Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فٹ بال ورلڈ کپ کا فائنل اور تین کہانیاں

حالیہ فٹ بال ورلڈ میں ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی آپ بھی یہ تصویر دیکھ چکے ہوں گے۔  
سنہ 2007 کی یہ تصویر ہے، پلاسٹک کا ایک چھوٹا سا ٹب، 20 سالہ لیونل میسی اور اس کے ہاتھوں میں ایک چند ماہ کا گگلو سا صحت مند بچہ۔ اُس بچے کا نام لامین یمال ہے اور اتوار 19 جولائی کو وہ نیو جرسی کے میدان میں اسی آدمی کے مقابل کھڑا ہو گا جس نے اسے نہلایا تھا۔ زندگی میں پہلی بار۔ 19 سال کا جوش وعزم سےبھرپور لڑکا اور 39 سال کا پختہ کار شہرت یافتہ عالمی ہیرو۔ 
یہ سٹوری اسی ہفتے اردو نیوز پر شائع ہوچکی ہے، اس لیے خاکسار اسے دہرا کر آپ کا وقت ضائع نہیں کرے گا۔ اس فائنل میں مگر دو کہانیاں اور بھی ہیں جن کی کوئی تصویر نہیں کھنچی گئی، اور ایک تیسری، جس کی تصویر ابھی کھینچی جانی باقی ہے۔ 
پہلی کہانی 
پہلی کہانی ایک کلاس روم کی ہے۔
نو برس پہلے، میڈرڈ کے نواح میں لاس روساس کے تربیتی مرکز میں ایک تازہ ریٹائرڈ ارجنٹینی کھلاڑی پرو کوچنگ لائسنس کا کورس کر رہا تھا۔ نام لیونل سکالونی۔ کوئی خاص شہرت نہیں تھی، ڈیپورٹیوو لا کورونیا کا سابق کھلاڑی، بس۔ پڑھانے والوں میں ایک صاحب تھے جو اُس وقت سپین کی جونیئر ٹیموں کے انچارج تھے۔ نام لوئس ڈی لا فوینتے۔
سکالونی نے اُس کورس کے ایک سال کے اندر ارجنٹینا کی قومی ٹیم عارضی طور پر سنبھالی۔ لوگ ہنسے کہ اتنے کم تجربے والا آدمی کیا کرے گا۔ اس نے مگر کمال کر دکھایا۔ 28 سال کی ’خشک سالی‘ ختم کر کے کوپا امریکہ جیتا، پھر 2022 کا ورلڈ کپ، پھر ایک اور کوپا امریکہ۔ ادھر استاد ڈی لافوینتے نے یورو 2024جیت لیا۔ 
دونوں میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا ہو گا کہ لاس روساس کے اُس کمرے کا سبق ایک دن ورلڈ کپ کے فائنل تک گونجے گا۔ اب یہ دونوں ورلڈ کپ فائنل میں ایک دوسرے سے لڑنے والی ٹیموں کے کوچ ہیں۔ سکالونیارجنٹینا کی جبکہ لوئس ڈی لافوینتے سپین کے کوچ ہیں۔ 
انگلینڈ کو سیمی فائنل میں ہرانے کے بعد سکالونی سے پوچھا گیا تو کہنے لگا، وہ میرے استاد تھے، انہوں نے مجھے سب کچھ سکھایا اور اب ہم فائنل میں آمنے سامنے ہیں۔ پھر یہ بھی کہا کہ سب جانتے ہیں میں سپین میں رہتا ہوں، میری بیوی ہسپانوی ہے، میرے بچے مالورکا میں پلے ہیں، مجھے بہت افسوس ہے لیکن اتوار کو میں مسٹر ڈی لا فوینتے کو ہرانے کی کوشش کروں گا۔ 
استاد کا جواب اس سے بھی نرم تھا۔ ڈی لا فوینتے بولے، ’مجھے مختلف کوچنگ کورس پڑھانے کی خوش قسمتی ملی، میں نے شاوی، شابی الونسو اور راؤل جیسوں کو پڑھایا، انہی میں سکالونی بھی تھا۔ ہمارا رشتہ غیر معمولی ہے۔ شروع میں اس پر بہت سوال اٹھے کیونکہ وہ کم تجربے کے ساتھ آیا تھا، مگر اس بیچارے کی ’بدقسمتی‘ یہ ہوئی کہ آتے ہی امریکہ اور دنیا دونوں کا چیمپئن بن گیا۔‘
سکالونی نے سیمی فائنل سے پہلے ایک جملہ اور بھی کہا تھا،’ اگر ہمارا کام ٹھیک نہ ہوا(یعنی میچ ہار گیا) تو میں انہیں فون کروں گا۔ اگر فائنل میں انہی سے مقابلہ ہوا تو نہیں۔ خدا کرے فائنل سے پہلے کوئی فون نہ ہو۔‘
معروف سپورٹس ویب سائٹ اوپٹا نے اس کہانی سے ایک لطیف نکتہ نکالا ہے کہ چونکہ دونوں کوچ اپنے ہی ملک کے باشندے ہیں، اس اتوار کے بعد بھی یہ ریکارڈ سلامت رہے گا کہ ورلڈ کپ آج تک کسی غیر ملکی کوچ نے نہیں جیتا۔ اس ٹورنامنٹ میں انگلینڈ کے پاس جرمن کوچ تھامس ٹوخیل تھا، برازیل کے پاس اطالوی انچیلوتی، امریکہ کے پاس ارجنٹینی پوچیتینو۔ تینوں کلب فٹ بال کے بڑے نام، مگر تینوں گھر جا چکے۔ سکالونی اور ڈی لا فوینتے دونوں نے کبھی کسی بڑے کلب کو نہیں سنبھالا، مگر ان کی ٹیمیں ورلڈ کپ فائنل میں ہیں۔ نتیجہ یہ کہ انٹرنیشنل فٹ بال کوئی اور ہی چیز ہے۔
دوسری کہانی 
دوسری کہانی اس آدمی کی ہے جس کا نام شاید آپ نے نہ سنا ہو۔ 
اتوار کے فائنل کی ساری تشہیر دو ناموں کے گرد ہو رہی ہے، میسی اور یمال، مگر سپین کو یہاں تک لانے والا سب سے بڑا سکورر ان میں سے کوئی نہیں۔ وہ مکیل اویارسابال ہے۔ یہ 29 سال کا ہے۔ پانچ گول کر چکا ہے، ان میں تین ناک آؤٹ مرحلے میں۔ ساری عمر ایک ہی کلب، ریال سوسیداد کے ساتھ گزار دی۔ شہرہ آفاق سپینی کلب بارسلونا سے تعلق نہیں اور نہ ہی ریال میڈرڈ سے اور نہ انگلش پریمیئر لیگ کی چکاچوند۔ فرانس کے خلاف سیمی فائنل کا پہلا گول اسی نے پنالٹی پر کیا۔ اور یہ وہی آدمی ہے جس نے یورو 2024 کے فائنل میں برلن میں انگلینڈ کے خلاف فیصلہ کن گول کیا تھا۔
الجزیرہ کے تجزیہ کار کیون ہینڈ نے لکھا ہے کہ اس کے پاس اپنے کئی ساتھیوں جیسی شہرت نہیں، مگر سچ یہ ہے کہ اس کے گولز کے بغیر سپین اتوار کو کھیل ہی نہ رہا ہوتا۔ ای ایس پی این کا فقرہ اس سے بھی سادہ ہے، ’یہ وہ گمنام سٹرائیکر ہے جو ہمیشہ ڈلیور کر جاتا ہے۔‘ یاہو کے مارک سکوفیلڈ نے اسی نکتے کو آگے بڑھایا ہے۔ ان کے بقول اس ورلڈ کپ پر سپر سٹارز چھائے رہے، ہالینڈ، ایمباپے، بیلنگہم، میسی، مگر سپین کو خطرناک بنانے والی چیز یہ ہے کہ وہ ستاروں کا مجموعہ نہیں، بہترین ٹیم دکھائی دیتی ہے۔
