Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اوڈیسی: سال کی سب سے بڑی فلم یا بڑا رسک؟ عامر خاکوانی کا بلاگ

کرسٹوفر نولان کو عہد حاضر کے چند عظیم ترین فلم سازوں میں شمار کیا جاتا ہے (فوٹو: اے پی)
کرسٹوفر نولان آج دنیا کے ان چند فلم سازوں میں شامل ہیں جن کا نام ہی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔
اوپن ہائمر کے بعد اب وہ تین ہزار سال پرانی یونانی رزمیہ داستان اوڈیسی کو سلور سکرین پر لا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چند دن بعد ریلیز ہونے والی یہ فلم بھی نولان کے شاہکاروں میں شامل ہوگی یا ان کے کیریئر کا سب سے بڑا رسک ثابت ہوگی؟
اوڈیسی ایک بڑے ڈائریکٹر کی بڑی فلم تو ہے ہی، اس پر خرچ بھی بے پناہ ہوا ہے، یہ بہت مہنگی فلم ہے، اور اس کا موضوع بھی منفرد اور بہت پھیلا ہوا ہے۔ اتنے بڑے موضوع اور کئی برسوں پر محیط کہانی کو نجانے نولان نے کیسے بڑی سکرین پر پیش کیا، یہ ہر باذوق فلم بین دیکھنا چاہتا ہے۔
کرسٹوفر نولان کی فلمیں
کرسٹوفر نولان کو عہد حاضر کے چند عظیم ترین فلم سازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ بیک وقت ہدایت کار بھی ہیں، پروڈیوسر بھی اور سکرپٹ رائٹر بھی۔ 30 جولائی 1970 کو لندن میں پیدا ہونے والا یہ برطانوی نژاد فلم ساز آج تاریخ کے چند سب سے زیادہ کمائی کرنے والے ہدایت کاروں میں شامل ہے۔ چھ ارب ڈالر سے زیادہ کمائی، بارہ فلمیں اور ہر ایک فلموں کی مشہور ویب سائٹ ’روٹن ٹومیٹوز‘ پر فریش یعنی ناقدین کی پسندیدہ۔ کنگ چارلس نے سنہ 2024 میں انہیں نائٹ کا خطاب دیا۔
سر کرسٹوفر نولان کی شاہکار فلمیں
نولان کا سفر 1998 میں صرف چھ ہزار ڈالر کی فلم ’فالوئنگ‘ سے شروع ہوا۔ پھر دو ہزار میں ’میمینٹو‘ آئی جس میں الٹی ترتیب سے کہانی سنانے کا وہ انداز تھا جو نولان کی پہچان بن گیا۔میمنٹو میں ہیرو کی شارٹ ٹرم میموری ہوتی ہے ، وہ چند منٹ کے بعد بات بھول جاتا ہے۔ بالی وڈ میں عامر خان کی مشہور فلم گجنی دراصل اسی میمنٹو کی ہندی کاپی سمجھ لیں، مکمل نقل ہے۔

نولان کا سفر 1998 میں صرف چھ ہزار ڈالر کی فلم ’فالوئنگ‘ سے شروع ہوا (فوٹو: وائی ایم سنیما)

