افغان کرکٹر شاپور زدران 38 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
شاپور زدران پیر کی شب بیماری کے خلاف طویل اور بہادری سے لڑی گئی جدوجہد کے بعد انتقال کر گئے۔(فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان کے سابق فاسٹ بولر شاپور زدران طویل علالت کے بعد 38 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے منگل کو ان کے انتقال کی تصدیق کی۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں شاپور زدران کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں افغان کرکٹ کی بنیاد رکھنے والی شخصیات میں سے ایک قرار دیا۔ بورڈ کے مطابق ان کی لگن، عزم اور انتھک محنت نے ملک میں کرکٹ کے فروغ اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’شاپور زدران نے اپنے پورے کیریئر کے دوران افغانستان کرکٹ کی عزت، جرات اور فخر کے ساتھ خدمت کی۔ ان کی خدمات اور کامیابیاں افغان کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم باب رہیں گی، جبکہ قومی ٹیم کے لیے ان کی گرانقدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘
افغانستان کرکٹ بورڈ نے مزید کہا کہ شاپور زدران صرف میدان تک محدود نہیں تھے بلکہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر میں موجود کرکٹ شائقین کے لیے بھی ایک تحریک تھے۔ ان کی جدوجہد، ثابت قدمی اور کھیل سے غیر معمولی وابستگی نے ایک پوری نسل کو بڑے خواب دیکھنے اور افغان کرکٹ کے روشن مستقبل پر یقین رکھنے کا حوصلہ دیا۔
شاپور زدران ایک نایاب بیماری کے باعث انڈیا میں زیر علاج تھے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں افغانستان میں طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں جنوری میں نئی دہلی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں ان کے بھائی غمئی زدران اور افغانستان کے سابق کپتان اصغر افغان بھی علاج کے دوران ان کے ساتھ موجود رہے۔
شاپور زدران پیر کی شب بیماری کے خلاف طویل اور بہادری سے لڑی گئی جدوجہد کے بعد انتقال کر گئے۔
شاپور زردان کون تھے؟
آٹھ جولائی 1987 کو افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہونے والے شاپور زدران نے جنگ کے باعث بچپن میں پاکستان کے شہر پشاور میں پناہ لی، جہاں انہوں نے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ بعد ازاں وہ افغانستان واپس گئے اور قومی ٹیم کے ابتدائی اور اہم ستونوں میں شامل ہوئے۔
لمبے قد، تیز رفتار رن اپ اور جارحانہ باؤلنگ کے باعث شاپور زدران افغانستان کرکٹ کی پہچان بن گئے۔
انہوں نے سنہ 2009 سے 2020 کے دوران افغانستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 انٹرنیشنل میچز کھیلے اور مجموعی طور پر 80 وکٹیں حاصل کیں۔ سنہ 2015 کے آئی سی سی ورلڈ کپ میں وہ افغانستان کے سب سے کامیاب باؤلر رہے، جہاں انہوں نے 10 وکٹیں حاصل کیں۔
شاپور زدران صرف ایک کامیاب کرکٹر ہی نہیں بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک رہنما اور متاثر کن شخصیت بھی تھے۔
