البانیہ میں ایوانکا ٹرمپ کے ریزورٹ کی تعمیر، دعا لیپا مظاہرین کے حق میں بول پڑیں
البانیہ میں ایوانکا ٹرمپ کے ریزورٹ کی تعمیر، دعا لیپا مظاہرین کے حق میں بول پڑیں
منگل 14 جولائی 2026 18:11
اس منصوبے کی مخالفت بدعنوانی کے مبینہ الزامات کے خلاف عوامی غصے کی علامت بن چکی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
برطانوی گلوکارہ دعا لیپا نے منگل کو شائع ہونے والے اپنے ایک پوڈکاسٹ میں کہا ہے کہ البانیہ میں جاری احتجاجی تحریک ’حوصلہ افزا‘ ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے منسلک ایک ریزورٹ کی تعمیر کے خلاف مظاہرے البانوی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رواں سال مئی کے آخر سے ملک کے ساحلی علاقے میں واقع محفوظ قرار دیے گئے ایک قدرتی مقام پر ایوانکا ٹرمپ اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر سے منسلک ایک لگژری ہوٹل کی مجوزہ تعمیر کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
دعا لیپا نے اپنے سروس 95 بک کلب پوڈکاسٹ میں البانوی مصنفہ لیا یپی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس منصوبے کی منظوری کے عمل میں حکومتی شفافیت سے متعلق مظاہرین کے خدشات سے متفق ہیں۔
30 سالہ گلوکارہ نے کہا کہ ’مجھے اصل میں اس بات پر تشویش ہے کہ حکومت کسی قسم کی عوامی مشاورت کے بغیر ماحولیاتی تحفظ ختم کرنے کے لیے قانون میں تبدیلی کر سکتی ہے۔‘ دعا لیپا کے والدین کوسوو اور البانیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
انہوں نے روزانہ ہونے والے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ دیکھنا واقعتاً حوصلہ افزا ہے کہ لوگ اس معاملے پر غیرمعمولی سنجیدگی ظاہر کر رہے ہیں۔‘
گلوکارہ نے مزید کہا کہ ’یہ مسئلہ ساختی نوعیت کا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ نظام کو ’اس انداز میں دوبارہ تشکیل دیا جائے جو عوام کے حق میں ہو۔‘
اس مجوزہ ریزورٹ کا اعلان پہلی بار سال 2024 میں کیا گیا تھا، تاہم احتجاج کی تازہ لہر اس وقت شروع ہوئی جب مئی کے آخر میں ساحلوں پر خاردار تاریں اور بلڈوزر دکھائی دیے۔
دعا لیپا نے کہا کہ وہ اس منصوبے کی منظوری کے عمل میں حکومتی شفافیت سے متعلق مظاہرین کے خدشات سے متفق ہیں (فوٹو: بل بورڈ)
اس منصوبے کی مخالفت بدعنوانی کے مبینہ الزامات کے خلاف عوامی غصے کی علامت بن چکی ہے، اور اب مظاہرین کے مطالبات میں وزیرِ اعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
مقامی ماحولیاتی کارکن بیسجانا گُری نے گلوکارہ کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ البانوی حکومت کے لیے ایک ’طاقتور پیغام‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ان کی آواز اس جدوجہد کو عالمی سطح پر زیادہ توجہ دلانے میں مدد دے گی اور تیرانہ میں احتجاج کرنے والے لوگوں کے خدشات کو نمایاں کرے گی۔‘