سنہ 2005 میں نولان کی فلم بیٹمین بیگنز، 2008 میں دی ڈارک نائٹ جس نے دنیا بھر میں ایک ارب ڈالر کمائے۔ اس دوران انسومنیا، پریسٹیج اور ڈارک نائٹ رائزز بھی آئیں۔ 2010 میں ایک بہت ہی مختلف اور منفرد موضوع پر بنی فلم انسیپشن جس میں لیونارڈو ڈی کیپریو خوابوں کے اندر گھس کر دماغ میں چھپے سیکرٹس چراتا ہے، 2014 میں انٹرسٹیلر نے وقت اور خلا کو نئے انداز سے دکھایا، 2017 میں وار مووی ڈنکرک، 2020 میں ٹینیٹ آئی۔ یہ بھی خاصی پیچیدہ فلم تھی۔
فلم کا بنیادی خیال یہ ہے کہ مستقبل ماضی کو بدل سکتا ہے، ایک بار دیکھنے میں یہ فلم سمجھ ہی نہیں آتی۔ 2023 میں فلم اوپن ہائمر آئی جس نے نولان کو پہلی بار دو آسکر دلوائے، بہترین ہدایت کار اور بہترین فلم کا۔ یوں بارہ فلمیں اور ہر ایک اپنی مثال آپ۔ اوڈیسی ان کی تیرھویں فلم ہے۔
ہومر کی نظم اوڈیسی
نولان کی نئی فلم تین ہزار سال قدیم یونانی شاعر ہومر کی ایک شاعرانہ داستان اوڈیسی پر بنی ہے۔ ہومر کی دو نظمیں بہت مشہور ہیں ، ’ایلیڈ‘ اور ’اوڈیسی‘۔ کہتے ہیں ہومر سکندر عظم کا پسندیدہ شاعر تھا، وہ اس کے نسخے اپنے پاس سنبھال کر رکھتا اور جنگوں میں بھی رات کو ہومر کی شاعری پڑھ کر اپنی تھکن اتارتا۔
ایلیڈ میں اس مشہور ٹروجن جنگ کا ذکر ہے جو شہرہ آفاق یونانی حسینہ ہیلن آف ٹرائے کے لیے ہوئی۔ اس جنگ میں یونان کے نامی گرامی سورما شریک ہوئے۔ مشہور ہالی وڈ فلم ’ٹرائے‘ اسی کہانی پر بنی ہے۔
اوڈیسی اس داستان ایلیڈ کا ایک طرح سے دوسرا حصہ ہے۔ جب ٹرائے کی جنگ ختم ہوجاتی ہے اور سورما اپنے اپنے وطن واپس لوٹنا شروع کرتے ہیں، تب اوڈیسی شروع ہوتی ہے۔ اس میں اتھاکا جزیرے کے نامور جنگجو بادشاہ اوڈیسیوس کا تذکرہ ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ کوئی 40 سال قبل ’جہاں گرد کی واپسی‘ کے نام سے ہو چکا ہے، یہ ترجمہ معروف ادیب سلیم الرحمٰن نے کیا تھا۔ سلیم الرحمن صاحب کے بقول انہوں نے ایلیڈ کے بجائے اوڈیسی کو ترجمے کے لیے اس لیے منتخب کیا کہ یہ انہیں ہمارے خطے کی مشہور داستان سندباد جہازی سے ملتی جلتی لگی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ اوڈیسی ہمارے قاری کو اجنبی نہیں لگتی۔ سندباد جہازی، داستانِ امیر حمزہ اور کلاسیکی سفرناموں کی طرح اس میں بھی مہم، خطرہ، حیرت اور گھر واپسی کی خواہش ایک ساتھ ملتی ہیں۔
اوڈیسی نظم کا خلاصہ
اوڈیسی کا پلاٹ یہ ہے کہ اوڈیسیوس، جو یونانی میں یولیسس بھی کہلاتا ہے، اتھاکا کا بادشاہ ہے۔ ٹروجن جنگ جیت کر وہ اپنی سلطنت واپس لوٹنا چاہتا ہے مگر یہ سفر دس سال سے زیادہ کا بن جاتا ہے۔ راستے میں دیوتاؤں کی سازشیں، سائیکلوپس جیسے عفریت، جادوگرنیاں، موت والی سرزمین اور ایسے جزیرے جہاں وقت رک جاتا ہے۔

اوپن ہائمر کے بعد کوسٹوفر نولان اب تین ہزار سال پرانی یونانی رزمیہ داستان اوڈیسی کو سلور سکرین پر لا رہے ہیں (فوٹو: دی اکنامک ٹائمز)

وہ جب 20 سال بعد اتھاکا پہنچتا ہے تو وہاں ایک اور آزمائش انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ اس کی غیر حاضری میں اس کی حسین بیوی ملکہ پینی لوپی کے درجنوں دعوے دار اس کے محل میں ڈیرے ڈال چکے ہیں، روز جانور ذبح ہوتے ہیں، ضیافتیں سجتی ہیں، اور یہ سب اس امید پر کہ شاید پینی لوپی ان میں سے کسی کو اپنا لے۔ پینی لوپی پریشان ہے مگر وہ دلیر اور عقل مند عورت ہے۔ وہ اپنے شوہر کا بدستور انتظار کر رہی ہے۔
اوڈیسیوس بھیس بدل کر محل میں داخل ہوتا ہے، حالات کا جائزہ لیتا ہے اور پھر اپنی مخصوص ذہانت اور چالاکی سے ان تمام دعوے داروں کو ایسا سبق سکھاتا ہے جو وہ کبھی نہیں بھول سکتے۔ یہ صرف گھر واپسی نہیں، یہ ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جو سب کچھ کھو کر بھی واپس آتا ہے اور اپنا گھر پھر سے بناتا ہے۔
نولان کو یہ داستان پسند تھی، بچپن سے کئی بار اسے پڑھا۔ نولان نے خاص طور پر اس برطانوی امریکی ماہرہ ایملی ولسن کے ترجمے کا ذکر کیا جو سنہ 2017 میں آیا اور جس نے اس قدیم داستان کو نئی زندگی دی۔
نولان کا کہنا ہے کہ وہ 20 سال پہلے اس کہانی پر ہاتھ ڈالنا چاہتے تھے لیکن خود کو تیار نہیں پایا۔ پہلے انسیپشن بنائی، پھر انٹرسٹیلر، پھر ڈنکرک، پھر اوپن ہائمر، تب جا کر محسوس ہوا کہ اب میں اوڈیسی کو انصاف دے سکتا ہوں۔
فلم مکمل طور پر آئی میکس ستر ملی میٹر کیمروں سے فلمائی گئی ہے، کسی بڑی بلاک بسٹر کے لیے پہلی بارایسا تجربہ ، ایسا رسک لیا گیا۔ اٹلی کے ساحل، آئس لینڈ کے گلیشئر، یونانی جزیرے، مراکش کے صحرا، سکاٹ لینڈ کی دھندلی وادیاں، سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جو یونانی افسانے کو آج کی آنکھوں سے دکھاتا ہے۔

