پاکستان میں ایک بار پھر مقبول ویڈیو شیئرنگ ایپ ’ٹک ٹاک‘ کی لائیو سٹریمنگ سروس پر پابندی سے متعلق افواہیں اور خبریں گردش کر رہی ہیں۔
سوشل میڈیا اور بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک میں ٹک ٹاک کی لائیو سٹریمنگ سروس بند کر دی گئی ہے، جبکہ کچھ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اس فیچر کو بند کرنے کا فیصلہ کرنے والی ہے۔
تاہم یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر ٹک ٹاک کی لائیو سٹریمنگ پاکستان میں متنازع کیوں ہے اور کیا حکومت اس کو واقعی بند کر سکتی ہے؟
’پاکستان میں ٹک ٹاک کا لائیو فیچر فعال ہی نہیں‘
واضح رہے کہ ٹک ٹاک لائیو سٹریمنگ کی سہولت فی الوقت پاکستان کے مقامی موبائل نمبرز پر دستیاب ہی نہیں ہے۔
مزید پڑھیں
-
’ٹک ٹاکر آگئی‘: اسلام آباد کے مسائل اجاگر کرنے والی طالبہNode ID: 906591
پاکستان میں لائیو دکھائی دینے والے اکائونٹس بیرونِ ملک خاص کر خلیجی ملک (دبئی) اور برطانیہ کے سم کارڈز یا پھر وی پی این کی مدد سے اپنی لوکیشن تبدیل کر کے لائیو آتے ہیں۔
اسی تکنیکی پیچیدگی کے باعث حکومت اس وقت لائیو سٹریمنگ پر براہِ راست اور مکمل پابندی عائد کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں ہے۔
دوسری جانب پی ٹی اے کے سینیئر حکام کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان اور ٹک ٹاک انتظامیہ کے درمیان اس لائیو فیچر کی رسائی کو محدود کرنے کے حوالے سے بات چیت جاری رہتی ہے، مگر فی الحال اس معاملے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
لائیو سٹریمنگ پر ٹک ٹاک کا مؤقف؟
اُردو نیوز نے جب اس حوالے سے پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے ٹک ٹاک انتظامیہ سے ان کا مؤقف مانگا، تو ’اردو نیوز‘ کو موصول ہونے والی ای میل میں بتایا گیا کہ ’ٹک ٹاک لائیو فی الحال پاکستان میں دستیاب نہیں ہے اور جو بھی صارفین لائیو تک رسائی حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں، وہ غیر رسمی طریقوں کے ذریعے ایسا کر رہے ہیں۔‘
ٹک ٹاک کی جانب سے بھیجی گئی ای میل میں مزید کہا گیا کہ ’پلیٹ فارم کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور ٹک ٹاک اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے مواد کو فعال انداز میں ہٹانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
ٹک ٹاک لائیو سٹریمنگ کا فیچر ہے کیا؟
ٹک ٹاک لائیو سٹریمنگ بنیادی طور پر موبائل ایپ کا ایک ایسا فیچر ہے جو کری ایٹرز اور صارفین کو پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیوز کے برعکس ’ریئل ٹائم‘ میں ناظرین کے سامنے آنے اور گفتگو کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

اس فیچر کا سب سے اہم پہلو ’لائیو گفٹنگ‘ اور ’پی کے میچز‘ ہیں، جس میں دو کری ایٹرز بیک وقت لائیو آ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ اس دوران ناظرین ایپ سے ورچوئل تحائف خرید کر اپنے پسندیدہ کری ایٹر کو بھیجتے ہیں، جو بعد میں رقم (ڈالرز) میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
دنیا بھر میں یہ فیچر انٹرایکٹو مواد، برانڈ پروموشن اور ای کامرس (لائیو شاپنگ) کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ تاہم، پاکستان میں لائیو سٹریمنگ کی باضابطہ عدم دستیابی کے باعث صارفین غیر رسمی طریقوں سے اس سہولت کا استعمال کر رہے ہیں، جو ایک طرف آن لائن آمدن کا ذریعہ بنا ہوا ہے تو دوسری جانب مواد پر کنٹرول نہ ہونے اور مالیاتی عدم شفافیت کے باعث مسلسل تنازعات کی زد میں ہے۔
’لائیو سٹریمنگ پر اٹھنے والے سوالات‘
پاکستان میں ٹک ٹاک کا لائیو سٹریمنگ فیچر طویل عرصے سے متنازع چلا آ رہا ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ آن لائن مونیٹائزیشن کا طریقۂ کار اور مواد پر کنٹرول کا نہ ہونا ہے۔
لائیو سٹریمنگ کے دوران ’پی کے میچز‘ اور ’لائیو گفٹنگ‘ کے نام پر صارفین ایک دوسرے سے نقد رقم اور ورچوئل تحائف حاصل کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق فوری مقبولیت حاصل کرنے یا مالی مفاد کے لیے اکثر کری ایٹرز کی جانب سے غیر اخلاقی، نازیبا اور نجی زندگی کی حدود پار کرنے والی حرکتیں کی جاتی ہیں۔
ان کے مطابق، لائیو ویڈیوز چوںکہ ریئل ٹائم میں نشر ہو رہی ہوتی ہیں تو اس لیے انہیں بروقت فلٹر یا سنسر کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس کے باعث یہ مقامی اقدار اور ریگولیٹری قوانین سے براہِ راست تصادم کا باعث بن جاتی ہیں۔
دوسری اہم وجہ غیر قانونی یا غیر رسمی طریقوں کا استعمال ہے۔ ٹک ٹاک کی پالیسی کے تحت پاکستان میں چونکہ لائیو کا فیچر باضابطہ طور پر آن نہیں ہے، اس لیے بیشتر کری ایٹرز بیرونِ ملک کی سمز، وی پی این یا غیر ملکی ایجنسیوں کا سہارا لے کر لائیو آتے ہیں۔

اس سے نہ صرف مالیاتی شفافیت اور منی لانڈرنگ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ حکومت کے لیے ٹیکس اور مانیٹرنگ کے حوالے سے بھی قانونی خدشات جنم لیتے ہیں۔
’قابل اعتراض مواد، گفٹس اور بلیک منی‘
ہم نے اس معاملے پر مزید گفتگو کرنے کے لیے سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ڈیجیٹل میڈیا ایکسیپرٹ عبدالحئی صدیقی سے رابطہ کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ٹک ٹاک پر کانٹینٹ کری ایٹرز مختلف موضوعات پر کام کر رہے ہیں۔ کوئی ٹرینڈنگ مسائل پر بات کرتا ہے تو کوئی ٹیکنالوجی پر مواد بناتا ہے، اور جب ٹک ٹاکرز زیادہ مشہور ہو جاتے ہیں تو وہ لائیو سٹریمنگ بھی شروع کر دیتے ہیں۔‘
انہوں نے وضاحت کی کہ ’وہ لوگ جو لائیو سٹریمنگ کرتے ہیں، وہ پاکستانی سمز کی بجائے دبئی یا برطانیہ کے سم کارڈز استعمال کرتے ہیں۔‘
عبدالحئی صدیقی نے لائیو سٹریمنگ سے جڑے خدشات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انفلوئنسرز ایک تو قابلِ اعتراض مواد بناتے ہیں اور دوسرا نازیبا حرکتیں کرتے ہیں۔‘
اُنہوں نے مزید بتایا کہ ’اس کے ساتھ ساتھ اس لائیو سٹریمنگ سے منی لانڈرنگ سمیت بہت سے سنگین خدشات بھی منسلک ہیں۔ مزید برآں، ان ٹک ٹاکرز کو بعد میں دبئی یا کسی اور بیرونِ ملک بلایا جاتا ہے جہاں ان کے لیے خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اور قیمتی تحائف دیے جاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ان تمام وجوہات کی بنا پر یہ لائیو سٹریمنگ یا تو متنازع رہی ہے یا اس پر مسلسل سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
عبدالحئی صدیقی نے یہ بھی واضح کیا کہ’ اس لائیو سٹریمنگ پر مکمل پابندی لگانا ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہ پہلے سے ہی پاکستانی نیٹ ورکس کی بجائے بیرونِ ملک کی سموں پر چل رہی ہے۔ ‘
ماضی میں بھی حکومتِ پاکستان ایسی کوششیں کرتی رہی ہے، لیکن یہ سروس بند ہونے کے بعد بھی متبادل ذرائع سے دوبارہ بحال ہو جاتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ٹک ٹاک کمیونٹی بھی ان انفلوئنسرز کو بہت زیادہ سراہتی ہے، خواہ ان کا مواد کسی بھی نوعیت کا ہو۔‘













