Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

رات کو روشنی فراہم کرنے کے لیے سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کا منصوبہ کیا ہے؟

مستقبل میں یہ منصوبہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے (فائل فوٹو: گیٹی)
امریکہ نے ایک ایسے سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجنے کی تیاری کی منظوری دی ہے جو رات کے وقت سورج کی روشنی کو زمین کے مخصوص علاقوں پر منعکس (ریفلکٹ) کر سکے گا۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’وائرڈ‘ کے مطابق امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (ایف سی سی) نے امریکی کمپنی ریفلیکٹ آربیٹل کو اپنے تجرباتی سیٹلائٹ ایئرینڈل-ون کی تیاری، لانچ اور آپریشن کی اجازت دے دی ہے۔
اس منصوبے کو جدید خلائی ٹیکنالوجی میں ایک منفرد پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرینِ فلکیات اور ماحولیات کے ماہرین نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق ایئرینڈل-ون میں 18 میٹر چوڑا انتہائی باریک آئینہ نصب ہوگا، جو تقریباً چھ سو 25 کلومیٹر کی بلندی سے سورج کی روشنی کو رات کے وقت زمین کے مخصوص علاقوں تک پہنچائے گا۔ ابتدائی طور پر یہ سیٹلائٹ تقریباً پانچ سے چھ کلومیٹر قطر کے علاقے کو چند منٹوں کے لیے روشن کر سکے گا۔ اس تجربے کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا خلا میں موجود آئینے کے ذریعے روشنی کو مطلوبہ مقام تک درست انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
ریفلیکٹ آربیٹل کا کہنا ہے کہ ’اس ٹیکنالوجی کو سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز، قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں، اہم تنصیبات کو ہنگامی روشنی فراہم کرنے، بڑے سولر پاور پلانٹس کے کام کے دورانیے میں اضافے اور دور دراز تعمیراتی منصوبوں میں عارضی روشنی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ’مستقبل میں یہ منصوبہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔‘
کمپنی نے مستقبل میں سنہ 2035 تک ایسے 50 ہزار ’مرر سیٹلائٹس‘ خلا میں بھیجنے کا ہدف بھی ظاہر کیا ہے، تاہم یہی منصوبہ سائنس دانوں اور ماہرینِ فلکیات کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر بڑی تعداد میں ایسے سیٹلائٹس خلا میں بھیجے گئے تو رات کے آسمان کی قدرتی تاریکی ختم ہو سکتی ہے، فلکیاتی مشاہدات شدید متاثر ہوں گے اور روشنی کی آلودگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔‘

کمپنی نے مستقبل میں سنہ 2035 تک ایسے 50 ہزار ’مرر سیٹلائٹس‘ خلا میں بھیجنے کا ہدف بھی ظاہر کیا ہے (فائل فوٹو:  گیٹی)

’امریکن آسٹرونومیکل سوسائٹی’، ’ڈارک سکائی انٹرنیشنل‘، ’رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی‘ اور دیگر سائنسی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے سیٹلائٹس سے نہ صرف رصدگاہوں کا کام متاثر ہوگا بلکہ جنگلی حیات، پرندوں اور دیگر جانداروں کے قدرتی حیاتیاتی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بعض ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اچانک منعکس ہونے والی روشنی ہوائی جہازوں کے پائلٹس اور سڑکوں پر گاڑی چلانے والوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
ان اعتراضات کے باوجود ایف سی سی نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ’موجودہ منظوری صرف ایک تجرباتی سیٹلائٹ کے لیے دی گئی ہے، نہ کہ ہزاروں سیٹلائٹس پر مشتمل کسی تجارتی منصوبے کے لیے۔‘ کمیشن کے مطابق اس تجربے کے نتائج سے یہ معلوم کیا جائے گا کہ یہ ٹیکنالوجی عملی طور پر کتنی مؤثر اور محفوظ ہے، جبکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے منصوبے کے لیے الگ سے ریگولیٹری منظوری درکار ہوگی۔
دوسری جانب ریفلیکٹ آربیٹل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سائنسی اداروں، ماہرین اور متعلقہ کمیونٹیز کے ساتھ مل کر اس منصوبے کے اثرات کا جائزہ لے گی اور اگر شواہد سے ثابت ہوا کہ اس ٹیکنالوجی کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہیں تو مستقبل کی حکمت عملی پر نظرثانی کی جائے گی۔

شیئر: