فٹ بال میچز دیکھتے مجھے 44 برس بیت گئے، یہ 13 واں ورلڈ کپ ہے جس کے میچز ذوق شوق سے دیکھے جا رہے ہیں۔
کل رات مگر اٹلانٹا کے میدان میں مصر اور ارجنٹآئن کے درمیان جو میچ کھیلا گیا، اسے دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ اس میں جس کم تر اور ناقص درجے کی پرفارمنس ریفری نے پیش کی، وہ نہایت مایوس کن رہی۔
یہ سطریں میں جذبات کی رو میں بہہ کر نہیں، ایک عمر فٹ بال دیکھنے کے بعد پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں۔ میچ کا نتیجہ یہ رہا، ارجنٹائن تین، مصر دو۔
یہ سکور بورڈ کا سچ ہے۔ میدان کا سچ کچھ اور تھا۔ جس کی تصدیق ہر وہ شخص کرے گا جس نے میچ لائیو دیکھا۔
پہلے تھوڑا پس منظر ذہن میں رکھیں۔
ارجنٹائن ایک بڑی اور تجربہ کار ٹیم ہے، کئی بار کی عالمی چیمپیئن، وہ اس وقت دفاعی چیمپیئن ہے۔
مزید پڑھیں
-
فٹ بال ورلڈ کپ میں اہم سٹرائیکرز کی جنگ، عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 905726
اس میں میسی جیسا سپرسٹار کھیل رہا ہے جسے اس کے مداحین گریٹسٹ پلیئر آف آل ٹائمز یعنی گوٹ کہتے ہیں۔ اس ارجنٹائن کا مقابلہ مصر جیسی نسبتاً نئی اور نووارد ٹیم کر رہی تھی۔ جو اپنی تاریخ میں پہلی بار راونڈ آف سولہ میں پہنچی۔
اس سے پہلے وہ ہمیشہ گروپ سٹیج ہی میں فارغ ہو جاتی تھی۔ مصر جو عالمی درجہ بندی میں انتیسویں نمبر کی ٹیم تھی، اس کا مقابلہ ٹاپ رینکنگ میں شامل تجربہ کار، پراعتماد ارجنٹائن سے تھا۔
پیپرز پر یہ درحقیقت ایک دیو اور کسی بچے کا سا مقابلہ تھا۔ اس بچے یا بونے نے وہ فائٹ کی کہ دیو کے چھکے چھڑا دیے، اسے دانتوں پسینہ آ گیا۔
میچ شروع ہوا تو پندرہویں منٹ میں یاسر ابراہیم کے شان دار ہیڈر نے مصر کو برتری دلا دی۔
ارجنٹائن پہلی بار اس ورلڈ کپ میں پیچھے تھی اور اس کے اعصاب پر اثر صاف نظر آیا۔ پھر وہ لمحہ آیا جس نے آدھی دنیا کو حیران کر دیا۔ ارجنٹائن کو پنالٹی ملی (اس فیصلے پر بھی بحث ہوسکتی ہے)
کک لگانے والے دنیا کے تجربہ کار ترین سٹرائیکر لیونل میسی تھے، جو دباؤ میں کبھی نہیں چوکتے۔ مصری گول کیپر مصطفیٰ شعبیر نے وہ پنالٹی جس اطمینان اور عمدگی سے روکی، وہ منظر یاد رہ جانے والا تھا۔ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ اسی شعبیر نے میک ایلیسٹر اور دیگر ارجنٹائنی کھلاڑیوں کے یقینی گول بھی روکے۔
ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کو اندازہ ہو رہا تھا کہ اگر میچ پنالٹی ککس پر گیا تو مصری گول کیپر اپنی ٹیم کو جتوا جائے گا۔
آپ چاہیں تو اسے بدگمانی کہہ لیں مگر محسوس یہ ہوتا ہے کہ کہیں اور کسی اعلیٰ سطح پر بھی یہی اندازہ لگایا جا چکا تھا کہ میچ پنالٹی ککس تک نہیں پہنچنے دینا، ورنہ ارجنٹائن تو گیا۔
مصر کے خلاف دیا جانے والا متنازع فیصلہ
اب آتے ہیں اس فیصلے پر جس نے پورے میچ کا رخ موڑ دیا۔ دوسرے ہاف میں مصر نے ایک نہایت خوبصورت موو بنا کر گول کر دیا۔
ایسا فیلڈ گول جو کسی بھی ٹیم کا ڈریم ہوتا ہے۔ کپتان محمد صلاح نے جادوئی پاس دیا، مصطفیٰ زیکو نے ارجنٹائنی گول کیپر کو چکمہ دے کر گول کر دیا۔ مصر بظاہر دو صفر سے آگے مگر فرانسیسی ریفری فرانسوا لیتیکسیئر کو وی اے آر مانیٹر پر بلایا گیا اور اس نے گول منسوخ کر دیا۔ وجہ؟ اس حملے کے آغاز میں، تقریباً بیس سیکنڈ پہلے اور اسی گز کے فاصلے پر، مروان عطیہ نے لیزانڈرو مارٹینز کی قمیض کھینچی اور اس کے پاؤں پر پاؤں رکھا تھا۔
گول منسوخ کرنے کا فیصلہ اتنا متنازع تھا کہ خود مغربی ماہرین ہکا بکا رہ گئے۔
سابق انگلش گول کیپر اور فوکس اسپورٹس کے مبصر روب گرین حیران رہ گئے کہ اتنا دور اور اتنا پہلے ہونے والا ایک معمولی فاول کیا وی اے آر میں دیکھنے کے قابل تھا؟کیا ایسا کر کےریفری نے اپنےدائرہ کار سےتجاوز نہیں کیا؟
معروف سپورٹس ویب سائٹ ای ایس پی این کے تجربہ کار کمنٹیٹر ایان ڈارک نے تو اسے مذاق قرار دیا اور کہا کہ وی اے آر کا سہارا نہ لیا جاتا تو یہ شاندار گول ڈیڑھ سو برس تک بھی قائم رہتا۔
بی بی سی کے ماہر ڈیل جانسن نے نکتہ اٹھایا کہ جس ٹورنامنٹ میں اچھی بھلی رف ٹیکلنگ پر فاؤل تک نہیں دیے جا رہے، اسی میں قمیض کے ہلکے سے کھینچنے پر پورا گول اڑا دینا کھلا تضاد ہے۔

ریفری کے فیصلے متنازع کیوں ہوئے؟
یہیں سے اصل سوال کھڑا ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ فاؤل ہوا تھا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ باریک بینی، یہ اتنا پیچھے جا کر قمیض کھینچنے کا حساب کتاب ویڈیو پر چیک کرنے کا فیصلہ آخر کیوں ہوا؟
اور آخر ہر بار ایک ہی سمت میں کیوں جاتا ہے کیونکہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
زیکو نے بارہ منٹ بعد 67 ویں منٹ میں دوبارہ گول کیا، مصر پھر دو صفر سے آگے، گیارہ منٹ باقی۔ مگر جس گول نے مصر کا حوصلہ توڑا تھا وہ پہلے ہی چھن چکا تھا۔ اس کے بعد ارجنٹائن نے وہ کیا جو بڑی ٹیمیں کرتی ہیں۔
39 ویں منٹ میں رومیرو کا ہیڈر، تراسیویں میں میسی کا برابری کا گول، اور اضافی وقت میں اینزو فرنانڈیز کا فیصلہ کن ہیڈر۔ تین دو۔ مگر رکیے، جس جوابی حملے پرارجنٹائن کا تیسرا گول ہوا اور وہ اسی بنیاد پر میچ جیت گئی ، اس گول سے ذرا پہلے مصری کھلاڑی محمد صلاح کو ارجنٹآئن کی ڈی میں گرایا گیا تھا۔ یہ سنگین فاؤل تھا اور پنالٹی بنتی تھی۔
محمد صلاح چیخ چیخ کر ریفری سے پنالٹی مانگتے رہ گئے۔ اس پورے منظر کو ویڈیو یعنی وی اے آر پر دیکھنے کی بھی درخواست کی ، مگر ریفری نے مسترد کر دی۔ خاکسار کی رائے میں یہی وہ دہرا معیار ہے جو سارے کھیل پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔
مصری ٹیم اور مینجمنٹ کا احتجاج
مصری کیمپ کا غصہ بھی ریکارڈ پر آ چکا ہے۔ جس زیکو کا گول چھینا گیا، اس نے میچ کے بعد کھل کر کہہ دیا یہ ایک فکسڈ میچ تھا، ریفری ہماری ہار کی وجہ بنا، وہ نہیں چاہتا تھا کہ ہم جیتیں۔ اس نے طنزاً ارجنٹائن کو ایک اور ورلڈ کپ کی مبارک باد بھی دے دی۔ مصری کوچ حسام حسن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کھیل میں انصاف آخر ہے کہاں، ہم آج ناانصافی کا شکار ہوئے۔ اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مصر نے فرانسیسی ریفری کی تقرری پر پہلے ہی اعتراض کیا تھا، مگر فیفا نے مصر کی ایک نہ سنی۔

مصری کوچ کا نسل پرستی کا اشارہ
جیو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق ،’مصری کوچ نے میچ کے دوران اپنے دونوں باز اوپر کر کے ایک دوسرے پر رکھ کر ایکس کا نشان بنایا تھا۔‘
بتایا جاتا ہے کہ بازوؤں کو ایک دوسرے پر رکھ کی شکل بنانا فیفا کی جانب سے نسلی امتیاز یا نسل پرستانہ رویے کی شکایت درج کرانے کا عالمی اشارہ ہے۔
جب کوئی کھلاڑی، کوچ یا ٹیم کا آفیشل یہ اشارہ کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ ریفری کو آگاہ کر رہا ہے کہ میچ کے دوران نسل پرستانہ رویہ یا نسلی بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا ہے۔
فیفا کے ضابطوں کے مطابق ’اس اشارے کے بعد نسل پرستی کے خلاف تین مراحل پر مشتمل پروٹوکول پر عمل ہونا چاہیے۔
پہلے میچ کو عارضی طور پر روکا جائے اور وارننگ دی جائے، اگر بدسلوکی جاری رہے تو میچ معطل کیا جائے اور اگر اس کے باوجود صورتحال نہ بدلے تو میچ ختم کر دیا جائے۔‘
ارجنٹینا کیخلاف میچ میں مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے ایکس کا اشارہ کیا، تاہم ریفری نے نسل پرستی سے متعلق پروٹوکول شروع کرنے کے بجائے انہیں پیلا کارڈ دکھایا اور میچ جاری رکھا۔

ہمیشہ ارجنٹائن کو کیوں فائدہ پہنچا؟
اب دلچسپ بات سنیے، یہ پہلا موقع نہیں۔ اسی ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں الجزائر کو ارجنٹائن نے تین صفر سے ہرایا، جس میں میسی نے ہیٹ ٹرک کی۔ مگر الجزائر نے باقاعدہ فیفا کو تحریری شکایت بھیجی کہ میسی نے ان کے کپتان عیسیٰ مندی کی پنڈلی پر پاؤں رکھا اور میک ایلیسٹر نے ان کے کھلاڑی کو کہنی ماری، مگر ریفری شیمون مارسینیاک، جو دو ہزار بائیس کا فائنل بھی کروا چکا ہے، نے کوئی کارڈ نہ نکالا۔
اس کے بعد کوبے وردے کے خلاف میچ میں کینیڈین ریفری نے قانون کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے ارجنٹائن کے زخمی کھلاڑی تاگلیافیکو کو وہ رعایت دی جو قاعدے میں نہیں تھی۔ یوں کوبے وردے ایک کارنر پر برتری سے محروم رہی۔ اب مصر کے ساتھ یہ ہوا۔
یعنی ایک ہی ٹورنامنٹ میں الجزائر، کوبے وردے اور مصر، تینوں افریقی اور عرب ٹیموں کے شا
ئقین خود کو ایک ہی حریف کے سامنے مظلوم محسوس کر رہے ہیں۔ اب یہ سوال محض جذباتی نہیں رہتا۔ کیا یہ اتفاق ہے؟ میں یہ تو نہیں کہتا کہ ثابت شدہ سازش ہے، مگر جب تین قافلے ایک ہی موڑ پر لٹتے ہیں تو ایک منصف تماشائی کو سوال اٹھانے کا پورا حق ہے، اور فیفا پر لازم ہے کہ وہ جواب دے۔
وی اے آر ٹیکنالوجی فٹ بال میں انصاف قائم کرنے کے لیے لائی گئی تھی، انصاف کا گلا گھونٹنے کے لیے نہیں۔ جب وہی نظام بار بار چھوٹی ٹیموں کے خلاف حرکت میں آئے اور بڑوں کے حق میں خاموش رہے تو وہ انصاف کا آلہ نہیں، طاقت وروں کا ہتھیار بن جاتا ہے۔