نولان نے ہیلن آف ٹرائے کے کردار کے یلے کینیائی نژاد (سیاہ فام) امریکی اداکارہ لوپیتا نیونگو کو منتخب کیا (فوٹو: گریک رپورٹر)

اس فلم کا بجٹ 25 کروڑ ڈالرہے جو اسے نولان کی سب سے مہنگی فلم بناتا ہے۔  کاسٹنگ شاندار ہے۔ نولان کے ایک فیورٹ اداکار میٹ ڈیمن نے اوڈیسیوس کا کردار ادا کیا ہے۔ ان کے ساتھ آین ہیتھوے نے پینی لوپی جبکہ اوڈیسیوس کے بیٹے کا کردار ٹام ہالینڈ نے ادا کیا اور جنہوں نے اس کی اداکاری دیکھی، وہ سراہ رہے ہیں۔ رابرٹ پیٹنسن بھی ہیں اور زینڈایا دیوی ایتھینا بنی ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں فلم کو سراہا جا رہا ہے۔ جن نقادوں کو غیر رسمی طور پر فلم رشز دیکھنے کا موقعہ ملا ، انہوں نے میٹ ڈیمن کی پرفارمنس غیر معمولی قرار دی۔
ہیلن آف ٹرائے کے لیے سیاہ فام اداکارہ
نولان کی اس فلم کے حوالے سے ایک تنازع بھی چل رہا ہے، کچھ لوگ فلم دیکھنے سے پہلے ہی تنقید شروع کر چکے ہیں۔ نولان نے شہرہ آفاق یونانی حسینہ ہیلن آف ٹرائے کے کردار کے لیے کسی سفید فام حسین اداکارہ کے بجائے کینیائی نژاد (سیاہ فام) امریکی اداکارہ لوپیتا نیونگو کو منتخب کیا۔ ہیلن وہ ہستی ہے جسے قدیم یونانی روایت میں دنیا کی سب سے خوبصورت عورت کہا گیا اور جن کی وجہ سے ٹروجن جنگ برپا ہوئی تھی۔
بہت سے نقاد اور فلمی حلقے بھی حیران ہیں کہ جب ایک سفید فام سنہری زلفوں والی حسین ہیلن کا کردار ہومر نے تخلیق کیا تھا تو نولان اس کردار کی جگہ ایک سیاہ فام لڑکی کو کیوں کاسٹ کر رہے ہیں؟
ایلون مسک نے ایکس پر اس فیصلے پر سخت تنقید کی، نولان کو سفید مخالف نسل پرست قرار دیا، کہا کہ انہوں نے آسکر کی چاہت میں اپنی دیانت بیچ دی۔ مسک نے ایک ویڈیو شیئر کی جس کا کیپشن تھا کہ نولان ہومر کی قبر پر ناچ رہا ہے۔ امریکی دائیں بازو کے نقادوں نے شور مچایا۔ یونان میں بھی ناراضی پھیلی، یونانی میڈیا کو لگتا ہے کہ ہیلن کے کردار کے لیے نہ صرف غیریونانی بلکہ سیاہ فام اداکارہ کو کاسٹ کرنا تاریخ مسخ کرنا ہے۔
تاہم ایک حلقہ کرسٹوفر نولان کے نقطۂ نظر کا حامی بھی ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ ہومر نے ہیلن کی جلد کا رنگ اس طرح سے ذکر نہیں کیا۔ بس لکھا کہ وہ دنیا کی سب سے خوبصورت عورت تھیں۔ تو دنیا کی یہ خوبصورت ترین عورت سیاہ فام بھی تو ہوسکتی ہے۔ دوسری دلیل یہ دی گئی کہ اوڈیسی ایک شاعرانہ داستان ہے، تاریخی دستاویز نہیں۔ یہ اس طرح سے فیکٹس نہیں بلکہ فکشن ہے۔

فلم مکمل طور پر آئی میکس ستر ملی میٹر کیمروں سے فلمائی گئی ہے (فوٹو: ڈیڈ لائن)

