کراچی میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل ہونے نوجوان ڈاکٹر آکاش کے کیس میں گرفتار تین ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کو بدھ کی صبح ساتھیوں کی گرفتاری اور اسلحہ برآمد کرنے کے لیے گلشن معمار لے جایا گیا تھا، جہاں ان کے ساتھیوں نے پولیس پر فائرنگ کردی اور جوابی کارروائی میں گرفتار ملزمان بھی زخمی ہوئے اور ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔
سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان میں سریش کمار، رام چند اور انیل کمار شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ان کو ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے تفتیش کی جا رہی تھی۔
مزید پڑھیں
-
کراچی میں ڈکیتی کے دوران قتل کیے جانے والے ڈاکٹر آکاش کون تھے؟Node ID: 906388
پولیس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فرار ہونے والے دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
ڈاکٹر آکاش کا قتل، جس نے شہر بھر کو افسردہ کیا
چند روز قبل کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں پیش آنے والے اس واقعے نے پورے شہر کو افسردہ کردیا تھا۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر آکاش اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھے جب مسلح افراد نے انہیں لوٹنے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کردی، جس سے ڈاکٹر آکاش شدید زخمی ہو گئے۔
انہیں فوری طور پر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
ان کی موت کی خبر سامنے آتے ہی نہ صرف طبی حلقوں بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں میں بھی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
واقعے کے بعد کراچی میں ایک مرتبہ پھر سٹریٹ کرائمز، شہریوں کے تحفظ اور پولیس کی کارکردگی پر بحث شروع ہو گئی۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر شہر کے مصروف اور حساس علاقوں میں بھی لوگ محفوظ نہیں تو عام شہری کس حد تک خود کو محفوظ سمجھ سکتے ہیں۔

احتجاج، دباؤ اور پولیس کی کارروائی
ڈاکٹر آکاش کے قتل کے بعد ان کے اہل خانہ، ساتھی ڈاکٹروں، ہندو برادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے کراچی کے علاقے تین تلوار پر احتجاج کیا۔
مظاہرین نے میت سڑک پر رکھ کر قاتلوں کی فوری گرفتاری اور شہر میں بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز کے خاتمے کا مطالبہ کیا جس سے
کئی گھنٹوں تک ٹریفک متاثر رہی۔
بعدازاں کراچی کے میئر مرتضی وہاب اور دیگر حکام نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ ملزمان کو جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔
چند روز قبل ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تین ملزمان کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔
پولیس کے مطابق دوران تفتیش ملزمان سے اہم معلومات حاصل ہوئیں، جن کی بنیاد پر ان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری تھیں۔

ڈاکٹر آکاش کون تھے؟
28 سالہ ڈاکٹر آکاش جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں بطور ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کے ساتھی انہیں ایک باصلاحیت، خوش اخلاق اور انتہائی محنتی نوجوان ڈاکٹر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ اپنے مریضوں کے ساتھ نہایت شفقت سے پیش آتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ مستقبل میں سرجری کے شعبے کی تعلیم حاصل کرکے ایک کامیاب سرجن بنیں۔
ان کا کیریئر ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا مگر ان کے اساتذہ اور ساتھیوں کو یقین تھا کہ وہ مستقبل میں طب کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کریں گے۔
ڈاکٹر آکاش کا تعلق سندھ کے ایک معروف ہندو کاروباری خاندان سے تھا۔
ان کا آبائی تعلق رانی پور کے قریب واقع جھنڈکو سے تھا، جبکہ ان کے خاندان کے افراد سندھ کے دیگر شہروں میں بھی آباد ہیں۔
ان کے والد شری چند مل نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آکاش خاندان کی امیدوں کا مرکز تھا وہ اپنی محنت سے ایک کامیاب ڈاکٹر بننا چاہتا تھا، مگر ایک لمحے میں سب کچھ ختم ہو گیا۔‘