قارئین کرام! ہر ٹیم میں ایسا ایک آدمی ہوتا ہے۔ کیمرے کسی اور کا پیچھا کر رہے ہوتے ہیں اور کام یہ کر رہا ہوتا ہے۔ اگر اتوار کو سپین ٹرافی اٹھاتا ہے تو ہسپانوی فٹ بال کی تاریخ میں اس نام کی حیثیت ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی۔ اگر سپین ہار جاتا ہے تو یہ چپ چاپ سان سباستیان لوٹ جائے گا اور کوئی اسے یاد نہیں رکھے گا۔
تیسری ان لکھی، ان کہی کہانی 
تیسری کہانی وہ ہے جو ابھی لکھی نہیں گئی۔
یہ ورلڈ کپ فائنل ہے ۔اس کے کردار ہمیں معلوم ہیں۔ پس منظر بھی معلوم ہے۔ ہم یہ تک جانتے ہیں کہ دونوں طرف سے کیا چال چلی جائے گی؟ صرف اختتام معلوم نہیں۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کے لیے دنیا اتوار کی شام اور پاکستانی وقت کے مطابق رات بارہ بجے تک جاگے گی۔ 
ٹکراؤ کیسا ہوگا؟
ای ایس پی این نے اس ٹکراؤ کو ایک جملے میں سمیٹا ہے،’یہ مکمل ضبط اور بے قابو جنون کے درمیان مقابلہ ہے۔‘
دی کنورسیشن کا تجزیہ اسی نکتے کو آگے بڑھاتا ہے۔ ’سپین گیند پر اجارہ داری چاہے گا اور صبر سے پاس کھیلتا رہے گا یہاں تک کہ دراڑ پڑے، جبکہ ارجنٹینا تنگ ہو کر دفاع کرنے اور پھر تیزی سے وار کرنے میں آسانی محسوس کرتا ہے، عموماً میسی کے ذریعے۔‘ بڑے تجزیہ نگاروں کی رائے یہ ہے کہ جو ٹیم مڈفیلڈ میں رفتار طے کرے گی، ٹرافی کا ایک ہاتھ اسی کا ہو گا۔
سپین کا گیم پلان 
پہلا کردار سپین ہے۔ اس کا پریس اوپر سے شروع ہوتا ہے، لائنیں تنگ رہتی ہیں، مخالف کو سانس لینے کی جگہ نہیں ملتی۔ روڈری نے ایک ورلڈ کپ میں 655 کامیاب پاسز کا ریکارڈ بنا دیا ہے، اور مزے کی بات یہ ہے کہ اسی نے 34بار حریف سے گیند بھی چھینی، جو ٹورنامنٹ میں پانچواں بڑا ہندسہ ہے۔ پیدری کے 202 پاس فائنل تھرڈ میں ختم ہوئے، کسی مڈفیلڈر کے اتنے نہیں، اور اس نے فائنل تھرڈ میں دس بار گیند چھینی جو سب سے زیادہ ہے۔ (فائنل تھرڈ سے مراد ہے گراونڈ کا تیسرا حصہ اور مخالف ٹیم کی ڈی یا باکس یا اس کے ایج تک۔)ادھر فابیان روئیز کا حال یہ ہے کہ وہ سپین کے لیے اپنے 49 میچوں میں سے ایک بھی نہیں ہارا۔
نتیجہ کیا نکلا۔ سپین نے سیمی فائنل میں ایمباپے، ڈیمبیلے اور اولیسے پر مشتمل فرانسیسی حملے کو محض صفر اعشاریہ 31 ایکسپیکٹڈ گولز پر روک دیا، جو 1994 کے بعد کسی ورلڈ کپ سیمی فائنل میں کم ترین ہے۔ سپین چھ کلین شیٹس رکھ چکا ہے، ایسا پہلے کوئی ٹیم نہیں کر سکی۔ یاد رہے کہ کلین شیٹ سے مراد یہ ہے کہ سپین کے خلاف ان میچز میں کوئی گول نہیں ہوا۔ 