نولان کے حامی فلمی نقاد ایک اور نکتہ بھی اٹھا رہے ہیں کہ میٹ ڈیمن بھی تو سکینڈے نیوین نسل کے ہیں، وہ بھی بحیرہ روم کے یونانی جیسے نہیں لگتے۔ تو پھر صرف سیاہ فام ہیلن پر اعتراض کیوں؟ بہرحال یہ بحث ابھی جاری ہے، لوگ نولان اور ان کے حامیوں کے نقطہ نظر سے مطمئن نہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ یہ حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
ایلون مسک نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ کسی افریقی ہیرو یا دلیر جنگجو پر فلم بنے اور اسے کوئی سفید فام ہیرو کرے تو پھر کیسا لگے گا سب کو؟
نولان پراعتماد ہیں
نولان ایک اور منفرد کام بھی کر رہے ہیں۔ یونیورسل پکچرز نے اعلان کیا ہے کہ فلم پہلے پیشہ ور نقادوں کو دکھائی جائے گی، سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو نہیں۔ نولان نے کبھی فلم فیسٹیولز یا انفلوئنسرز کا سہارا نہیں لیا۔ یہ اعتماد وہی شخص دکھا سکتا ہے جسے یقین ہو کہ اس کی فلم خود اپنی بات کرے گی۔
نولان کی فلموں کے بارے میں میری طالب علمانہ رائے ہے کہ وہ اپنے ناظر کو بے وقوف نہیں سمجھتے۔ میمینٹو میں الٹی ترتیب سے کہانی بیان کی، انسیپشن میں خوابوں کے اندر خوابوں کا معما کھڑا کیا، انٹرسٹیلر میں وقت کی نسبت جیسے سائنسی اصول کو محسوس کرایا، اوپن ہائمر میں اخلاقی کشمکش کو تین مختلف ٹائم لائنز میں بکھیرا۔ ہر فلم دیکھنے کے بعد آدمی کچھ دیر سوچتا رہتا ہے۔
البتہ ایک اور پہلو بھی ذہن میں رکھیں وہ نولان کی مشکل پسندی ہے۔ نولان کے ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ بعض اوقات کہانی کے انسانی پہلو پر اتنی توجہ نہیں دیتے جتنی تکنیکی ساخت پر۔ ٹینیٹ اس کی مثال ہے جسے بہت سے ناظرین نے حد سے زیادہ پیچیدہ قرار دیا۔

2023 میں فلم اوپن ہائمر آئی جس نے نولان کو پہلی بار دو آسکر دلوائے (فوٹو: گیٹی)

اب دیکھنا یہ ہے کہ اوڈیسی میں وہ دانش اور جذبات کے درمیان بہتر توازن قائم کر پاتے ہیں یا نہیں؟
ہومر کا قانون زیوس
دو دن قبل نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے نولان نے اوڈیسی کے ایک ایسے پہلو کا ذکر کیا جو انہیں سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ ہومر کی اس داستان میں زیوس کا ایک قانون ہے جسے نولان اخلاق کا سنہری اصول کہتے ہیں کہ ’دوسروں سے ویسا برتاؤ کرو جیسا تم خود چاہتے ہو۔‘
قدیم یونان میں اجنبیوں کا خیرمقدم محض شائستگی نہیں بلکہ بقا کی ضرورت تھی، کیونکہ آج آپ اجنبی ہیں، کل کوئی اور اجنبی ہوگا۔ نولان نے کہا کہ یہ اصول آج کے معاشرے میں بھی اتنا ہی سچا ہے، بلکہ شاید آج اس کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ جب پوچھا گیا کہ فلم کا کوئی واضح اخلاقی پیغام ہے تو نولان نے کہا کہ ہاں، سو فیصد ہے، لیکن میں اسے الفاظ میں بیان نہیں کرنا چاہتا، لوگ فلم میں خود محسوس کریں۔

ایلون مسک نے نولان کو نسل پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آسکر کی چاہت میں اپنی دیانت بیچ دی (فوٹو:  این بی سی نیوز)

سچ تو یہ ہے کہ اوڈیسی صرف ایک یونانی بادشاہ کا گھر واپسی کا سفر نہیں۔ یہ ہر انسان کی کہانی ہے جو طوفانوں کے باوجود واپس لوٹنا چاہتا ہے، جو بھٹکتا ہے مگر راستہ نہیں بھولتا ۔ جو جانتا ہے کہ گھر کہاں ہے چاہے راستہ کتنا ہی لمبا کیوں نہ ہو۔
تین ہزار سال بعد بھی یہ کہانی اس لیے زندہ ہے کیونکہ انسانی فطرت نہیں بدلی۔ اللہ کرے نولان اس بار بھی اس کہانی کو وہ انصاف دے سکے جو یہ مانگتی ہے۔

شیئر: