دریائے کنہار، بہتی ویگو اور مقدمہ: ٹک ٹاکر سلطان ورک نے حادثے سے پہلے اور بعد کیا کہا؟
جمعرات 2 جولائی 2026 15:26
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
سلطان ورک نے اپنے ٹک ٹاک پر ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ تھا اور گاڑی جان بوجھ کر دریا میں نہیں اتاری۔ (فوٹو: ٹک ٹاک، سلطان ورک)
ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے لیے گاڑی دریائے کنہار میں اتارنے والے چار افراد کے خلاف تھانہ ناران میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مانسہرہ پولیس کے مطابق چار افراد کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر دفعہ 188PPC کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
شیخوپورہ پنجاب کے رہائشی سلطان ولد زاہد جمیل، علی عثمان ولد شہباز، محسن خان ولد محمد خان اور آصف علی ولد محمد اکرم کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
چاروں سیاحوں کی جانیں بچانے والے ناران رافٹنگ کے جوانوں (روزی خان ، آفاق ، اظہر ، قیصر اور جواد ) کے لیے ڈی پی او مانسہرہ محمد اظہر خان کی جانب سے تعریفی اسناد کا اعلان بھی کیا گیا۔ جوانوں کو دفتر ڈی پی او میں مدعو کیا گیا ہے جہاں انکی حوصلہ افزائ کے لیے تعریفی اسناد سے نوازا جائے گا۔
یکم جولائی کو سوشل میڈیا پر ایک سیاہ ویگو گاڑی کے دریائے کنہار میں بہنے کی ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں۔
ناران کے علاقے دھم دھمہ میں چند سیاح مبینہ طور پر ٹک ٹاک ویڈیو ریکارڈ کرنے کی غرض سے گاڑی دریا میں لے گئے تھے، تاہم اچانک پانی کا بہاؤ تیز ہوگیا اور گاڑی چند ہی لمحوں میں دریا کی زد میں آکر بہنے لگی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی رافٹنگ ٹیم اور ریسکیو اہلکار موقعے پر پہنچے اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑی میں سوار چاروں افراد کو بحفاظت باہر نکالا تاہم ویگو گاڑی دریا میں ڈوب گئی۔
اگلے روز سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو سامنے آئی، جس میں سرچ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ڈوبی ہوئی ویگو کو بھاری مشینری اور ٹریکٹروں کی مدد سے رسیوں کے ذریعے دریائے کنہار سے نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق گاڑی بعد ازاں مالکان کے حوالے کر دی گئی ہے۔
اس کے بعد معلوم ہوا کہ یہ گاڑی شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے معروف ٹک ٹاکر سلطان ورک کی تھی جو سوشل میڈیا پر سلطان آف ورک گڑھ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
حادثے سے قبل انسٹاگرام پر ان کی آخری ویڈیو میں وہ اپنے فالوورز سے بھی پوچھتے دکھائی دیے کہ ہمیں بتائیں سکون کے لیے کون سی جگہ کا ٹرپ کرنا چاہیے۔
حادثے کے بعد ٹک ٹاک پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں سلطان ورک نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی خیریت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ جان بوجھ کر گاڑی پانی میں نہیں لے گئے تھے بلکہ یہ ایک حادثہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ اللہ کی مرضی تھی، ہم سب محفوظ ہیں، اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔'
ضلعی انتظامیہ نے واقعے کے بعد سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں اور برساتی نالوں کے قریب گاڑیاں لے جانے یا خطرناک سٹنٹ کرنے سے گریز کریں۔
حکام کے مطابق شدید گرمی، گلیشیئرز کے پگھلنے اور مون سون کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح اور بہاؤ اچانک بڑھ سکتا ہے، اس لیے چند سوشل میڈیا ویوز کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے سے اجتناب کیا جائے۔