مرار جی ڈیسائی اور ہمارے حکمران! اجمل جامی کا کالم
مرار جی ڈیسائی اور ہمارے حکمران! اجمل جامی کا کالم
جمعرات 23 جولائی 2026 6:30
مرار جی ڈیسائی انڈیا کے پہلے نان کانگریس وزیراعظم تھے (فوٹو: دی پرنٹ)
مارک ٹلی بی بی سی کا مشہور مگر متنازع نامہ نگار گزرا ہے۔ دہائیاں انڈیا کے نام کیں۔ اگلے روز اس کا ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کو ملا۔
یہ انٹرویو اس وقت کے انڈین وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی کا تھا۔ غالباً 1978 یا 79 کے دنوں کا۔ 1947 سے 1978 تک 30 برس کے کانگریسی راج کا خاتمہ کر کے یہ پہلے نان کانگرسی انڈین وزیراعظم تھے۔
جنتا پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اکٹھ کے نتیجے میں دو تین برس وزیر اعظم رہے۔ مارک ٹلی ان سے سیاستدانوں کے تضادات اور عوام کے ساتھ فاصلوں پر مبنی سوال پوچھتے ہیں تو جواب میں ڈیسائی کہتے ہیں کہ وہ سیاست میں آئے ہی اسی لیے تاکہ اخلاقی پیمانے رائج کر سکیں اور ان کا پرچار کر سکیں۔
مارک ٹلی فوراً تنقید کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ آپ تو ابھی چند طالب علموں کو آٹو گراف دیتے ہوئے برہم سے دکھ رہے تھے، یہ کیسا رویہ ہے؟
یہاں ڈیسائی تاریخی فقرے ادا کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے طالب علموں کو مشروط آٹو گراف دیا، پہلے انہیں یہ سمجھایا کہ وہ وعدہ کریں کہ آئندہ انڈیا کا بنا کپڑا یعنی کھدر ہی پہنیں گے کیونکہ ہم ایک غریب دیش ہیں، باہر سے کپڑا منگوا کر پہننا افورڈ نہیں کر سکتے لہذا انڈین کھڈیوں کا بنا کپڑا ہی پہنیں گے، طالب علموں نے جب رضا مندی کا اظہار کیا تو پھر آٹو گراف دیا۔
ڈیسائی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہی تو مقصد ہے سیاست کا، یہی تو وہ تربیت ہے جو گاندھی نے اور ہمارے بڑوں نے کی اور مجھے بھلا سیاست سے کیا چاہیے اور اگر میں اپنے قول و فعل اور پہناوے میں اس اخلاقی پیمانے کا پرچار نہ کر سکوں تو مجھے سیاست میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔‘
یہ مختصر کلپ دیکھا تو یقین جانیں خاکسار چند لمحوں کے لیے دم بخود ہو کر رہ گیا، ڈیسائی کا حلیہ دیکھا، کھڈی کا بنا کھدر، واسکوٹ، سر پر کپڑے کی بنی ٹوپی۔
’پاکستان میں دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو گیا ہے‘: فائل فوٹو: اے ایف پی
عوامی سا حلیہ، عوامی سی باتیں۔ کوئی جاہ و جلال نہیں، کوئی امپورٹڈ پنٹ کوٹ ٹائی نہیں۔ باتیں اور حلیہ ایسا کہ عوامی رنگ نمایاں اور پھر انٹرویو میں کہی بات نے ہلا کر رکھ دیا۔
ایک لمحے کے لیے سوچ ساکت ہو گئی۔ ڈیسائی کے بزرگ اگر گاندھی جی اور دیگر ہیں جن سے سیکھ کر وہ اس عمل کا پرچار کر رہے تھے تو ہمارے ہاں اہل پاکستان کے بزرگان کون ہیں؟
ہمارے تو مذہبی اور سماجی اساس کے پیمانے ان کی نسبت کئی گنا باوقار، اعلیٰ اور ارفع ہیں۔
سیرت نبی سے بڑی رہنمائی بھلا اور کہاں سے دستیاب ہو گی؟ لیکن! گنوا دی ہم نے میراث جو اسلاف سے پائی تھی۔
اور پھر ہم نے خود سے کون سا ایسا چلن کر دکھایا جو عوام میں مقبول ہوا ہو؟ سوائے بھٹو شہید یا کسی حد تک عمران خان کے مقبول عوامی رنگ، اور تھا ہی کیا ہمارے ہاں راہنماؤں کے جلووں میں؟
امریکہ سے اب 10 ارب ڈالر مانگے جا رہے ہیں، چین اور سعودی عرب کے پہلے ہی سے ہم احسان مند ہیں کہ خزانے کا بھرم رکھنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
پیٹرول کی قیمتیں روزانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
گندم کا کاشتک ار رُل گیا، آلو اگانے والا ہلکان ہو گیا، پانی، بتی، گیس اور دو وقت کی روٹی مشکل ہوئی پڑی ہے۔
آئے روز پٹرول ڈیزل کی قیمتیں مہنگی ہو رہی ہیں۔ ایسے میں ہمارے راہنماؤں کی آنیاں جانیاں، اٹھنا بیٹھنا، رنگ برنگے پہناوے، دیدہ زیب اور مہنگے برینڈز کی نمائش بھلا کس کام کی ہے؟
کیا ان جلووں کے ساتھ ہمارے عظیم راہنما واقعی عوام کے ساتھ جڑ سکتے ہیں؟ کیا طلبا و طالبات سے مخاطب حکمران واقعی سمجھتے ہیں کہ وہ عوام کے دلوں میں گھر کر رہے ہیں؟ کیا ان گنت ترقیاتی منصوبوں پر تصاویر اور ناموں کی تختیاں سجا کر عوام جھولی اٹھا کر دعائیں دیتے ہوں گے؟
بھونڈی نمائش اور بے ہنگم ٹک ٹاک ویڈیوز اور ان گنت ٹی وی کوریج حکمران اشرافیہ کو مقبول کرنے میں کامیاب ہوئی؟
بیانیہ مگر کون سا؟ صرف اپوزیشن کو رگڑنے کا بیانیہ تو اب پرانا ہو چکا، چار برس سے زائد بیت چکے، پانچ بجٹ آ چکے، عوام کو کیا ملا؟ کون سا نیا بیانیہ دیا گیا؟ گورننس کا؟ معاشی ترقی کا؟ روپے کی بہتری کا؟ روزگار میں اضافے کا؟ دو وقت کی سستی روٹی کا؟ مستقبل محفوظ بنانے کی گارنٹی کا؟ یا عوام محض آپ کی آنیاں جانیاں اور رنگ برنگے پہناوے دیکھ کر ہی صدقے واری جاویں؟
’اب امریکہ سے اب 10 ارب ڈالر مانگے جا رہے ہیں‘ (فوٹو: اے ایف پی)
نہیں صاحب! ایسا نہیں ہوتا۔ غریب ملک کے حکمرانوں کے یہ چلن نہیں ہوا کرتے۔ عوام آپ سے روٹھ رہے ہیں، شدت سے روٹھ رہے ہیں۔ معلوم نہیں کہ ان راہنماؤں کے بے پناہ سیاسی تجربے کے باوجود ان کے ابلاغی پہلو کون ارسطو دیکھتے ہیں۔