گول کیپر اونائی سیمون بیلجیئم کے خلاف گول کھانے سے پہلے 649 منٹ تک ورلڈ کپ میں گول کھائے بغیر رہا۔ نیٹ سلور کے ماڈل کا نکتہ یہ ہے کہ فرانس کو ہرانے کے بعد سپین کا گول فرق تیرہ ایک ہو چکا ہے، اور اس کی آخری کسی بھی قسم کی شکست مارچ د2024 میں کولمبیا کے خلاف ایک دوستانہ میچ میں تھی۔ کسی مقابلے کے میچ میں آخری شکست اس سے بھی پرانی ہے، مارچ 2023 میں سکاٹ لینڈ کے ہاتھوں۔ ٹیم 37 میچوں سے ناقابل شکست ہے۔
ارجنٹینا کا گیم پلان 
فائنل میچ کی اس کہانی کا دوسرا کردار ارجنٹینا ہے، جو اس کے بالکل الٹ ہے۔ پیچھے آ کر تنگ ہو جاتا ہے، مار کھاتا ہے، وقت گزارتا ہے، اور پھر ایک لمحے میں سب کچھ الٹ دیتا ہے۔ مصر کے خلاف 12 منٹ باقی تھے، دو صفر سے پیچھے۔ اوپٹا کے سپر کمپیوٹر نے مقررہ وقت میں جیت کا امکان صفر اعشاریہ چھ فیصد بتایا۔ ارجنٹینا مگر تین گول کر کے میچ لے گیا۔ انگلینڈ کے خلاف 85 ویں منٹ تک پیچھے تھے، جو ورلڈ کپ سیمی فائنل کی تاریخ میں کسی جیتنے والی ٹیم کا سب سے تاخیر سے کیا گیا جوابی وار ہے۔ اور دونوں گول کس نے بنوائے؟ اسی 39 سالہ آدمی نے۔ میسی آٹھ گول کر چکا ہے، کلوزے کا ریکارڈ توڑ چکا ہے، اور 12 اسسٹ کے ساتھ ورلڈ کپ کی آل ٹائم فہرست میں سب سے اوپر ہے۔
مڈفیلڈ میں ارجنٹینا کے پاس بھی نام ہیں۔ اوپٹا کے مطابق میک الیسٹر شاید ان سب میں بہترین رہا، 33 ڈوئل جیتے اور دس انٹرسیپشن کیے۔ اینزو فرنانڈس انگلینڈ کے خلاف جیسے جاگ اٹھا، صرف گول ہی نہیں کیا بلکہ میدان کے ہر کھلاڑی سے زیادہ 104 ٹچ، 82 کامیاب پاس اور 38 فائنل تھرڈ پاس کھیلے۔
دفاع پر رائے منقسم ہے۔ سابق انگلش کھلاڑی گیری نیویل نے اوورلیپ پوڈکاسٹ پر لیساندرو مارٹینیز اور کرسٹیان رومیرو کی جوڑی کو دنیا کی بہترین بدترین سینٹر ہاف جوڑی قرار دیا۔ ان کے بقول،’ یہ دونوں مل کر ہر میچ میں ایک گول دے آتے ہیں، مگر ساتھ ہی گول بھی کرتے ہیں، ہیڈر بھی لگاتے ہیں، ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ کبھی حیران کن، کبھی مضحکہ خیز۔’ ویسے رومیرو نے اس جلے بھنے تبصرے کو بے تکا قرار دیا۔
ممکنہ نقشہ کیا ہوگا؟ 
الجزیرہ کا تجزیہ کہتا ہے کہ انگلینڈ کو گیند رکھنے کے لیے نہیں جانا جاتا، مگر سپین کی خاصیت ہی گیند پر کنٹرول رکھنا ہے۔ سپین وہی کرے گا جو انگلینڈ نے گول ہونے تک کیا، یعنی مڈفیلڈ پر قبضہ اور ارجنٹینا کو تھکا کر میسی کا خطرہ محدود کرنا۔ تاہم اگر سپین کو کسی بھی وقت برتری مل جائے تو ڈی لا فوینتے سے یہ توقع مت رکھیے کہ وہ اپنی پوری فوج باکس میں کھڑی کر دے گا، جیسا ٹوخیل نے اٹلانٹا میں کیا اور بھگتا۔ روڈری اور روئیز کو شروع سے آخر تک میچ کنٹرول کرنے کا حکم ہو گا۔
سپورٹنگ نیوز کے کائل بون اس سے بھی زیادہ دو ٹوک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سپین نے فرانس کی سب سے بڑی کمزوری، یعنی مڈفیلڈ برتری کا فقدان، سے فائدہ اٹھایا اور یہی کمزوری ارجنٹینا میں بھی ہے۔ کیپ ورڈی اور مصر جیسی ٹیمیں بھی ارجنٹینا کی مڈ فیلڈ میں شگاف کر چکی ہیں۔ مزید یہ کہ ارجنٹینا کے پاس حملے میں چوڑائی سرے سے ہے ہی نہیں۔ ارجنٹائنی کوچ سکالونی نے انگلینڈ کے خلاف جولیانو سیمیونے سے وڈتھ یعنی چوڑائی لینے کی کوشش کی، اور نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے پانچ فاؤل کیے، ایک بار آف سائیڈ ہوا، دو کراس ضائع کیے اور فائنل تھرڈ میں صرف ایک پاس دیا۔ انگلینڈ نے میسی کو گیند سے دور رکھنے کا جو نسخہ بنایا، سپین اسے آسانی سے دہرا سکتا ہے۔ سپینس اور گورڈن اتنے اوپر رہے کہ میسی کو گیند لینے نیچے آنا پڑا۔ یہی اب سپین کرےگا۔
ارجنٹینا کے پاس بھی جواب ہے۔ انہی بون صاحب کا اعتراف ہے کہ ارجنٹینا فرانس کے مقابلے میں کہیں بہتر اور زیادہ فعال پریس کرتا ہے، اور یہ سپین کے مڈفیلڈ کو اُس سے کہیں زیادہ تنگ کر سکتا ہے جتنا سیمی فائنل میں ہوا۔ شرط صرف یہ ہے کہ فاؤل سے آگے بھی کچھ ہو۔
ایک اور راستہ ہوا میں ہے۔ ارجنٹینا اپنے کھلاڑیوں کے چھوٹے قد کے باوجود ہوائی گیندوں پر مسلسل خطرہ رہا ہے۔ میک الیسٹر اور لاؤتارو مارٹینز بار بار ثابت کر چکے ہیں کہ قد کی کمی انہیں باکس کے اندر کراس تک پہنچنے سے نہیں روکتی۔ کوبارسی اور لاپورٹے کو یہاں جاگنا پڑے گا، اور دراز قامت روڈری بھی کراسوں سے نمٹنے میں سینٹر بیکس کی مدد کر سکتا ہے۔ بائیں ونگر بائینا کا کام صرف حملہ نہیں، پیچھے آ کر میسی کو دائیں کنارے یا اندرونی دائیں چینل سے کراس دینے سے روکنا بھی ہو گا۔
تین انفرادی مقابلے اور کوچ کا درد سر
فیفا نے میچ کے تین فیصلہ کن انفرادی مقابلے گنوائے ہیں۔ میسی بمقابلہ لاپورٹے، روڈری بمقابلہ اینزو فرنانڈس، اور یامال بمقابلہ تاگلیافیکو۔ تینوں جوڑیوں میں ایک آدمی وہ ہے جو کھیل بناتا ہے اور ایک وہ جسے کھیل روکنا ہے۔ ان جوڑیوں کے مقابلے پر ہی میچ کے نتیجے کا دارومدار ہے۔ 
دونوں کوچوں کے پاس ٹیم سلیکشن کے حوالے سے ایک ایک سر درد بھی ہے۔ سپین کی الجھن مڈفیلڈ میں ہے، روئیز یا پیدری۔ ارجنٹینا کا فیصلہ آگے ہے، الوارس یا لاؤتارو مارٹینز۔ لاؤتارو کو راؤنڈ آف سولہ میں فرسٹ الیون سے نکالا گیا، اور اس کے بعد اس نے بینچ سے آ کر ارجنٹینا کے تینوں میچوں میں گول یا اسسٹ کیا۔ الوارس سات میچوں میں صرف ایک گول کر سکا۔ یعنی سکالونی کو گیند کے بغیر استحکام اور گیند کے ساتھ گول کے خطرے میں سے ایک چننا ہے۔
باقی رہے وہ لوگ جو اختتام پہلے سے لکھ چکے ہیں، تو ان کی بھی سن لیجیے۔ 
اوپٹا کا کمپیوٹرائزڈ حساب کتاب سپین کو56 فیصد اور ارجنٹینا کو 44 فیصد دیتی ہے۔ ای ایس پی این پر سٹیو میک مینا مین نے کہا، میں مختصر رہوں گا، سپین تین ایک۔ فرینک لیبوف اس سے بھی آگے نکل گئے۔ ان کے الفاظ تھے کہ معذرت، مگر مجھے ایک بہت بڑا سکور بتانا پڑے گا، سپین چار صفر۔ وضاحت یہ دی کہ ارجنٹینا کا احترام ہے اور تین دو بھی ممکن ہے، مگر اگر سپین نے پہلا گول کر دیا تو ارجنٹینا کو آگے آنا پڑے گا، اور ہسپانوی ٹیم کے معیار کو دیکھتے ہوئے اسے سزا ملے گی۔ سپورٹنگ نیوز کا فیصلہ سپین دو صفر۔ الجزیرہ کے تجزیے کا عنوان ہی یہ ہے کہ میسی کے ہوتے ہوئے بھی ارجنٹینا انڈر ڈاگ ہے۔
خاکسار کو مگر یہ سب پڑھ کر ایک بات یاد آتی ہے۔ ارجنٹینا اس ٹورنامنٹ کے کسی ناک آؤٹ میچ میں نوے ویں منٹ پر آگے نہیں تھا۔ اور پھر بھی وہ فائنل میں ہے۔ اوپٹا نے خود لکھا ہے کہ یہ دونوں ٹیمیں مزاج کے مونسٹریا عفریت ہیں، دونوں اُس وقت بھی جیتنے کا راستہ نکال لیتی ہیں جب کھیل ان کا نہ ہو۔ سپین بھی فرانس سے پہلے پرتگال اور بیلجیئم کے خلاف مکیل مرینو کے دو تاخیری گولوں کا مرہونِ منت رہا ہے۔ چنانچہ آخری لمحوں کے ڈرامے کو مسترد کرنا ممکن نہیں۔ 
کاغذ پر ارجنٹینا کئی بار ہار چکا ہے، میدان میں ایک بار نہیں ہارا۔ فٹ بال میں ایک درجہ آتا ہے جہاں اعداد و شمار ختم ہو جاتے ہیں اور مزاج شروع ہوتا ہے۔ اسی لیے تو کہانی ابھی لکھی نہیں گئی۔
آخری بات
سکالونی سے جب انگلینڈ والے میچ کے بعد سپین کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے ایک جملہ کہا جو مجھے دیر تک یاد رہا۔ کہنے لگا، مجھے امید ہے سپین خوش ہو گا کہ ارجنٹینا فائنل میں ہے، کیونکہ لیو میسی نے اس ملک کو بہت خوشیاں دی ہیں۔
تین کہانیاں۔ پہلی دو کے صفحے پلٹے جا چکے۔ ایک استاد اور شاگرد کی جو نو سال پہلے میڈرڈ کے ایک کلاس روم میں شروع ہوئی، ایک اُس گمنام لڑکے کی جس نے سان سباستیان سے نکل کر چپ چاپ سپین کو فائنل تک پہنچا دیا۔ 
تیسری کا آخری صفحہ ابھی سادہ ہے۔ اس پر کیا لکھا جائے گا، یہ نہ اوپٹا جانتا ہے، نہ کوئی اور ویب سائٹ ،سچ پوچھیے تو نہ سکالونی جانتا ہے نہ ڈی لا فوینتے۔
19 سال پہلے والی تصویر آپ دیکھ چکے ہیں۔ اتوار کی رات ایک اور تصویر کھنچے گی، جس میں دونوں ایک ہی میدان میں ہوں گے مگر ٹرافی صرف ایک کے ہاتھ میں۔ وہی تصویر ہے جس کے لیے ہم سب جاگیں گے۔

شیئر: