بنگلہ دیش کی مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کا رواں سال ملک واپسی کا اعلان
بنگلہ دیش کی مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کا رواں سال ملک واپسی کا اعلان
اتوار 28 جون 2026 16:51
شیخ حسینہ نے کہا کہ میں ہر رکاوٹ اور ہر سازش کو عبور کرتے ہوئے اسی سال اپنے ملک واپس آؤں گی (فائل فوٹو: روئٹرز)
بنگلہ دیش کی مفرور سابق رہنما شیخ حسینہ نے اتوار کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ رواں سال اپنے ملک واپس آئیں گی، حالانکہ چند ماہ قبل انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 78 سالہ شیخ حسینہ اگست 2024 میں اس وقت پڑوسی ملک انڈیا فرار ہو گئی تھیں، جب طلبہ کی قیادت میں چلنے والی ایک تحریک نے ان کے 15 برس پر محیط سخت گیر دورِ اقتدار کا خاتمہ کر دیا تھا۔
وہ اس کے بعد سے جنوری کے سوا عوامی سطح پر نظر نہیں آئیں، جب انہوں نے نئی دہلی کے ایک پرہجوم پریس کلب میں ایک غیرمعمولی تقریر کی تھی۔
شیخ حسینہ نے انڈین نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ موت سے نہیں ڈرتیں اور ان کے خلاف ’ایک غیر قانونی، غیر آئینی اور سیاسی فیصلہ‘ دیا گیا۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ ’میرے خلاف کئی سازشیں کی گئیں، لیکن میں ہر بار ان سازشوں کو بے نقاب بناتے ہوئے عوام کے ووٹ سے پانچ مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئی اور یوں میں نے اپنے ملک کی بے مثال ترقی کے لیے کام کیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں واضح طور پر یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میں ہر رکاوٹ اور ہر سازش کو عبور کرتے ہوئے اسی سال اپنے ملک واپس آؤں گی۔‘ انہوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی کہ کیا وہ سزائے موت کے فیصلے کے باوجود وطن واپس آئیں گی۔
گزشتہ برس نومبر میں ڈھاکہ کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کو اشتعال انگیزی، قتل کے احکامات دینے اور مظالم کو روکنے میں ناکامی کے جرائم میں قصور وار قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔
انڈیا اور بنگلہ دیش میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے کیونکہ بنگلہ دیش بارہا شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ان کی سابق حکمران جماعت عوامی لیگ کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جو کبھی ملک کی مقبول ترین جماعتوں میں شمار ہوتی تھی۔
فروری میں 17 کروڑ آبادی والے اس جنوبی ایشیائی ملک میں وزیراعظم طارق رحمان کی بھاری اکثریت سے انتخابی فتح کے بعد انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
تاہم کشیدگی اب بھی برقرار ہے، کیونکہ بنگلہ دیش بارہا شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