فٹ بال ورلڈ کپ میں سٹرائیکرز کی جنگ صرف زیادہ گول کرنے کی نہیں ہوتی، یہ وراثت، عزت اور وقت کی جنگ بھی ہے۔ کون کتنا بڑا ہے، تاریخ میں نام کیسے رہے گا، کس کا دور ہے اور کس کا جا رہا ہے، یہ سب حساب کتاب ورلڈ کپ میں طے ہوتا ہے۔
سنہ 2026 کے ورلڈ کپ میں بھی یہی سوال پوچھے جارہے ہیں، مختلف ٹیموں سے تعلق رکھنے والے نامور سٹرائیکرز، فارورڈز کی کارکردگی دیکھی، جانچی جا رہی ہے۔ ان کے مداحین اپنے اپنے ہیروز کے حق میں بیانیہ بنا رہے ہیں۔
ناقدین تنقید اور مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اصل فیصلہ تو مگر فٹ بال میدان ہی کرتا ہے۔ وہیں ہوگا۔
اب تک چند کھلاڑی ورلڈ کپ میں نمایاں ہوچکے ہیں۔ جیسے جیسے مزید میچز ہوں گے، ان کی پرفارمنس مزید چیک ہوگی۔
مزید پڑھیں
کوئی ہیرو بن جائے گا تو کہیں پر ہیرو بے چارہ زیرو کی طرف چل پڑے گا۔ نئے سٹار بھی جنم لیں، بعض سٹار شائد ورلڈ کپ ختم ہونے تک سپرسٹارز بن جائیں۔ ایک اور جنگ سب سے زیادہ گول کرنے کی بھی ہے کہ ایسا کر دکھانے والا ہی ’گولڈن بوٹ‘ جیسا ایوارڈ لے پائے گا۔ آئیے معروف سٹرائیکرز پر ایک نظر ڈالتےہیں۔
میسی: تاریخ کا بوجھ اور جادو ایک ساتھ
ارجنٹائن کے کپتان، نامور کھلاڑی لیونل میسی 38 برس کے ہیں۔ عمر کے اس حساب سے انہیں مجمع کے کنارے پر بیٹھ کر نوجوانوں کی واہ واہ سننی چاہیے تھی، مگر وہ خود ہی میدان میں واہ واہ لوٹ رہے ہیں۔ الجزائر کے خلاف پہلے ہی میچ میں ہیٹ ٹرک، پھر آسٹریا کے خلاف دو گول کر ڈالے اور یوں ورلڈ کپ کی پوری ہسٹری میں سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔
آسٹریا کے خلاف انہوں نے پہلے سترہویں ورلڈ کپ گول سے جرمنی کے میروسلاو کلوزے کا ریکارڈ توڑا، پھر اختتامی لمحات میں دوسرا گول کر کے اپنی کل تعداد اٹھارہ تک پہنچا دی۔ یہ صرف اعداد نہیں، یہ فٹ بال کی تاریخ میں ایک ایسا باب ہے جسے کسی نئے کھلاڑی کے لئے لکھنا آسان نہیں۔ البتہ امباپے اس بار اس اعزاز کے تعاقب میں ہے، اسی لئے میسی بھی ہر میچ میں یہ تعداد بڑھا رہا ہے۔
میسی کے بارے میں سب سے حیران کن بات ان کی عمر نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دباؤ میں وہ اور بڑے ہوجاتے ہیں۔ عام کھلاڑی بڑے میچ میں دباؤ تلے آ کر کچھ انڈر پلے کر جاتےہیں، میسی ٹاپ پر چلا جاتا ہے۔ ارجنٹائن کے لیے میسی ون مین آرمی ہے۔
رونالڈو: اکتالیس سال میں ٹاپ پرفارمنس
پرتگالی سپرسٹار کرسٹیانو رونالڈو اکتالیس برس کے ہوچکے ہیں۔ ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں رونالڈ زیادہ فارم میں نظر نہیں آئے، دوسری طرف میسی نےہیٹرک داغ دی۔ دنیا بھر میں میسی فینز اور رونالڈو فینز میں ایک جنگ سی چھڑی رہتی ہے۔ رونالڈو فینز منہ چھپائےپھر رہے تھے، مگر ازبکستان کے خلاف میچ میں رونالڈو نےاپنا جادو دکھایا، دو شاندار گول کئے۔ رونالڈ شائد ایک گول اور بھی کر لیتا، مگر بیڈ لک رہی۔
ابھی گروپ مرحلے میں ایک میچ باقی ہے۔ گول بڑھ سکتےہیں۔ اکتالیس سال کی عمر میں بھی رونالڈو کی جسمانی طاقت اور ذہنی عزم دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ پرتگال کے لیے یہ نہ صرف واپسی ہے بلکہ ایک پیغام بھی ’میں ابھی ختم نہیں ہوا۔

رونالڈو نے ایک اعزاز اور بھی حاصل کیا ہے کہ واحد کھلاڑی ہیں جس نےچھ کے چھ ورلڈ کپ میں گول کئے ہیں۔ کرسٹیانو رونالڈو کو اس کے فینز سی آر کہتےہیں۔ ان کی شرٹ کا نمبر سات ہے، یوں کہا جاتا ہے کہ سی آر سیون کا مطلب صرف ایک نمبر نہیں، یہ ایک ضد کا نام ہے، ایک جنون ہے کہ جب تک سانس ہے، گول کرتے رہو۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ رونالڈو کا وقت گزر چکا، میسی سے کہاں مقابلہ؟ میرا جواب یہ ہے کہ یہ سوال ہی غلط ہے۔ یہ دونوں ایک نسل کے دو حیران کن کرشمے ہیں، انہیں ایک دوسرے کے خلاف نہ تولیں، ان پر صرف حیران ہوں۔
امباپے اور ہالینڈ: تخت کے دو دعویدار
کلیاں امباپے کے ورلڈ کپ میں اب سولہ گول ہوچکے ہیں، وہ میروسلاو کلوزے کے ریکارڈ کے برابر پہنچ گئے ہیں۔ عراق کے خلاف ایک بار پھر دو گول کر کے انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ یہاں صرف کھیلنے نہیں آئے، وہ تاریخ لکھنے آئے ہیں۔
دوسری طرف ایرلنگ ہالینڈ نے دو میچوں میں چار گول کر کے ناروے کی ورلڈ کپ تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ بنا لیا۔ چھ فٹ چار انچ کا یہ نارویجئن جادوگر جب پنالٹی باکس میں گھستا ہے تو گول کیپر کے ہوش اڑ جاتےہیں۔ پسینہ آنے لگتا ہے۔ وہ مشین نہیں، ایک ہتھیار ہے جسے کوئی روک نہیں پا رہا۔
امباپے اور ہالینڈ (ناروے میں اسے ہالانڈ کہا جاتا ہے) دونوں پچیس چھبیس سال کے ہیں۔ یہ پہلا ورلڈ کپ ہے جب انیس سو چون کے بعد تین کھلاڑیوں نے دو میچوں میں چار یا اس سے زیادہ گول کیے ہیں۔ یہ تینوں میسی، امباپے اور ہالینڈ ہیں۔ گویا فٹ بال کا گولڈن پیریڈ چل رہا۔
ہیری کین: برے دن بھی آتے ہیں
انگلش کپتان اور مشہور سٹرائیکر ہیری کین نے کروشیا کے خلاف دو گول کیے، مگر گھانا کے خلاف خاموش رہے۔ انگلینڈ بمقابلہ گھانا میچ برابر رہا۔ ہیری کین ویسے اچھی فارم میں ہیں۔ ایک اور گول سے وہ انگلستان کے سب سے زیادہ ورلڈ کپ گول کرنے والے کھلاڑی گیری لائنیکر(لینکر) کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ یہ ریکارڈ بہت قریب ہے، مگر فٹ بال میں ریکارڈ بھاگ کر پکڑنے پڑتے ہیں۔
گھانا کے خلاف کین کی خاموشی یاد دلاتی ہے کہ بڑے کھلاڑیوں کے بھی برے دن آتے ہیں، یہ کوئی کمزوری نہیں، یہ انسان ہونے کی دلیل ہے۔ اس میچ میں انگلش فارورڈ بیلنگھم بھی کچھ نہیں کرپایا۔

برازیلی جادوگر وینیسیوس جونیئر
برازیل کے فارورڈ وینیسیوس جونیئر تیز رفتار اور ڈرِبلنگ کے ماہر ہیں۔ مراکش کے خلاف اہم گول سمیت دو میچز میں دو گول کر کے انہوں نے دکھا دیا کہ ان کی صلاحیت ابھی کھل رہی ہے۔ ان کی انرجیٹک کارکردگی برازیلین ٹیم کی قوت بنی ہوئی ہے۔ اگلے میچز میں نیمار کی واپسی ہوئی تو برازیل کی قوت بڑھ جائے گی۔
فرانس کےمسلمان سٹرائیکر عثمان ڈیمبیلے
عثمان ڈیمبیلے نے پچھلے ماہ فرانسیسی کلب پی ایس جی کو چیمپنز لیگ جتوا کر ہر ایک کو حیران کر دیا۔ وہ کمال فارورڈ ہیں، پچھلے سال بالن ڈی آور بھی جیت لیا، اس سال بھی امیدوار ہیں۔ فرانس کی قومی ٹیم میں عثمان ڈیمبیلے امباپے کے ساتھ مل کر خطرناک جوڑی بناتےہیں۔ پہلے میچ میں عثمان گول نہیں کر سکا، مگر عراق خلاف پہلا ورلڈ کپ گول کر کے کے اپنا کھاتا کھول لیا ہے۔ تیز ونگ پلے اور منفرد سٹائل انہیں خطرناک بناتا ہے۔
اسماعیل سایبری اور نئے چہرے
مراکش کے اسماعیل سایبری نے برازیل کے خلاف میچ جتوانے والا گول کیا، اور سکاٹ لینڈ کے خلاف اکہتر سیکنڈ میں گول داغ کر حیران کر دیا۔ اسے دنیا کا تیزترین گول کہا جا رہا۔ یہ لڑکا ورلڈ کپ کے بعد مشہور جرمن کلب بائیر میونخ جا رہا ہے اور جس فارم میں ہے، بائیر میونخ کو پتہ چلے گا کہ انہوں نے کیا خریدا ہے۔
سوئیڈن کے یاسین ایاری بھی اہم فارورڈ ہیں۔ آیاری کے والد کا تعلق تیونس سے ہے، مگر یہ سوئیڈن میں پیدا ہوئے اور اسی ٹیم میں کھیلتے ہیں۔ سوئیڈن نے پہلے میچ میں تیونس کو ہرایا، یاسین ایاری نے گول کیا مگر والد کے وطن ہونے کے ناتے احتراماً جشن نہیں منایا۔ اس سپورٹس مین سپرٹ کو سراہا گیا۔ یہ احترام اور عزم کی مثال ہے۔ وہ مڈفیلڈ سے اٹیک میں خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ دیکھیں اگلے میچز میں کیا ہوتا ہے۔
جمال موسیالا جرمنی کا نوجوان جوہر ہے۔ جرمنی کے لیے موسیالا مڈ فیلڈ سے اٹیک میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی فیلڈ ایڈجسٹمنٹ، پھرتی اورخوبصورت پاسز سے گول اسسٹ نے جرمنی کو تقویت دی ہے۔ وہ مستقبل کے بڑے ستارے ہیں۔

ادھر کینیڈا کے جوناتھن ڈیوڈ نے قطر کے خلاف ہیٹ ٹرک کر کے تین گول کر لیے ہیں، اور امریکہ کے فولارین بالوگن نے پیراگوئے کے خلاف دو گول کر کے میزبان ملکوں کا شاندار آغاز کروایا۔ یہ نئے چہرے ہیں، لیکن بڑے ٹورنامنٹ میں نئے چہرے ہی بعض اوقات سب سے بڑا تماشا بن جاتے ہیں۔
گولڈن بوٹ کون اٹھائے گا؟
اس وقت میسی پانچ گول کے ساتھ آگے ہیں، امباپے اور ہالینڈ چار چار پر ہیں، کین دو پر رک گئے ہیں۔ مگر ٹورنامنٹ ابھی ناک آؤٹ مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، اور ناک آؤٹ میں ہر گول کی اہمیت اور پرائس ڈبل ہوجاتی ہے۔ میرے خیال میں اصل سوال یہ نہیں کہ گولڈن بوٹ کس کو ملے گا، اصل سوال یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ کی کہانی کیا ہوگی؟ کیا میسی اڑتیس سال کی عمر میں دوسری بار ورلڈ کپ اٹھائیں گے اور ساتھ گولڈن بوٹ بھی؟ رونالڈو اپنی زندگی کا سب سے بڑا سپنا پورا کر پائیں گے ؟ یا امباپے کا وقت آیا ہے کہ وہ اپنے دور کا اعلان کریں؟ یا ہالینڈ کا ناروے کوئی کرشمہ دکھائے؟
فٹ بال کی خوبصورتی یہی ہے کہ یہاں بڑے سے بڑا کوچ بھی سکرپٹ پہلے سے نہیں لکھ سکتا ۔ میچ والے دن اپنے ہی انداز سے سب کچھ لکھا جاتا، طے ہو جاتا۔ دعا ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ایسی ہی کہانیاں دیتا رہے جو برسوں یاد رہیں۔












