Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

2045 تک دنیا میں 50 ہزار ’نئے اور ماحول دوست‘ طیارے پرواز کریں گے: بوئنگ کی پیشگوئی

اس وقت دنیا بھر میں صرف 32 فیصد طیارے ہی اس نئی جنریشن سے تعلق رکھتے ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
جہاز بنانے والی دنیا کی معروف کمپنی ’بوئنگ‘ نے جمعے کو جاری کردہ اپنی سالانہ رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ سال 2045 تک دنیا بھر میں تجارتی طیاروں کی مجموعی تعداد 50 ہزار تک پہنچ جائے گی جن میں سے 90 فیصد سے زائد طیارے زیادہ ایندھن بچانے والے اور ’نئی جنریشن‘ کے جدید ترین ڈیزائن پر مبنی ہوں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں فعال طیاروں کی تعداد لگ بھگ 28 ہزار ہے اور بوئنگ کا یہ نیا تخمینہ معاشی ترقی اور نئے سفری روٹس کے کھلنے کے باعث طویل مدتی طلب میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔
بوئنگ کے سالانہ آؤٹ لک کے مطابق ہوائی سفر کی اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور پرانے طیاروں کو تبدیل کرنے کے لیے جہاز ساز کمپنیوں کو اگلے دو دہائیوں میں قریباً 44 ہزار نئے طیارے تیار کرنا ہوں گے۔
یہ اعدادوشمار برطانیہ میں آئندہ ہفتے شروع ہونے والے ’فارنبورو ایئر شو‘ سے قبل جاری کیے گئے ہیں جو کہ کمپنی کے پچھلے سال کے تخمینوں سے کافی مماثلت رکھتے ہیں۔
ایندھن کی بچت اور ماحولیاتی فوائد
کمپنی کا کہنا ہے کہ 2045 تک دنیا کے 92 فیصد فضائی بیڑے میں ایسے طیارے شامل ہوں گے جو ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ طیاروں کے مقابلے میں قریباً 20 فیصد کم ایندھن استعمال کریں گے۔
واضح رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں موجود کل طیاروں میں سے صرف 32 فیصد طیارے ہی اس نئی جنریشن سے تعلق رکھتے ہیں۔
بوئنگ کے کمرشل مارکیٹنگ کے نائب صدر ڈیرن ہلسٹ نے ایک بریفنگ کے دوران اعتراف کیا کہ موجودہ سال فضائی صنعت اور ایئر لائنز کے لیے تجارتی لحاظ سے ویسا ثابت نہیں ہو رہا جیسا کہ سال کے آغاز میں توقع کی جا رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا ’تاہم، اس کے باوجود فضائی سفر کی بنیادی وجوہات اور اس کی طلب اپنی جگہ مکمل طور پر برقرار ہے۔‘ ڈیرن ہلسٹ کے مطابق موجودہ سال کے لیے سفری طلب اب توقعات سے آدھی یا اس سے بھی کچھ کم رہنے کا امکان ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کا تنازع اور روٹس کی تبدیلی
ڈیرن ہلسٹ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازع کے باعث ایئر لائنز نے کتنی تیزی سے اپنے فضائی روٹس کو دوسرے خطوں کی طرف منتقل کیا۔
ان کا کہنا تھا ’ہم نے دیکھا کہ مسافروں نے اپنے طویل سفر کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے بجائے یورپ، ایشیا اور بعض صورتوں میں شمالی امریکہ کے ہوائی اڈوں (ہبز) کو ٹرانزٹ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔‘
بوئنگ کی اس رپورٹ میں اگلے 20 برسوں کے دوران مسافروں کی آمد و رفت میں سالانہ چار فیصد اور عالمی معیشت میں ڈھائی فیصد سالانہ ترقی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
مانگ اور پیداوار کا بڑھتا ہوا خلا
پچھلے سال کی طرح اس بار بھی بوئنگ کی رپورٹ نے کورونا وائرس کی وبا کے بعد سے سپلائی چین (سامان کی فراہمی) میں آنے والی رکاوٹوں کے باعث نئے طیاروں کی پیداوار اور ان کی مانگ کے درمیان بڑھتے ہوئے خلا کی نشان دہی کی ہے۔
ڈیرن ہلسٹ کا کہنا تھا کہ طیاروں کی پیداوار میں یہ ’کمی یا خسارہ‘ چھوٹے (سنگل آئل) طیاروں کے لیے شاید موجودہ دہائی کے اختتام تک ختم نہ ہو سکے جبکہ بڑے (وائیڈ باڈی) طیاروں کی پیداوار میں یہ تعطل اگلی دہائی کے اوائل تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

شیئر: