شائقین کے دل جیت لیے۔

لیونل میسی 38 برس کی عمر میں بھی رک نہیں رہے۔ وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے بڑے گول سکورر بن چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

سینیگال نے بیلجیئم کے خلاف دو صفر کی لیڈ لے لی تھی، میچ کے آخری پانچ منٹس میں مگر بیلجیئم نے پانسہ پلٹ دیا۔ دو گول کر کے میچ برابر کر دیا اور اضافی وقت میں ایک مزید گول کر کے میچ جیت لیا۔ گھانا نے بھی اچھی فائٹ کی، مگر کولمبیا نے ایک صفر سے میچ جیت لیا۔ یوں سینیگال، گھانا اور الجزائر کی افریقی ٹیمیں باہر ہوگئیں۔ایشیا کی اہم ٹیم جاپان بھی آوٹ ہوگئی۔
راؤنڈ آف 16کی ٹیمیں
مصر کی ٹیم عرب بھی ہے اور تکنیکی طور پر شاید افریقی بھی کہلاتی ہے۔ یہ دو مسلمان ٹیمیں مصر اور مراکش رائونڈ آف 16 میں پہنچی ہیں۔ لاطینی امریکہ سے برازیل، ارجنٹائن، میکسیکو، پیراگوئے اور کولمبیا پہنچی ہیں۔ کینیڈا اور امریکہ نارتھ امریکی ہیں جبکہ باقی سات ٹیمیں یورپی ہیں (انگلینڈ، فرانس، سپین، بیلجیئم، سوئٹزرلینڈ، ناروے اور پرتگال)۔
راؤنڈ آف 16 کے مقابلے
پرتگال بمقابلہ سپین: ورلڈ کپ کا اب تک کا سب سے بڑا معرکہ
راؤنڈ آف 16 کا سب سے بڑا اور نظریں جمانے والا مقابلہ یہی ہے۔ دو پڑوسی، دو یورپی طاقتیں، آمنے سامنے۔ ماہرین تھوڑا سا ایڈوانٹیج سپین کو دے رہے ہیں۔ اس کی وجوہات ہیں۔ سپین موجودہ یورپی چییمپئن ہے۔اس کا اصل ہتھیار اس کا مڈ فیلڈ ہے جبکہ نوجوان لامین یامال، پیدری اور نیکو ولیمز جیسے کھلاڑی حریف کے دفاع کے لیے مسلسل دردِ سر بنے رہتے ہیں۔ سپین گیند کو اپنے قبضے میں رکھ کر مخالف کو تھکا دینے کا فن جانتی ہے۔ البتہ ایک کمزوری ہے، اور وہ یہ کہ سپین کے پاس کوئی ایسا خالص سنٹر فارورڈ نہیں جو تنگ اور سخت میچوں میں مستقل گول کر سکے۔
دوسری طرف پرتگال کو کم مت سمجھیے۔ اس کا سکواڈ بہت گہرا ہے۔ برونو فرنانڈس اور ویتینیا مڈ فیلڈ کو کنٹرول دیتے ہیں، اور روبن ڈیاس دفاع کا مضبوط لنگر ہے۔ یہ مت بھولیے کہ  کرسٹیانو رونالڈو ابھی موجود ہے۔ کروشیا کے خلاف اس نے پنالٹی پر گول کیا، جو حیران کن طور پر اس کے پورے ورلڈ کپ کیریئر میں ناک آؤٹ مرحلے کا پہلا گول تھا۔ یہ غالباً رونالڈو کا آخری ورلڈ کپ ہے، اور ایسے کھلاڑی آخری وقت میں کیا کر گزریں، کوئی نہیں جانتا۔

سب سے بڑا اپ سیٹ جرمنی کا ہوا۔ چار بار کی چیمپئن جرمنی پیراگوئے کے ہاتھوں پنالٹی ککس پر باہر ہو گئی (فوٹو: روئٹرز)

پرتگال کی حکمتِ عملی وہی رہے گی، مڈ فیلڈ سنبھالو اور گیند کسی طرح رونالڈو تک پہنچاؤ۔یہی پرتگال کی سٹریٹیجی ہے اور اس پر تنقید بھی ہو رہی ہے کہ وہ رونالڈو سینٹرک کھیل رہے ہیں جبکہ رونالڈ کی فارم بھی ویسی نہیں اور بڑے میچز میں مخالف دفاعی کھلاڑی اسے سختی سے مارک کر کے رکھیں گے، گیند نہیں لینے دیں گے۔ دیکھیں سپین کےخلاف پرتگال کیا حکمت عملی اپناتا ہے۔ بہرحال جیت کے لیے رونالڈو کو کرشمہ دکھانا ہوگا۔ یاد رہے کہ ماہرین ورلڈ کپ سے پہلے ہی سپین کو فیورٹ کہہ رہے ہیں۔
فرانس اور پیراگوئے، دو مختلف طاقتیں
ان دونوں میچوں میں فیورٹ کا فیصلہ آسان ہے۔ فرانس کا مقابلہ پیراگوئے سے ہے، اور فرانس واضح فرق سے فیورٹ ہے۔ اب تک دیکھا جائے تو  فرانس اس پورے ٹورنامنٹ کی سب سے مکمل اور متوازن ٹیم ہے۔ اس کا دفاع رفتار، طاقت اور تجربے کا حسین امتزاج ہے، آگے امباپے، عثمان دیمبیلے اور اولیسے کی تکون کسی بھی لمحے میچ پلٹ سکتی ہے۔ فرانس نے راؤنڈ آف 32 میں سویڈن کو قریب نہیں لگنے دیا۔ اس سے پہلے دیمبیلے نے ہیٹ ٹرک کی تھی۔ فرانس کے لیے ایک ہی خطرہ ہے۔ پیراگوئے ایک سخت جان، دفاعی ٹیم ہے جس نے جرمنی کو باہر کیا۔ فرانس کو اس کے مضبوط دفاع کو توڑنا ہوگا۔
ارجنٹائن بمقابلہ مصر
ارجنٹینا کا سامنا مصر سے ہے اور دفاعی چیمپئن یہاں بھی واضح فیورٹ ہے۔ اصل کہانی وہی پرانی ہے، لیونل میسی۔ 38 برس کی عمر میں بھی وہ رک نہیں رہا۔ وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا گول سکورر بن چکا ہے ۔ارجنٹینا کا دفاع بے حد منظم ہے، کھلاڑی مڈ فیلڈ میں محنت کر کے گیند میسی تک پہنچاتے ہیں تاکہ وہ صرف گول کرنے پر توجہ دے۔
البتہ ایک بات یاد رکھیں۔ کوبے وردے جیسی نئی نویلی ٹیم نے ارجنٹینا کو تین دو پر خاصا پریشان کیا۔ سکواڈ کے کئی بڑے کھلاڑیوں کی عمر ڈھل رہی ہے، اور یہ غالباً میسی کا بھی آخری ورلڈ کپ ہے۔ اس لیے یہ ٹیم جتنی خطرناک ہے، اتنی ہی جذباتی طور پر بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ مصر کو ہمت کرنا ہوگی، محمد صلاح کا بھی شاید آخری ورلڈ کپ ہو۔ نوجوان امام عاشور اور دیگر فارورڈز کو کرشمہ دکھانا ہوگا، ورنہ مصر کا سفر یہاں تمام۔
 مراکش بمقابلہ کینیڈا
 مراکش 2022 میں سیمی فائنل تک پہنچ کر پوری دنیا کو حیران کر چکا ہے۔  اس میچ میں مراکش کو قدرے برتری حاصل ہے۔ اس کی طاقت جمی ہوئی مضبوط دفاعی دیوار، تیز جوابی حملے اور کپتان اشرف حکیمی کا کھیل ہے۔ اسماعیل سائیبری اہم گول سکورر کھلاڑی ہیں جنہوں نے گروپ کے تینوں میچز میں گول کیے۔ سائیبری اس ورلڈ کپ کا سب سے بڑا نیا چہرہ ہیں۔ وہ نیدرلینڈز ہی کے کلب پی ایس وی کے کھلاڑی ہیں، اور خبریں ہیں کہ بائرن میونخ انہیں خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

فرانس نے سویڈن کو آئوٹ کلاس کر دیا، تین صفر سے جیتا، امباپے نے دو گول کیے (فوٹو: فیفا)

بس مراکش کو ریلیکس ہو کر کینیڈا کو ایزی نہیں لینا چاہیے۔ یہی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ یاد رکھیں کہ کینیڈا اس بار میزبان ہے، اپنے میدان اور اپنے شور مچاتے تماشائیوں کے سامنے کھیل رہا ہے، اور 2022 کے مقابلے میں کہیں بہتر ٹیم ہے۔ دوسری بات، نیدرلینڈز کے خلاف مراکش نے غلبہ تو رکھا مگر گول کے کئی سنہری موقعے ضائع کیے، حکیمی کی دو کوششیں تو گول پوسٹ کی لکڑی سے ٹکرا کر واپس آئیں۔ اپنی فنشنگ بہتر کرنا ہوگی۔
برازیل بمقابلہ ناروے
یہ میچ دراصل ناروے کے مشہور سٹرائیکر ایرلینڈ ہالینڈ یا ہالانڈ کا امتحان ہوگا۔ برازیل کو ماہرین قدرے فیورٹ قرار دے رہے ہیں مگر یہ اتنا آسان نہیں۔ برازیل شروع میں مراکش سے ڈرا کھیل کر لڑکھڑائی، مگر پھر ہیٹی اور سکاٹ لینڈ کو تین تین گول سے ہرا کر رفتار پکڑ گئی۔ وینی سیئس جونیئر گول پر گول کر رہے ہیں اور میتھیوس کونیا سنٹر فارورڈ کا دیرینہ مسئلہ حل کرتے نظر آتے ہیں۔ برازیل کی کمزوری اس کا مڈ فیلڈ ہے، جہاں وہ اب بھی مکمل مطمئن نہیں۔
دوسری طرف ناروے 28 برس بعد ورلڈ کپ میں واپس آیا ہے، اور اس کی سب سے بڑی طاقت ایرلنگ ہالینڈ کی طوفانی فارم ہے، جو اب تک پانچ گول کر چکے ہیں۔ مارٹن اودیگارڈ اس کے ساتھ تخلیقی کام سنبھالتا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ ناروے کا حملہ اس کے دفاع سے کہیں بہتر ہے۔ یعنی ناروے اتنا ہی آگے جائے گا جتنا ایرلینڈ ہالینڈ اسے اپنے کندھوں پر لے جا سکیں گے۔ اگر انہوں نے برازیل کے کمزور دفاع کا فائدہ اٹھا لیا تو یہ میچ کسی بھی طرف جھک سکتا ہے۔
دو میزبان ، دونوں کے الگ الگ چیلنج
اس ورلڈ کپ میں تین میزبان ملک ہیں، اور ان میں سے دو، میکسیکو اور امریکہ، اپنے اپنے کڑے امتحان میں ہیں۔ میکسیکو کا سامنا انگلینڈ سے ہے۔  انگلینڈ ہلکا سا فیورٹ ہے، ہیری کین اچھی فارم میں ہے اور انگلینڈ نے کانگو کو دو ایک سے ہرایا۔ البتہ میکسیکو کو گھر میں کھیلتے ہوئے کم سمجھنا خطرناک ہوگا۔ اس نے گروپ کے تینوں میچ جیتے، مسلسل تین بار اپنے گول پوسٹ پر ایک بھی گول نہیں لگنے دیا، اور ایکواڈور کو دو صفر سے ہرا کر آگے بڑھا۔ یاد رہے کہ میکسیکو ورلڈ کپ میں اپنی بہترین کارکردگی ہمیشہ گھر ہی میں دکھاتا رہا ہے۔ 

مراکش 2022 میں سیمی فائنل تک پہنچ کر پوری دنیا کو حیران کر چکا ہے (فوٹو: اے پی اے نیوز)

امریکہ بمقابلہ بیلجیئم
 دوسری طرف ایک اور میزبان امریکہ کا مقابلہ بیلجیئم سے ہے، اور یہ تقریباً برابر کی ٹکر ہے۔ امریکہ ایک ورلڈ کپ میں تین میچ جیتنے والی پہلی امریکی ٹیم بن چکا ہے، اس نے بوسنیا کو دو صفر سے ہرایا۔ ایڈمز، مکینی اور ٹلمین کی مڈ فیلڈ تکون اچھا کام کر رہی ہے اور امریکی فارورڈ بالوگن آگے خطرناک ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ بیلجیئم نے 2014 کے ورلڈ کپ میں بھی امریکہ کو باہر کیا تھا، تو یہ 12 برس پرانے حساب چکانے کا موقع بھی ہے۔ بیلجیئم کی سنہری نسل اب ڈھل رہی ہے، مگر اس میں اب بھی میچ جتانے کی صلاحیت باقی ہے۔
 کولمبیا بمقابلہ سوئٹزرلینڈ
اس مقابلے میں کولمبیا کو فیورٹ کہا جا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی طاقت اس کا مسلسل، بے رحم حملہ ہے۔ لوئیس ڈیاز، جون آریاس اور تجربہ کار جیمز روڈریگز سے سجی یہ ٹیم ہر وقت آگے بڑھ کر کھیلتی ہے اور فی میچ اوسطاً 20 کے قریب شاٹس لگاتی ہے۔ تاہم سوئٹزرلینڈ ایک منظم اور دفاعی ٹیم ہے جس نے الجزائر کو دو صفر سے ہرایا، مگر کولمبیا کے اس مسلسل دباؤ کو 90 منٹ روکنا اس کے لیے آسان نہ ہوگا۔
اگر یہ ٹیمیں جیت گئیں تو آگے کیا؟
بس مختصر سا نقشہ ذہن میں رکھ لیجیے۔ فرانس اگر جیتا تو اس کا اگلا مقابلہ کینیڈا اور مراکش کے فاتح سے ہوگا، یعنی مراکش جیتی تو کوارٹر فائنل میں فرانس اور مراکش آمنے سامنے ہوں گے۔
برازیل اور ناروے کا فاتح، میکسیکو اور انگلینڈ کے فاتح سے ٹکرائے گا، یعنی برازیل اور انگلینڈ دونوں جیتے تو ان کا مقابلہ ہوگا۔

میسی اور رونالڈو اپنے آخری ورلڈ کپ کو یادگار بنانے کے لیے میدان میں اتریں گے (فوٹو:مارکا)

اسی طرح پرتگال اور سپین کا فاتح، امریکہ اور بیلجیئم کے فاتح سے کھیلے گا۔ ارجنٹینا اور مصر کا فاتح، کولمبیا اور سوئٹزرلینڈ کے فاتح سے۔ باقی آگے کی باتیں آگے، ابھی نظریں صرف راؤنڈ آف 16 پر۔
میں سمجھتا ہوں کہ اسی مرحلے میں فٹبال کا اصل حسن کھلتا ہے۔ یہاں گروپ میچوں والی رعایت ختم ہو جاتی ہے، ایک غلطی اور گھر واپسی۔ یہی وہ دباؤ ہے جو بڑے ناموں کے ہاتھ پاؤں پھلا دیتا ہے اور چھوٹی ٹیموں کو ہیرو بنا دیتا ہے۔ کہیں میسی اور رونالڈو اپنے آخری ورلڈ کپ کو یادگار بنانے کے لیے میدان میں اتریں گے، تو کہیں سائیبری اور امام عاشور نئے چہرے اپنی پہچان بنانے کو بےتاب ہوں گے۔
دعا ہے کہ یہ ورلڈ کپ ہمیں ایسا فٹبال دکھائے جو برسوں یاد رہے، کھیل جیتے اور بہتر ٹیم آگے بڑھے۔ آمین۔
میری اضافی دعا یہ ہے کہ مراکش اور مصر کرشمہ دکھا کر کوارٹر فائنل تک تو جائیں، آگے ان کی قسمت۔ البتہ اس دعا کے دوسرے نصف میں میسی فینز کے لیے تباہ کاری پوشیدہ ہے تو میسی فینز سے پیشگی معذرت۔

شیئر: