Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض عالمی سائبر سکیورٹی چیلنج کی میزبانی کے لیے تیار

سال 2026 کے اس مقابلے میں سات لاکھ 90 ہزار سعودی ریال سے زائد مالیت کے انعامات پیش کیے جائیں گے (فوٹو: بلیک ہیٹ ایم ای اے)
ریاض یکم سے تین دسمبر 2026 تک منعقد ہونے والے بلیک ہیٹ مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ کے تحت کیپچر دی فلیگ (سی ٹی ایف) مقابلے کے ذریعے دنیا کے سب سے بڑے سائبر سکیورٹی چیلنج کی میزبانی کرے گا۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ ایونٹ سعودی فیڈریشن فار سائبر سکیورٹی، پروگرامنگ اینڈ ڈرونز (ایس اے ایف سی پی) اور طویق اکیڈمی کے ساتھ شراکت کے طور پر تحالف کی جانب سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
اس ایونٹ میں دنیا بھر سے سائبر سکیورٹی کے ماہرین اکھٹے ہوں گے۔
یہ تقریب ان مشترکہ کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ایک ایسا مسابقتی ماحول فراہم کر کے سعودی عرب کو سائبر سکیورٹی اور جدید ٹیکنالوجی کا عالمی مرکز بنانا ہے جو نئی سوچ کو فروغ دے، مقامی ٹیلنٹ کو نکھارے اور دنیا بھر کے ماہرین کو اپنی طرف راغب کرے۔
کیپچر دی فلیگ مقابلہ اپنے گزشتہ ایڈیشنز کی شاندار کامیابیوں کے تسلسل میں منعقد کیا جا رہا ہے جن کی بدولت سعودی عرب نے بلیک ہیٹ کے دوران اس نوعیت کے دنیا کے سب سے بڑے مقابلے کی میزبانی کر کے گینز ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروایا تھا۔
یہ کامیابی بڑے عالمی ٹیکنالوجی کے پروگراموں کی میزبانی میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور ابھرتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
2026 کے اس مقابلے میں سات لاکھ 90 ہزار سعودی ریال سے زائد مالیت کے انعامات پیش کیے جائیں گے۔ اس کے فائنل مقابلے میں دنیا کی بہترین 150 ٹیمیں آمنے سامنے مقابلے کے لیے ریاض آئیں گی جہاں وہ سائبر سکیورٹی کے جدید ترین شعبوں پر مشتمل مشکل چیلنجز میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گی۔
اس مقابلے کا مقصد عملی مہارتوں کو فروغ دینا، باہمی مقابلے کی فضا کو بہتر بنانا، اس شعبے میں نئی جدت لانا اور عالمی ٹیکنالوجی کے نقشے پر سعودی عرب کے مقام کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

پچھلے ایڈیشن میں 140 سے زائد ممالک سے 45 ہزار سے زیادہ شرکا شریک ہوئے تھے (فوٹو: انت عربی)

طویق اکیڈمی کے سی ای او عبدالعزیز الحمادی نے کہا ہے کہ اس مقابلے کی میزبانی اکیڈمی کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ملکی ٹیلنٹ کو بااختیار بنانا، عالمی سطح کی مہارتوں کو راغب کرنا اور ایک ایسا ماحول بنانا ہے جو بہترین صلاحیتوں کو سامنے لانے اور سائبر سکیورٹی کے شعبے میں نئی سوچ کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس عالمی تقریب کی میزبانی کرنا سعودی عرب کی تیز رفتار تکنیکی ترقی اور دنیا بھر میں مقابلہ کرنے والا ڈیجیٹل نظام بنانے میں اس کے اہم کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ بلیک ہیٹ مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ 2026 دنیا بھر سے ہزاروں ماہرین، فیصلہ سازوں اور پروفیشنلز کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ہونے والے ایڈیشن میں 140 سے زائد ممالک سے 45 ہزار سے زیادہ شرکا شریک ہوئے تھے جس نے اسے دنیا کی سب سے بڑی سائبر سکیورٹی تقریبات میں سے ایک بنا دیا اور عالمی ٹیکنالوجی کے بڑے پروگراموں کے لیے ایک اہم ترین مقام کے طور پر سعودی عرب کی پوزیشن کو مزید مستحکم کر دیا۔

 

شیئر: