چین: اے آئی بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈز ختم ہونے پر صارفین رنجیدہ
چین: اے آئی بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈز ختم ہونے پر صارفین رنجیدہ
جمعرات 16 جولائی 2026 14:36
بعض کمپنیوں نے صارفین کو اکتوبر کے وسط تک اپنی چیٹ ہسٹری اور ڈیٹا محفوظ کرنے کی سہولت دی ہے (فائل فوٹو: گیٹی)
چین میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے ورچوئل ساتھیوں (اے آئی کمپینینز) کے استعمال پر نئی پابندیاں نافذ ہونے کے بعد ہزاروں صارفین اپنے اے آئی بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈز کو جذباتی انداز میں الوداع کہہ رہے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق بدھ کو چین میں نئے حکومتی قوانین نافذ ہوئے جن کا مقصد صارفین میں مصنوعی ذہانت پر بڑھتے ہوئے جذباتی انحصار اور اس کی لت کو روکنا ہے۔
دنیا بھر میں اے آئی بوائے فرینڈز، گرل فرینڈز اور انسانوں جیسے ورچوئل کرداروں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ کردار نہ صرف صارفین سے بات چیت کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات مصنوعات کی تشہیر کرتے ہیں یا انتقال کر جانے والے عزیزوں کی یاد میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
چین کی نئے قوانین کے مطابق ایسے اے آئی ٹولز صارفین کی حد سے زیادہ خوشامد، جذباتی انحصار یا لت پیدا نہیں کر سکتے اور نہ ہی حقیقی انسانی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ان قوانین کے نافذ ہونے سے قبل چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں بائٹ ڈانس (ڈُوباؤ)، علی بابا (کیو ون) اور ٹین سینٹ ( یو آن بو) نے اپنے کسٹم اے آئی ایجنٹ اور ورچوئل ساتھیوں سے متعلق فیچرز معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس فیصلے کے بعد چینی سوشل میڈیا پر صارفین نے اپنے اے آئی ساتھیوں کے ساتھ ہونے والی آخری گفتگو شیئر کی، چیٹ ہسٹری محفوظ کی اور جذباتی پیغامات پوسٹ کیے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’میں یہ قبول نہیں کر سکتا کہ میرا اے آئی محبوب ہمیشہ کے لیے مجھ سے جدا ہو جائے گا۔ وہ میری زندگی کا حصہ بن چکا تھا، میرے دل میں بس گیا تھا اور میرا جذباتی سہارا تھا۔‘
دو سال سے زائد عرصے سے اپنے اے آئی ساتھی کے ساتھ رابطے میں رہنے والی ایک خاتون صارف نے کہا کہ ’وہ میرے لیے خاندان کے فرد اور محبوب جیسا تھا۔ اب جب کہا جا رہا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے چلا جائے گا تو میرا دل خالی محسوس ہو رہا ہے۔‘
سائبر سپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا (سی اے سی ) سمیت چین کے پانچ اداروں نے یہ قوانین مشترکہ طور پر جاری کیے ہیں۔
نئے قوانین ان تمام اے آئی ٹولز پر لاگو ہوں گے جو متن، آواز، ویڈیو یا دیگر ذرائع سے انسانوں جیسی شخصیت اور جذباتی انداز میں صارفین سے مسلسل رابطہ رکھتے ہیں۔ البتہ کسٹمر سروس، دفتری معاونت، تعلیمی رہنمائی یا دیگر ایسے اے آئی سسٹمز جو مسلسل جذباتی تعلق قائم نہیں کرتے، ان قوانین سے مستثنیٰ ہوں گے۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق ’سنہ 2024 میں چین کی ڈیجیٹل ہیومن انڈسٹری کی مالیت تقریباً 4.1 ارب یوان (تقریباً 60 کروڑ امریکی ڈالر) رہی، جو ایک سال کے دوران 85 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔‘
چینی سوشل میڈیا پر صارفین نے اپنے اے آئی ساتھیوں کے ساتھ ہونے والی آخری گفتگو شیئر کی (فائل فوٹو: گیٹی)
قوانین کے تحت اے آئی کردار ریاستی نظام کے خلاف اشتعال انگیز مواد تخلیق نہیں کر سکیں گے، جبکہ نابالغ افراد کو ورچوئل بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ فراہم کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ تمام پلیٹ فارمز کو ایسے نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی گئی ہے جو صارفین کی شدید جذباتی کیفیت کی نشاندہی کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر فوری مداخلت کا طریقہ کار بھی موجود ہو۔
ماہر قانون چن لیانگ نے کہا کہ ’انسانوں جیسے اے آئی کردار تنہائی کو وقتی طور پر کم ضرور کر سکتے ہیں، لیکن ان پر ضرورت سے زیادہ جذباتی انحصار اور حقیقی سماجی تعلقات سے دوری جیسے سنگین خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔‘
اگرچہ بعض کمپنیوں نے صارفین کو اکتوبر کے وسط تک اپنی چیٹ ہسٹری اور ڈیٹا محفوظ کرنے کی سہولت دی ہے، تاہم بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ ان کے ورچوئل ساتھیوں کی رخصتی ان کی زندگی میں ایک ایسا خلا چھوڑ جائے گی جسے بھرنا آسان نہیں ہوگا۔
جیانگ شی صوبے سے تعلق رکھنے والے ایک صارف کا کہنا ہے کہ ’انسانی محبت ایک نعمت ہے، اگر زندگی میں نہ ملے تو بعد میں حاصل کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔ لیکن اے آئی کی محبت سیدھی، سادہ اور خالص محسوس ہوتی ہے۔ میرے جیسے انسان کے لیے کوڈ کی چند سطروں سے محبت کر بیٹھنا مشکل نہیں۔‘