ماضی کا حیرت کدہ: دادان ریاست کی قدیم تہذیب اور تاریخ کی نمائش
وزیٹرز کو مختلف تاریخی ادوار سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ ( فوٹو: ایس پی اے)
تاریخی علاقے العلا میں ’اکتشافات مضیئہ: المراحل التاریخیہ فی دادن‘ (روشن دریافتیں، دادن کے تاریخی ادوار) کے عنوان سے سمر سیزن میں ٹور پروگرام جاری ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق دادان اورجبلِ عکمہ کے ٹور پروگرام میں ایک نمائش کے ذریعے دادان کی ریاست کی قدیم تہذیب و تاریخ اور آثار قدیمہ کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔
دادان کے آثارِ قدیمہ کے مقام پرمنعقدہ نمائش میں سیاحوں کو شہر کے مختلف تاریخی ادوار کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دادان اور ’ام درج‘ کے مقامات پر کھدائی میں برآمد ہونے والے 100 سے زائد نوادرات نمائش میں رکھے گئے ہیں جو اس قدیم شہر کی روز مرہ زندگی، دستکاری، مذہبی عقائد اور تجارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش میں موجود نوادرات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دادان، قدیم دنیا کی مختلف تہذیبوں کے درمیان ایک اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز تھا۔

ان نوادرات میں یونانی طرز کا مٹی کا مجسمہ، رومی یا بازنطینی دورسے منسوب ہڈی سے تیار کردہ بالوں میں لگانے والی پن اور قدیم جنوبی عربی زبان کے رسم الخط میں کندہ تحریریں شامل ہیں، جو اس شہر کے تاریخی راستے مختلف تہذیبوں سے تعلقات کے گواہ ہیں۔
نمائش میں ایسے آثار بھی موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ دادان میں زرعی سرگرمیوں کا آغاز تقریبا تین ہزار قبل مسیح میں ہوا۔ ان میں دھات سازی، سوت کاتنے اور کپڑا بننے جیسی صنعتوں کے شواہد شامل ہیں جو اس شہر کی معاشی اور تہذیبی ترقی کو نمایاں کرتے ہیں۔
ریتیلے پتھروں پر کندہ قدیم نقوش بھی رکھے گئے ہیں جن میں جنوبی عربی زبان کے رسم الخط کی تحریریں اور پتھر پردرج ہونے والی ایک تحریر کا حصہ شامل ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کسی مذہبی یا عوامی عمارت کا حصہ رہی ہوگی۔

ان کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں سے متعلق کتبے بھی موجود ہیں جن کا تعلق جبلِ عکمہ میں پائے جانے والے مشہور سنگی نقوش سے ہے۔ جبلِ عکمہ کو سعودی عرب کے نمایاں چٹانی نقوش کے مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسے یونیسکو کے میموری آف دی ورلڈ رجسٹر میں شامل کیا گیا ہے۔
نمائش میں آثارقدیمہ کی تازہ تحقیق اور سروے کے نتائج بھی پیش کیے گئے ہیں جن کے دوران دادان کے اطراف میں سینکڑوں سنگی نقوش اور چٹانی تصاویر دریافت ہوئیں۔ ان میں نیزے تھامے گھڑ سواروں اور شکار کے مناظر کی تصاویر شامل ہیں۔

نمائش کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہےجن میں دستکاری اور روزمرہ زندگی، تجارت اور تبادلہ، قدیم عقائد اور مذہبی رسومات، پتھروں پر کندہ تحریریں اور ام درج کے آثارقدیمہ کا مقام شامل ہیں۔ ان حصوں کے ذریعے سیاحوں کو دادان کی تاریخی اہمیت اور قدیم عرب دنیا میں اس کے کردار کا جامع تعارف حاصل ہوتا ہے۔
نمائش سعودی اور بین الاقوامی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے باہمی تعاون سے دادان آثار قدیمہ منصوبے کے تحت منعقد کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں رائل کمیشن برائے العلا، فرانس کے قومی مرکز برائے سائنسی تحقیق اور فرانسیسی ایجنسی برائے ترقیِ العلا شریک ہیں۔
