پاکستان میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گاڑیوں کے خریدار ان دنوں ایک بار پھر پُرامید ہیں کہ شاید اب ملک میں چھوٹی گاڑیاں ان کی قوتِ خرید میں آ جائیں گی۔
صارفین کی اس امید کی وجہ وفاقی حکومت کی زیرِ غور وہ نئی آٹو پالیسی ہے جس کا نفاذ اسی ماہ متوقع ہے اور وزارتِ صنعت و پیداوار کے حکام کا دعویٰ ہے کہ اس پالیسی کے آتے ہی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی اور ایک عام خریدار کے لیے 20 سے 25 لاکھ روپے کے درمیان نئی گاڑی حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔
تاہم، موجودہ معاشی حالات میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ حکومت یہ توجہ طلب کمی آخر کس طرح اور کن اقدامات کے ذریعے ممکن بنا سکتی ہے؟
مزید پڑھیں
زیرِنظر سطور میں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے ایک نئی آٹو پالیسی تیار کی ہے۔ اس پالیسی میں جہاں دیگر کئی پہلوؤں پر غور کیا گیا ہے، وہیں حکومت کا یہ ماننا ہے کہ اس کے نتیجے میں ملک کے اندر چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی واضح کمی لائی جا سکے گی۔
اس پالیسی کے تحت صارفین کے لیے قیمتوں کو کم کرنے اور مینوفیکچرنگ لاگت کو نیچے لانے کے لیے حکومت مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے۔
نئی مجوزہ پالیسی کے تحت حکومت کی جانب سے 850 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں پر عائد مجموعی ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی شرح کو 66 فیصد سے کم کر کے 42 فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔
اس کے ساتھ ہی کسٹمز ڈیوٹی کو بھی 50 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کیا جا رہا ہے، تاکہ گاڑیوں کی بنیادی قیمت واضح طور پر نیچے آ سکے۔
علاوہ ازیں مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں کی لاگت کو قابو میں رکھنے کے لیے گاڑیوں کے پرزہ جات (سی کے ڈی کٹس) پر عائد امپورٹ ڈیوٹی کو 35 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کیا جا رہا ہے۔
حکومت کا طویل مدتی ہدف ملک میں ماحول دوست اور سستی گاڑیوں کو متعارف کروانا ہے۔ اس کے لیے 1000 سی سی یا اس سے کم انجن کیپیسٹی والی چھوٹی الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو ٹیکس مراعات اور استثنیٰ دینے کا پلان تیار کیا گیا ہے تاکہ ایندھن اور امپورٹڈ پارٹس پر انحصار کم سے کم کیا جا سکے۔

یوں وفاقی حکومت مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی 850 سی سی تک کی گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی (50 سے 30 فیصد) اور آٹو پارٹس کی امپورٹ ڈیوٹی میں واضح کمی کر کے مینوفیکچرنگ لاگت کم کرنا چاہتی ہے تاکہ 20 سے 25 لاکھ روپے میں نئی گاڑی کا خواب ممکن ہو سکے۔
اس وقت چھوٹی گاڑیوں کی مارکیٹ کیا ہے؟
پاکستان میں کبھی نو سے دس لاکھ روپے کے بجٹ میں دستیاب چھوٹی گاڑیاں، جیسے کہ سوزوکی آلٹو اب ٹیکسوں کے بھاری بوجھ اور ڈالر کی اڑان کے باعث 30 لاکھ روپے کے ہندسے کو چھو رہی ہیں۔
یہی حال 1000 سی سی کیٹیگری کی دیگر مقبول گاڑیوں کا بھی ہے، جہاں سوزوکی ویگن آر اور کلٹس کی قیمتیں اب 44 لاکھ روپے تک جا پہنچی ہیں، جبکہ پرنس پرل اور یونائیٹڈ الفا جیسی دیگر چھوٹی ہیچ بیکس بھی 22 سے 24 لاکھ روپے سے کم میں دستیاب نہیں ہیں۔
‘اصل فیصلہ کار اسمبلرز کے ہاتھ میں ہے‘
لیکن دوسری جانب پاکستان میں آٹو سیکٹر کے ماہرین ان حکومتی دعوئوں پر زیادہ پر امید نظر نہیں آتے۔ آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف میاں شعیب نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گاڑیوں کی قیمتیں کم ہونے میں کئی عملی رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’قیمتوں میں کمی کا اصل دارومدار حکومت پر نہیں بلکہ مقامی کار اسمبلرز پر ہے کہ وہ ٹیکسوں میں چھوٹ کا فائدہ صارفین تک منتقل کرتے ہیں یا نہیں۔‘
میاں شعیب کے مطابق ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ بعض اوقات کمپنیاں کچھ وقت کے لیے تو قیمتیں نیچے لاتی ہیں، لیکن پھر کسی نہ کسی بہانے انہیں دوبارہ بڑھا دیا جاتا ہے۔

میاں شعیب نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ’حکومت نے اب تک مارکیٹ میں صحت مند مقابلے کی فضا (کمپیٹیشن) پیدا نہیں ہونے دی اور ہمیشہ مخصوص کمپنیوں کو ہی ترجیح دی جاتی رہی ہے۔‘
انہوں نے نئی آٹو پالیسی کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’یہ پالیسی ابھی تک واضح نہیں ہے اور نہ ہی اسے اب تک وزیرِ اعظم کی جانب سے حتمی منظوری مل سکی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے باقاعدہ نفاذ اور عمل درآمد میں تاحال ابہام موجود ہے۔‘












