Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی موسمیات کے سات عشرے: روایتی مشاہدات سے ڈیجیٹل جدت تک کا سفر

سفر کا آغاز پچاس کی دہائی میں ہوا جب موسم کے چارٹ ہاتھوں سے بنائے جاتے تھے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں موسمیاتی پیش گوئی کے شعبے میں گزشتہ تقریباً ستر برس کے دوران غیر معمولی تبدیلی آئی ہے اور یہ عام مشاہدوں کے مراکز اور کاغذوں پر لکھی موسم کی خبروں سے ترقی کرتے کرتے ایک ڈیجیٹل ماحولی نظام تک پہنچ چکا ہے۔
سعودی وژن 2030 کے عین مطابق اس شعبے میں رفتہ رفتہ جدت لائی گئی ہے اور اب موسمیاتی پیشگوئی کے مراکز میں مصنوعی ذہانت، عددی ماڈل، سیٹیلائٹس اور جدید کمپیوٹروں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس شعبے کے سفر کا آغاز پچاس کی دہائی میں ہوا جب سادہ آلات اور بڑے ہوائی اڈوں سے، موسم کے چارٹ ہاتھوں سے بنائے جاتے تھے۔ تاہم اس سیکٹر میں مرحلہ وار ادارہ جاتی ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔
سنہ 1950 میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف میٹیئرولوجی سے ہوتے ہوتے یہ سیکٹر سنہ 1981 میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف میٹیئرولوجی اینڈ اینوائرمینٹل پروٹیکشن تک پہنچ گیا۔ ہر دور میں مشاہداتی نیٹ ورکس کو وسعت دی گئی، اس میں جدید آلات نصب کیے گئے اور عالمی تعاون کو بڑھایا گیا۔
ادارے کے اندر سلسلہ وار بڑی تبدیلوں کے نتیجے میں، سنہ 2019 میں میٹیئرولوجی کا قومی مرکز (نیشنل سینٹر فار میٹیئرولوجی) قائم کیا گیا جسے اس شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلیاں متعارف کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔یہ مرکز اب جدید اور خودکار مشاہداتی سٹیشنز، موسمیاتی ریڈاروں اور بحری سٹیشنوں کا ایک نیٹ ورک چلاتا ہے۔
اس مقصد کے لیے یہ مرکز، سُپر کمپیوٹرز پر عالمی سیٹیلائٹ ڈیٹا اور ہائی ریزولیوشن کے عددی ماڈل کی مدد سے نہ صرف موسم کی بہت حد تک درست پیشگوئی کرتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر موسم سے متعلق فوری وارننگز اور الرٹ بھی جاری کرتا ہے۔

میٹیئرولوجی کا قومی مرکز مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی پیشگوئی کے ان ماڈلز پر کام کر رہا ہے جن میں مشینیں، بار بار کے تجربے کی بنیاد پر انتہائی درست پیش گوئی کر سکیں۔
کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام، اس شعبے کی ایک اہم ترین پیش رفت ہے جس میں میٹیئرولوجی، ہوا بازی اور مصنوعی ذہانت کو مشترکہ طور پر استعمال کر کے بارش اور پانی کے وسائل میں اضافہ کیا جاتا ہے۔
سائنسی علوم کو استعمال کرتے ہوئے، موزوں بادلوں سے بارش برسانے کے  لیے، اس پروگرام کے تحت ریڈارز، سیٹیلائٹس اور خصوصی طیارے کو استعمال کیا جاتا ہے اور کلاؤڈ سیڈنگ کی جاتی ہے۔

کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جیسی بڑی درسگاہیں، مصنوعی ذہانت کے اطلاق، موسمیاتی نقشوں اور قبل از وقت وارننگ کے نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے موسمیاتی تحقیق میں مل کر کام کر رہی ہیں۔
سعودی عرب میں میٹیئرولوجی صرف موسمیاتی پیشگوئی تک محدود نہیں رہی بلکہ ترقی کرتے کرتے ہوا بازی، حج اور عمرے کے انتظامات، شہری دفاع، زراعت، توانائی اور اہم قومی منصوبوں کے لیے معاونت کے ایک بڑے نظام کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ یہ ترقی موسمیاتی اور اس سے متعلق علوم کے علاقائی مرکز کے طور پر، مملکت کی حیثیت کو مضبوط کر رہی ہے۔

 

شیئر: