Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب: پلاسٹک بیگز کی بندش آسان نہیں؟

پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں آج کل سرفہرست پلاسٹک بیگز یا پولیتھین کی تھیلیوں پر حکومتی پابندی ہے۔
سب سے پہلے ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد کی گئی. اس کے بعد آبادی کے لحاظ سے دوسرے بڑے صوبے سندھ نے بھی کچھ گنجائشوں کے ساتھ پولیتھین بیگز کی موجودہ صورت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

پنجاب میں پولیتھین تھیلیوں پر مکمل پابندی میں سب سے بڑی رکاوٹ پولیتھین انڈسٹری ہے، فوٹو: اردو نیوز

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی حکومت اس پابندی کا سوچ رہی ہے لیکن بظاہر یہ معاملہ پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔ متوقع پابندی کو روکنے کے لیے پنجاب پولیتھین مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں منگل کے روز صوبائی اسمبلی کی عمارت کے باہر دھرنا بھی دیا جس کے بعد ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔
دوسری طرف صوبے کی ہائی کورٹ میں بھی سول سوسائٹی کے اراکین نے پولیتھین کی تھیلیوں کی بندش کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے جہاں ہائی کورٹ نے حکومت سے مجوزہ قانون کا مسودہ مانگ لیا ہے۔

پنجاب میں مشکلات کیوں؟

پنجاب میں پولیتھین تھیلیوں پر مکمل پابندی میں سب سے بڑی رکاوٹ پولیتھین کی صنعت ہے۔ اردو نیوز نے اس حوالے سے حقائق جاننے کے لئے اس معاملے سے جڑے قریباً سبھی فریقین سے رابطہ کیا۔ لاہور اور شیخوپورہ کے درمیان واقع لاتعداد فیکٹریوں میں پلاسٹک کی مصنوعات بنانے والی فیکٹریاں بھی ہیں۔
ان میں سے ایک فیکٹری کے چیف ایگزیکٹو ثاقب شیخ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’حکومت جس طریقے سے شاپنگ بیگز پر پابندی لگانے کا سوچ رہی ہے یہ تو اس صنعت کا گلا گھونٹ دے گی۔ لوگوں نے اربوں روپے لگا رکھے ہیں، ایسی ایسی مشینیں لگا رکھی ہیں جن کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔ آج پابندی لگائیں گے تو یہ مشینیں ناکارہ ہو جائیں گی اور وہ تمام کاریگر مزدور جنہوں نے کئی دہائیوں سے صرف یہی کام سیکھا ہے وہ کہاں جائیں گے؟‘

پنجاب انوائرمنٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نسیم الرحمان کے مطابق آلودگی کا سب سے بڑا سبب چھوٹے اور کم پلاسٹک والے بیگز ہیں، فوٹو: اردو نیوز

انہوں نے بتایا کہ انہیں ماحولیات اور اس حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہی ہے ’پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا پلاسٹک بیگ ہی ماحول کا سب سے بڑا دشمن ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر ایسا حل تلاش کرنا چاہیے کہ لوگوں کا روز گار بھی نہ چھنے اور ماحول پر پلاسٹک کے اثرات بھی کم سے کم ہوں اور اس کی ذمہ داری صرف ہم پر نہیں بلکہ حکومت اور عوام پر بھی ہے۔ لوگ اپنے طرز زندگی میں بہتری لائیں جبکہ حکومت لوگوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ بڑے بھائی کا کردار ادا کرے جیسا کہ پوری دنیا میں ہو رہا ہے اور یہ سب آہستہ سے ایک میکنزم کے تحت ہوتا ہے ایسے ہی ایک دم پابندی کہیں نہیں لگائی جاتی۔‘
ثاقب شیخ کے مطابق وہ تو چاہتے ہیں جیسے سندھ حکومت نے کیا ویسے ہی یہاں کیا جائے اور اس کے لیے وہ تیار ہیں۔ سندھ حکومت نے پولیتھین تھیلیوں کی موٹائی چالیس مائیکرون کر دی ہے، ساتھ ساتھ آکسو بائیوگریڈایبل (حل پذیر مواد جو پلاسٹک کو زمین میں جذب کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے) کو لازمی جزو قرار دے دیا ہے جبکہ چھوٹے سائز کی تھیلیوں پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔
ان کے مطابق موجودہ حالات میں یہ طریقہ انتہائی قابل عمل ہے۔
پنجاب پولیتھین مینوفیکچررز ایسوسی کے ایک رہنما فیصل ملک جو دھرنے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کا حصہ ہیں، کا کہنا ہے کہ ’اس وقت صوبے میں آٹھ ہزار کے لگ بھگ چھوٹے بڑے یونٹس ہیں جو شاپنگ بیگ بنا رہے ہیں ان میں قریباً دس لاکھ افراد نوکریاں کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ دس لاکھ خاندان اس صنعت سے وابستہ ہیں جبکہ یہ صنعت سالانہ ایک ارب ڈالرز کا کاروبار دیتی ہے۔‘

ماہرین کے مطابق استعمال کے بعد جب  پولیتھین بیگز کو پھینک دیا جاتا ہیں تو یہ ارد گرد ماحول کو آلودہ کرتے ہیں، فوٹو: اے ایف پی

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے مذاکرات حکومت سے ہو رہے ہیں اور کافی شرائط ہم مان چکے ہیں جیسا کہ پچاس مائیکرون کی موٹائی کا سٹینڈرڈ ہمیں قبول ہے۔
حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ صوبائی وزیر قانون راجا بشارت نے اردو نیوز کو بتایا کہ حکومت پلاسٹک بیگز پر بالکل بھی فوری اور مکمل پابندی کے حق میں نہیں۔
’ہمیں بھی اندازہ ہے کہ یہ ایک بڑی صنعت ہ،ے ہم نے کافی چیزوں پر پیش رفت کر لی ہے، صورت حال دھرنے کی طرف اس لئے گئی کہ ان کو لگا کہ شاید حکومت اگلے چھ ماہ میں مکمل پابندی لگا رہی ہے حالانکہ کہ یہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے کیونکہ معاملہ عدالت میں ہے، ہم بھی عدالت کے سامنے وہ تمام قابل عمل حل رکھ دیں گے جن پر انڈسٹری کے تحفظات بھی کم ہیں اور حکومت کو بھی، پھر جو بھی کرنا ہو گا عدالت کرے گی۔‘

سندھ اور پنجاب میں پابندی کا فرق

سندھ حکومت نے پولیتھین تھیلیوں کی پیداوار پر جزوی پابندی عائد کی ہے اور تھیلیاں بنانے کے نئے سٹینڈرڈز متعارف کروائے ہیں۔ ایک تو چھوٹے سائز کی تھیلیاں بالکل بند کر دی ہیں، دس انچز چوڑائی اور چودہ انچز لمبائی سے چھوٹا کوئی بیگ نہ بن سکتا ہے نہ بیچا جا سکتا ہے۔

صوبائی وزیر قانون راجا بشارت کا کہنا ہے کہ حکومت بالکل بھی فوری اور مکمل پابندی کے حق میں نہیں، فوٹو: اردو نیوز

نوٹیفکیشن کے مطابق ایک شاپنگ بیگ کے اندر پلاسٹک کی مقدار چالیس مائیکرون کر دی گئی ہے، دوسرے لفظوں میں پلاسٹک کی مقدار میں اضافہ کر دیا ہے، پہلے یہ مقدار پندرہ مائیکرون تھی۔ ’مائیکرون‘ شاپنگ بیگ کی پرت کی موٹائی ماپنے کی اکائی ہے جو یہ چیز بتاتی ہے کہ اس شاپنگ بیگ کے اندر پلاسٹک کتنا استعمال ہوا ہے۔ ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ جن شاپنگ بیگز کے اندر پلاسٹک زیادہ استعمال ہوتا ہے اس کے دو فائدے ہوتے ہیں ایک تو شاپنگ بیگ بار بار استعمال کے قابل ہوتا ہے دوسرا ری سائیکلنگ کے عمل میں سود مند ہوتا ہے، چونکہ یہ شاپنگ بیگ مہنگا بھی ہوتا ہے اس لئے اس کا اندھا دھند استعمال نہیں ہوتا۔
پنجاب انوائرنمنٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نسیم الرحمان کے مطابق ’آلودگی کا سب سے بڑا سبب چھوٹے اور کم پلاسٹک والے بیگز ہیں کیوں کہ ایک تو یہ انتہائی سستا ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے، دوسرا اس کی ری سائیکل ویلیو نہیں ہوتی، آپ سارا دن چھوٹے شاپنگ بیگ اکھٹے کرواتے رہیں شام کو پتا چلے گا کہ ان کا وزن تو ایک کلو گرام بھی نہیں بنا لیکن آلودگی میں بے بہا اضافہ ہو گا۔‘
نسیم الرحمان کا کہنا ہے کہ شاپنگ بیگز میں پلاسٹک کی مقدار کا زیادہ رکھنا اس کے استعمال کو کم کرتا ہے اور دنیا بھر میں یہ ہی طریقہ اپنایا جاتا ہے۔

 

سندھ نے دوسرا کام یہ کیا ہے کہ شاپنگ بیگز کی تیاری میں آکسو بائیوگریڈایبل میٹیریل بھی لازمی قرار دے دیا ہے یعنی جو بھی شاپنگ بیگز اب بنیں گے ایک تو ان کی موٹائی زیادہ ہو گی دوسرا وہ زمین میں جذب ہونے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں گے تو ایسے شاپنگ بیگز استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب یہ فارمولہ استعمال کر کے مسئلے کا حل کیوں نہیں نکالتا؟ اس معاملے میں بڑی رکاوٹ پنجاب کے ماحولیات کا محکمہ ہے جو کہ شاپنگ بیگز کی موٹائی پر تو پلاسٹک انڈسٹری کے ساتھ متفق ہے اور باہمی رضامندی سے سندھ کے چالیس مائیکرون کے مقابلے میں پچاس مائیکرون موٹائی کے شاپنگ بیگ بنانے پر رضامند ہے، تاہم آکسو بائیوگریڈایبل میٹیریل کے استعمال پر متفق نہیں ہے۔ پنجاب انوائرنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ہم 2017 سے آکسوبائیو گریڈایبل میٹیریل پر تحقیق کر رہے ہیں لیکن اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کہ یہ طریقہ مستقبل میں انسانی صحت کے لئے صحیح ہے یا نہیں۔‘
دنیا میں اس وقت کل آٹھ کمپنیاں ہیں جو کمرشل بنیادوں پر آکسوبائیوگریڈایبل بنا رہی ہیں، ان میں سے تین کمپنیاں پاکستان میں سپلائی دیتی ہیں۔ ’ہم ان کمپنیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور ایک کمپنی کا مالک خود ہمارے ساتھ میٹنگ کرنے آیا ۔ ہمارا صرف ایک سوال تھا کہ کوئی ایسی بین الاقوامی تحقیق بتا دیں جو انسانی صحت پر آکسوبائیوگریڈایبل کے اثرات پر کی گئی اور اسے محفوظ تسلیم کرتی ہو تو یقیناً اس کی فوری اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہ شاپنگ بیگ میں آکسو بائیوگریڈایبل میٹیریل کا استعمال کرنے سے وہ مصنوعی طریقے سے پلاسٹک کو تحلیل کر دیتا ہے۔ اس تحلیل کے عمل کے بعد وہ ہماری مٹی میں شامل ہو جائے گا تو اس وقت وہ مواد کس شکل میں ہو گا اور دوبارہ فصلوں میں شامل ہو کر غذا کا حصہ بنے گا تو اس کی شکل کیا ہو گی۔ اگر یہ اتنا ہی محفوظ ہوتا تو امریکہ یورپ میں صرف یہی چل رہا ہوتا۔‘
ان کے مطابق بعض ملکوں نے اسے اپنایا بھی ہے، ہم بھی اپنا سکتے ہیں اگر کوئی بھی تحقیق اسے سپورٹ کرے۔
اگر آکسو بائیوگریڈایبل میٹیریل شاپنگ بیگز میں شامل کرنے کا فیصلہ نہیں ہوتا تو پھر یقیناً پلاسٹک انڈسٹری کے لیے مستقبل میں اتنی مقدار میں شاپنگ بیگز بنانا مشکل ہو گا۔
آکسوبائیو گریڈایشن کیا ہے؟
آکسو بائیوگریڈایبل مصنوعی طریقے سے بائیو ڈیگریڈیشن کے عمل کو شروع کرنے کا نام ہے۔ سادہ لفظوں میں وہ حیاتاتی عمل جس سے ایک جسم کی موجودہ شکل تحلیل ہو جائے۔ عام طور پر لاتعداد اجسام مٹی میں تحلیل ہونے کے عمل سے گزرتے ہیں لیکن پلاسٹک ان اشیاء میں سے ہے جسے مٹی صدیوں تک تحلیل نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ایسے مصنوعی طریقے دریافت کیے گئے ہیں جو پلاسٹک کو بھی حیاتیاتی تحلیل کے عمل سے گزار دیتے ہیں اور آکسوبائیوگریڈایشن اسی کا نام ہے ۔ لیکن دنیا کے سارے سائنس دان اس عمل کو محفوظ نہیں سمجھتے اس لیے اس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

پلاسٹک بیگز کی صنعت سے وابستہ تاجر سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کا تیز ترین حل ری سائیکلنگ ہے۔ فوٹو اردو نیوز

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے شعبہ پولیمر اینڈ پراسس انجینئرنگ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی قیصر سے اردو نیوز نے آکسو بائیو گریڈ ایبل میٹیریل کے انسانی صحت پر اثرات سے متعلق جاننے کے لئے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا ’آکسوبائیوگریڈیشن اس وقت ایک محفوظ عمل ہے جب اسے ایک مخصوص ماحول میں کیا جائے جیسا کہ لیبارٹری وغیرہ۔ دنیا بھر میں عرصہ دراز سے یہ تحقیق تو ہو رہی ہے اور کنٹرولڈ انوائرنمنٹ میں یہ ایک بہترین طریقہ ہے لیکن اس کے کمرشل استعمال پر رائے منقسم ہے۔‘
ان کے مطابق کوئی اس کو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ بالکل ناقابل عمل حل ہے، نہ یہ کہہ سکتا کے کہ یہی اصل حل ہے۔ اس طریقے کے کمرشل استعمال پر حتمی رائے دینا مشکل ہے۔‘ تو گویا آکسوبائیوگریڈایشن ایک طریقہ تو ہے پلاسٹک کو تحلیل کرنے کا لیکن اس کے کمرشل بنیادوں پر محفوظ ہونے کی سند نہیں۔
یورپ میں کئی ایسی تحریکیں چل رہی ہیں جو اس آکسوبائیگریڈایبل میٹیریل پر پابندی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ تاہم خلیجی ممالک میں اس میٹیریل سے بنائے جانے والے شاپنگ بیگز کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔
شاپنگ بیگز پر پابندی اور خارجہ پالیسی
جہاں پنجاب حکومت کو مختلف شعبوں میں شاپنگ بیگز پر پابندی کے حوالے سے مخالفت کا سامنا ہے وہیں اس کا ایک بڑا حصہ معیشت سے جڑا ہے، اس میں دو رائے نہیں ہیں۔ البتہ اس شعبے سے وابستہ صنعتکاروں کا ماننا ہے کہ دائمی پابندی حکومت کے لیے خارجہ امور پر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ شیخ ثاقب کے مطابق ’پلاسٹک بنیادی طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی بائی پراڈکٹ ہے۔

 

’جن ممالک کے ہاں تیل کی پیداوار ہے وہی ملک خام پلاسٹک برآمد کرتے ہیں، پاکستان میں سارا پلاسٹک سعودی عرب اور قطر سے آتا ہے۔ اگر حکومت نے مکمل پابندی لگائی تو یقینی طور پر ہم خام مال لینا بھی بند کریں گے اس لئے یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اس لئے تجویز کر رہے ہیں کہ حکومت کوئی ایسا حل نکالے جس سے نقصان کم سے کم ہو۔‘
پولیتھین بیگز کتنے نقصان دہ ہیں؟
پولیتھین بیگز انسانی صحت اور ماحول کے لئے کتنے نقصان دہ ہیں؟ صحت کے شعبے سے منسلک اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمان شیروانی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس کو آپ دو طریقوں سے دیکھیں ایک تو یہ ہے کہ پولیتھین کی تھیلی اس وقت تک فوڈ گریڈ (یعنی خوراک رکھے جانے کے قابل) ہوتا ہے جب تک درجہ حرارت پچاس سینٹی گریڈ سے نیچے ہے، پچاس کے بعد پلاسٹک کے کیمیکل ری ایکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جو کہ انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، اس لیے کبھی بھی گرم کھانا پولیتھین بیگز میں نہیں رکھنا چاھیے اور نہ ہی اسے اوون میں گرم کرنا چاہیے۔‘

یورپ میں کئی ایسی تحریکیں چل رہی ہیں جو آکسوبائیوگریڈایبل میٹیریل پر پابندی کا مطالبہ کر رہی ہیں، فوٹو: اردو نیوز

سلمان شیروانی کے مطابق دوسری بات یہ ہے کہ استعمال کے بعد جب آپ پولیتھین بیگز کو پھینکتے ہیں تو وہ ارد گرد ماحول کو آلودہ کرتے ہیں اور باریک ہو کر ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ایک دفعہ پھر ماحول میں شامل ہو کر انسانی صحت کے لئے مضر ہو جاتے ہیں ۔

حل کیا ہے؟

پلاسٹک بیگز کی صنعت سے وابستہ تاجر یہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کا تیز ترین حل تو ری سائیکلنگ ہے۔ سنگاپور سمیت کئی ایسے ممالک ہیں جو استعمال شدہ پلاسٹک کے کچرے سے بجلی بنا رہے ہیں اور ایک ہزار میگا واٹ تک بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔ شیخ ثاقب کے مطابق ’قصور ہمارا بھی ہے، پندرہ مائیکرون کے شاپنگ بیگز فیکٹریوں میں ہی بنے ہیں، یہ نہیں بننا چاہیے تھے۔ تاجر اپنی ذمہ داری نبھائیں اور حکومت موٹے پلاسٹک کے تھیلوں کو استعمال کے بعد اکھٹا کرنے کے طریقہ کار پر کام کرے تو پلاسٹک نہ صرف ری سائیکل ہو گا بلکہ بجلی بنانے کے کام بھی آ سکتا ہے‘

 

شیخ ثاقب کا کہنا ہے کہ مربوط منصوبہ بندی اور پلان آف ایکشن ضروری ہے اور تیسرا عوام میں آگاہی مہم تواتر سے چلائی جائے تاکہ پلاسٹک کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
ڈاکٹر سلمان شیروانی کے مطابق عوام کو آگے آنا ہو گا، اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانا ہو گی جیسے دیگر ممالک کر رہے ہیں، آپ شاپنگ بیگز کو لگژری آئٹم بنا دیں لوگ خود کئی بار سوچیں گے کہ شاپنگ بیگ خریدیں یا نہ؟۔جب خرید لیں گے تو پھر سنبھال کے بھی رکھیں گے اور پھر سلیقے سے پھینکیں گے بھی کیونکہ انہیں پتا ہو گا کہ خالی بیگ واپس کرنے کے بھی کچھ پیسے مل سکتے ہیں۔
اب حکومت پنجاب نے ایسوسی ایشن سے مذاکرات مکمل کر کے گیند عدالت کی کورٹ میں پھینک دی ہے کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی انہیں منظور ہو گا۔

شیئر: