Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

35 برس بعد گمشدہ شخص اپنے خاندان سے مل گیا، بھائی نے چیٹ گروپ میں پہچان لیا

لی ژے چنگ سنہ 1991 میں بچپن کے دوران اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل کھیل میں ایک ٹرین پر سوار ہوگئے تھے (فائل فوٹو: پکسابے)
چین میں ایک جذباتی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں قوت سماعت اور گویائی سے محروم ایک شخص کی 35 برس بعد اپنے حقیقی خاندان سے ملاقات ہوئی ہے۔
اس غیر معمولی ملاپ نے نہ صرف ایک خاندان کی دہائیوں پر محیط جدائی کا خاتمہ کیا بلکہ امید، محبت اور مسلسل کوشش کی ایک متاثر کن مثال بھی قائم کی۔
چین کے صوبہ ہینان سے تعلق رکھنے والے لی ژے چنگ سنہ 1991 میں بچپن کے دوران اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل کھیل میں ایک ٹرین پر سوار ہوگئے تھے۔ سفر کے دوران وہ سیٹ کے نیچے سو گئے اور جب آنکھ کھلی تو خود کو ایک اجنبی شہر میں پایا۔ چونکہ وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ بول سکتے تھے، اس لیے اپنے گھر یا خاندان کے بارے میں کسی کو کچھ بتانے سے قاصر رہے۔
گھر سے بچھڑنے کے بعد لی ژے چنگ نے جنوبی چین کے شہر شینزین کے ریلوے سٹیشن کے قریب بے گھر زندگی گزارنا شروع کر دی۔ اسی دوران ایک خاتون نے ان کی مدد کی اور انہیں لکھنا سکھایا۔ لی ژے چنگ آج بھی اس خاتون کو اپنی پہلی ’ماں‘ قرار دیتے ہیں۔
چند برس بعد جب وہ خاتون ہانگ کانگ منتقل ہو گئیں تو ایک مقامی ریسٹورنٹ مالک ہانگ چنگ شیان نے لی ژے چنگ کی کفالت کی ذمہ داری سنبھال لی۔
ہانگ چنگ شیان نے انہیں رہائش، خوراک اور بعد ازاں ملازمت بھی فراہم کی۔ اگرچہ ان کا ریسٹورنٹ صرف دو سال چل سکا، تاہم انہوں نے لی ژے چنگ کے لیے سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کا انتظام کیا اور مقامی لوگوں کی مدد سے ان کی دیکھ بھال کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہانگ اور ان کی اہلیہ نے تقریباً تین دہائیوں تک لی ژے چنگ کو اپنے بچوں کی طرح پالا اور زندگی کے ہر مرحلے پر ان کا ساتھ دیا۔
اس دوران لی ژے چنگ نے کبھی اپنے اصل خاندان کی تلاش ترک نہیں کی۔ وہ مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر پیغامات شیئر کرتے رہے اور بچپن کی دھندلی یادوں کے سہارے مختلف صوبوں کا سفر بھی کرتے رہے۔ ان کی تلاش میں ہانگ چنگ شیان بھی برابر کے شریک رہے، جو انہیں پولیس سٹیشنز لے جاتے اور اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کرواتے تھے۔
بالآخر قسمت نے ان کا ساتھ دیا جب ان کے بڑے بھائی، جو خود بھی بہرے اور گونگے ہیں، نے ایک موبائل ایپ کے چیٹ گروپ میں لی ژے چنگ کا پیغام دیکھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لی ژے چنگ نے اپنی شناخت کے لیے اپنا اصل نام الٹا لکھا تھا، جو ان کے بچپن کی ایک عادت تھی۔ یہی منفرد نشانی ان کے بھائی کی توجہ کا باعث بنی اور انہیں شبہ ہوا کہ شاید یہ ان کا گمشدہ بھائی ہی ہے۔
دونوں بھائیوں نے متعدد بار آن لائن رابطہ کیا، بچپن کی یادیں تازہ کیں اور مختلف تفصیلات کا موازنہ کیا۔ بعد ازاں ڈی این اے ٹیسٹ کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم نتائج آنے سے پہلے ہی لی ژے چنگ کے والد، بھائی اور بہن صوبہ ہینان سے شینزین پہنچ گئے۔ برسوں بعد ہونے والی اس ملاقات کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے اور خاندان کے افراد خوشی سے آبدیدہ ہوگئے۔
ملاقات کے تقریباً دو گھنٹے بعد ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج بھی سامنے آگئے، جنہوں نے تصدیق کر دی کہ لی ژے چنگ واقعی اسی خاندان کے فرد ہیں جس کی وہ 35 برس سے تلاش کر رہے تھے۔
لی ژے چنگ کے خاندان نے ہانگ چنگ شیان اور ان کی اہلیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے تین دہائیوں تک ان کے گمشدہ بیٹے کی دیکھ بھال کی اور اسے کبھی تنہا محسوس نہیں ہونے دیا۔

شیئر: